میٹا نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانے کے ساتھ اسمارٹ عینکوں کی تیاری پر بھی توجہ مرکوز کررکھی ہے، تاہم کمپنی کو پرائیویسی سے متعلق بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے۔
میٹا کی سالانہ کنیکٹ کانفرنس بدھ کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر مینلو پارک میں کمپنی کے مرکزی دفتر سے شروع ہوگی، کانفرنس پاکستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح 4 بجے شروع ہوگی، جہاں چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ کلیدی خطاب کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا کی جانب سے بھارت میں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق سینکڑوں اشتہارات کی اشاعت کا انکشاف
میٹا نے رواں ماہ صارفین کے لیے میوز نامی مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپ متعارف کرائی تھی، جو صارف کی جانب سے مختلف کام انجام دینے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ صارف اپنے مالی، صحت یا خریداری سے متعلق مختلف اکاؤنٹس اس سے منسلک کرکے خدمات کے لیے اندراج، ملاقاتوں کی بکنگ اور فون کالز جیسے کام کروا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایمیزون نے رواں ہفتے میٹا کو صارفین کی جانب سے خودکار خریداری کے لیے مصنوعی ذہانت کے حامل بوٹس استعمال کرنے سے روک دیا، جبکہ انسٹا کارٹ، شاپی فائی اور ایکسپڈیا سمیت دیگر کمپنیوں نے میوز کے ساتھ اپنی خدمات کو مربوط کرنے کے لیے شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔
میوز ایجنٹ میٹا کے اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز پر مبنی ہے اور اسے اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی اور اینتھروپک کے کلاڈ کے مقابلے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
میٹا نے 2021 میں اپنی پہلی انٹرایکٹو اسمارٹ عینکیں متعارف کرائی تھیں۔ اس کے بعد کمپنی نے ان آلات میں مسلسل مزید جدید خصوصیات شامل کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 18 ارب ڈالر کے تصفیے کے بعد میٹا کی نئی اے آئی پروڈکٹس کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تجزیہ کار
گزشتہ سال میٹا نے ایسی آگمینٹڈ ریئلٹی عینکیں متعارف کرائی تھیں جو لینز پر تصاویر دکھاتی ہیں۔ رواں سال کمپنی نے اپنی برانڈنگ کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے لیس عینکیں بھی پیش کیں، جبکہ آئی وئیر بنانے والی کمپنی ایسیلر لکسوٹیکا کے ساتھ شراکت داری کے تحت رے بین برانڈ کی میٹا عینکیں بھی تیار کی جارہی ہیں۔
تاہم اسمارٹ عینکوں کے حوالے سے پرائیویسی کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں اور ناقدین نے انہیں ‘پرورٹ گلاسز’ کا نام دیا ہے۔
میٹا کے چیف پروڈکٹ آفیسر کرس کاکس نے گزشتہ سال کنیکٹ کانفرنس کے موقع پر ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسمارٹ عینکوں کے استعمال کے حوالے سے ‘سماجی اصول’ تشکیل پائیں گے۔
میٹا کا کہنا ہے کہ عینکوں میں ریکارڈنگ کے دوران روشن رہنے والی ایک علامتی لائٹ موجود ہوگی جو قریب موجود لوگوں کو ریکارڈنگ سے آگاہ کرے گی، جبکہ اس لائٹ میں ردوبدل کرنے کی کوشش کی صورت میں کیمرہ غیرفعال ہوجائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا کیخلاف بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا مقدمہ، اربوں ڈالر کے تصفیے پر اختتام
رپورٹ کے مطابق میٹا صرف آواز کے لیے نئی عینکوں پر بھی کام کر رہی ہے جبکہ نئی نسل کی مکسڈ ریئلٹی عینکیں تیار کرنے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب میٹا کو دنیا بھر میں بچوں کی آن لائن حفاظت اور پرائیویسی سے متعلق مسائل کا بھی سامنا ہے۔ اگست میں کمپنی نے امریکا کے درجنوں اٹارنی جنرلز کے ساتھ ایک مقدمے کا تصفیہ کیا، جس میں میٹا پر صارفین کے تحفظ اور بچوں کی آن لائن پرائیویسی سے متعلق ریاستی اور وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
تصفیے کے تحت میٹا نے 18 ارب ڈالر تک جرمانے ادا کرنے اور نوعمر صارفین کے حوالے سے پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیا۔ کمپنی کو دنیا بھر میں کم عمر صارفین کے لیے سوشل میڈیا سے متعلق پابندیوں اور پابندیوں کا سامنا ہے، جبکہ امریکا میں ذاتی نقصان سے متعلق ہزاروں ممکنہ مقدمات بھی مختلف ریاستی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔














