وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی میں 100 ایکڑ رقبے پر میرین کلچر انویسٹمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ اسٹیٹ قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
منگل کو مجوزہ منصوبے کے حوالے سے بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر نے بتایا کہ مجوزہ اسٹیٹ میں میرین کلچر اور ایکوا کلچر سے متعلق سرگرمیوں کو ہیچری، تحقیق و جدت، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، کولڈ چین اور تجارتی سہولیات کے ساتھ ایک مربوط ترقیاتی فریم ورک کے تحت یکجا کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: موجودہ ٹیکس نظام کو چھیڑے بغیر مچھلی کی برآمدات بڑھانے کے لیے مراعاتی اسکیم لانے کی تیاری
میرین کلچر سے مراد ساحلی اور سمندری ماحول میں آبی حیات کی پرورش اور انتظام ہے، جس میں مچھلی، جھینگے، سیپ، مسلز اور سمندری گھاس سمیت مختلف انواع کی افزائش کے ساتھ سمندری ماحولیاتی نظام کے ساتھ ان کے باہمی تعلق کا انتظام بھی شامل ہے۔
مجوزہ کانسیپٹ ماسٹر پلان کے مطابق اسٹیٹ کو 4 بنیادی زونز میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں 30 ایکڑ کا میرین کلچر زون، 20 ایکڑ کا ہیچری زون، 20 ایکڑ کا ایکوا ریسرچ پارک اور 20 ایکڑ کا کمرشل ڈسٹرکٹ شامل ہیں۔
کورنگی فشریز ہاربر پر 100 ایکڑ میری کلچر اسٹیٹ کے قیام کی تجویز،میری کلچر اسٹیٹ میں چار بڑے زونز قائم کیے جائیں گے، میری کلچر اسٹیٹ میں پروسیسنگ اور کولڈ چین انفراسٹرکچر شامل ہوگا، جدید میری کلچر سے اعلیٰ مالیت کی ماہی گیری کو فروغ ملے گا،
— Faisal Hakeem (@FaisalHakeem39) September 22, 2026
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ جدید میرین کلچر ایکو سسٹم کی ترقی سے پاکستان کو زیادہ قدر والی فشریز پیداوار کی جانب بڑھنے، آبی حیات کے بیج کی پیداوار مضبوط بنانے اور ویلیو ایڈیشن و برآمدات پر مبنی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
ان کے مطابق ہیچری زون میں جدید آبی حیات کے بیج کی پیداوار کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبکہ ریسرچ پارک میں تحقیق، جدت اور تربیت کے لیے سہولیات دستیاب ہوں گی۔
منصوبے میں پروسیسنگ اور کولڈ چین کا بنیادی ڈھانچہ، تجارتی و ہاسپیٹیلٹی سہولیات، پائیدار انفراسٹرکچر اور گرین اسپیسز بھی شامل ہوں گی۔

مجوزہ اسٹیٹ میں اندرونی سڑکوں کا نیٹ ورک، بجلی اور قابلِ تجدید توانائی کی سہولیات، پانی کی فراہمی اور ٹریٹمنٹ سسٹم، گندے پانی کی صفائی کا نظام، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، اسمارٹ اسٹیٹ مینجمنٹ، سیکیورٹی و نگرانی، گرین بیلٹس اور لینڈ اسکیپنگ بھی فراہم کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد سرمایہ کاری کو راغب کرنا، برآمدات میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ٹیکنالوجی و جدت کو فروغ دینا ہے، جو ملک کی بلیو اکانومی کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔
مزید پڑھیں: پاکستان میرین اکیڈمی کو اپ گریڈ کرنے کی تیاریاں، قانون سازی جلد متوقع
انہوں نے کہا کہ پائیدار بلیو اکانومی کی تعمیر اور ساحلی آبادیوں کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کرنے کے لیے جدید سمندری انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔
کانسیپٹ پلان کے مطابق نیشنل ڈیپ سی فشنگ ہاربر، کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی کو مجوزہ ترقیاتی منصوبے کے لیے ادارہ جاتی مرکز کے طور پر مختص کیا گیا ہے۔














