وزن کم کرنے اور ذیابیطس کے علاج میں استعمال ہونے والی جی ایل پی-1 ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سیکڑوں صارفین نے مقدمات دائر کیے ہیں۔ درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ ان ادویات کے استعمال سے آنکھ کی ایک نایاب بیماری ’نان آرٹیریٹک اینٹیریئر اسکیمک آپٹک نیوروپیتھی‘ (NAION) کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جو اچانک بینائی متاثر ہونے اور بعض صورتوں میں بصری اعصاب کو مستقل نقصان پہنچنے کا سبب بن سکتی ہے۔
این اے آئی او این میں آنکھ کے بصری اعصاب تک خون کی روانی اچانک کم ہوجاتی ہے، جس سے عموماً ایک آنکھ کی بینائی اچانک اور بغیر درد کے متاثر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے موٹاپے کا علاج صرف وزن کم کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے، جانیے دیگر ضروری اہداف
امریکن اکیڈمی آف اوپتھلمولوجی اور نیشنل آئی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق یہ 50 سال سے زائد عمر کے بالغ افراد میں بصری اعصاب کو اچانک پہنچنے والے نقصان کی عام وجوہ میں شامل ہے اور اسے بعض اوقات ’آئی اسٹروک‘ بھی کہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس سے ہونے والی بینائی کی کمی اکثر مستقل ہوتی ہے اور بصری اعصاب کو پہنچنے والے نقصان کو واپس کرنے کا کوئی ثابت شدہ علاج موجود نہیں۔
اس معاملے میں نوو نارڈسک، جو اوزمپک اور ویگووی تیار کرتی ہے، اور ایلی للی، جو مونجارو اور زیپ باؤنڈ بناتی ہے، نے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ نوو نارڈسک نے مقدمات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اپنی کمپنی کی معاونت سے ہونے والی تحقیق کا حوالہ دیا ہے جس میں این اے آئی او این کے خطرے میں اضافہ نہیں پایا گیا، جبکہ ایلی للی کا کہنا ہے کہ وہ حفاظتی اعداد و شمار کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور موجودہ مطالعات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جی ایل پی-1 ادویات اس بیماری کا سبب بنتی ہیں۔
2025 میں ’جاما اوپتھلمولوجی‘ میں شائع ہونے والی 3 کروڑ 70 لاکھ بالغ افراد کے اعداد و شمار پر مبنی تحقیق میں سیمی گلوٹائڈ استعمال کرنے والوں میں دوسری قسم کی ذیابیطس کی ادویات کے مقابلے میں این اے آئی او این کا خطرہ معمولی حد تک زیادہ پایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے آنکھوں میں چھپی دل کی بیماری؟ ریٹینا کی تبدیلی تشخیص سے 4 سال پہلے خطرہ بتا سکتی ہے
ہارورڈ میڈیکل اسکول کی 2024 کی ایک تحقیق میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے ایسے مریضوں میں یہ خطرہ تقریباً 4 گنا زیادہ رپورٹ ہوا جنہیں سیمی گلوٹائیڈ تجویز کیا گیا تھا، تاہم مطلق خطرہ بدستور بہت کم تھا۔ دونوں مطالعات کے مصنفین نے واضح کیا کہ یہ مشاہداتی تحقیقات تھیں، اس لیے ان سے دوا اور بیماری کے درمیان براہِ راست سبب و مسبب کا تعلق ثابت نہیں ہوتا اور مزید شواہد کی ضرورت ہے۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن بھی ممکنہ تعلق کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ یورپی میڈیسنز ایجنسی نے دستیاب شواہد کی بنیاد پر سیمی گلوٹائیڈ کی مصنوعات کی معلومات میں این اے آئی او این کو ’انتہائی نایاب‘ مضر اثر کے طور پر شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔
ماہرین کے مطابق عمر، ذیابیطس، بلند فشار خون، ہائی کولیسٹرول، نیند میں سانس رکنے کی بیماری اور تمباکو نوشی بھی این اے آئی او این کے اہم خطرات ہیں، اس لیے صرف دوا کے اثرات کو بیماری کی وجہ قرار دینا مشکل ہے۔ ماہرین نے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ ڈاکٹر سے مشورے کے بغیر تجویز کردہ جی ایل پی-1 دوا بند نہ کریں، جبکہ اچانک بینائی متاثر ہونے کی صورت میں فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔














