مقبوضہ کشمیر: 40 ہزار سے زائد خالی سرکاری آسامیوں پر مقامی کنٹریکٹ ملازمین کا احتجاج

منگل 22 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مقبوضہ جموں و کشمیر میں 40 ہزار 672 خالی سرکاری آسامیوں کے انکشاف کے بعد محکمہ صحت سمیت مختلف شعبوں میں کنٹریکٹ پر کام کرنے والے مقامی ملازمین میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے، جو ملازمتوں کے تحفظ، مستقل تقرری اور دیگر مراعات کے لیے ریگولرائزیشن کا مطالبہ کرتے ہوئے ہڑتال پر ہیں۔

ملازمین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے کنٹریکٹ پر خدمات انجام دینے والے مقامی کارکنوں کو مستقل کرنے کے بجائے اگر یہ آسامیاں باہر سے بھرتی کے ذریعے پُر کی گئیں تو مقامی نوجوانوں کے روزگار کے مواقع متاثر ہوں گے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے پیر کو قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ مختلف محکموں میں براہِ راست بھرتی کے کوٹے کے تحت 40 ہزار 672 آسامیاں خالی ہیں۔

ان میں 3 ہزار 318 گزٹڈ، 24 ہزار 427 نان گزٹڈ اور 12 ہزار 927 ملٹی ٹاسکنگ اسٹاف کی آسامیاں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر: مطالبات منظور نہ ہونے پر ہیلتھ ملازمین کی ہڑتال میں توسیع

محکمہ صحت و طبی تعلیم میں سب سے زیادہ 12 ہزار 797 آسامیاں خالی ہیں، جن میں 2 ہزار 125 گزٹڈ، 8 ہزار 64 نان گزٹڈ اور 2 ہزار 608 ملٹی ٹاسکنگ اسٹاف کی آسامیاں شامل ہیں۔

ہیلتھ مشن کے کنٹریکٹ ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان آسامیوں کو صحت کے شعبے میں طویل عرصے سے کنٹریکٹ پر خدمات انجام دینے والے مقامی کارکنوں کو مستقل ملازمت فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔

ملازمین طویل عرصے سے مستقل تقرری، ملازمت کے تحفظ اور دیگر مراعات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

کنٹریکٹ ملازمین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خالی سرکاری آسامیاں مقبوضہ جموں و کشمیر سے باہر کے امیدواروں کے لیے کھول دی گئیں تو مقامی امیدواروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے مقبوضہ جموں کشمیر: کشمیری اپنی ہی سرزمین پر بے روزگار، باہر سے آنے والوں کے لیے کاروبار

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما التجا مفتی بھی سرکاری ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ پر سوالات اٹھا چکی ہیں اور مؤقف اختیار کر چکی ہیں کہ اس سے مقامی نوجوانوں کے روزگار کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔

ہیلتھ مشن کے ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت نئی بھرتیوں کا عمل شروع کرنے سے پہلے طویل عرصے سے زیرِ التوا ریگولرائزیشن کے مسئلے کو حل کرے اور تجربہ رکھنے والے مقامی کارکنوں کو ترجیح دے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp