وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے پروگرام کے تحت ملک بھر میں ہیپاٹائٹس سی کی مفت اسکریننگ کی جارہی ہے، جس پر عام طور پر تقریباً 7 ہزار روپے خرچ آتا ہے، جبکہ ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت میں مریض کو 3 ماہ کی دوا بھی مفت فراہم کی جائے گی۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی کی اسکریننگ کے لیے اسلام آباد میں 17 سرکاری مراکز کام کر رہے ہیں، جبکہ نجی اسپتالوں کو بھی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے نجی اسپتالوں کے منتظمین سے ملاقات کرکے ان سے بھی مریضوں کی مفت اسکریننگ اور علاج میں تعاون کی درخواست کی ہے۔ حکومت نجی اسپتالوں کو ٹیسٹنگ کٹس اور ادویات فراہم کرے گی، جبکہ اسپتال اپنے وسائل استعمال کرتے ہوئے مریضوں کو مفت سہولت فراہم کریں گے۔
وفاقی وزیر صحت کے مطابق اب تک تقریباً 70 ہزار افراد کی ہیپاٹائٹس سی کے لیے اسکریننگ کی جاچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ٹیسٹ پر حکومت تقریباً 7 ہزار روپے خرچ کر رہی ہے اور شہریوں سے کوئی رقم وصول نہیں کی جارہی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اگر کسی شخص کا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو اسے 3 ماہ کی دوا مفت فراہم کی جائے گی، جس کی مالیت تقریباً 34 ہزار روپے ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید دوا بھی فراہم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:خاموش بیماری کے خلاف انگلینڈ کی بڑی کامیابی، ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کا ہدف قریب
انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کو نادرا کے ریکارڈ سے بھی منسلک کیا جارہا ہے تاکہ اسلام آباد سمیت ملک بھر کے شہریوں کو ان کے متعلقہ علاقوں میں سرکاری مراکز پر یہ سہولت فراہم کی جاسکے۔
مصطفیٰ کمال نے اسلام آباد کے شہریوں سے اپیل کی کہ حکومت کی اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور مفت ہیپاٹائٹس سی ٹیسٹ کرائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیسٹ تقریباً ایک منٹ میں کیا جاسکتا ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ انہوں نے بھی اپنا ہیپاٹائٹس سی ٹیسٹ کرایا جو منفی آیا۔ ان کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی سے متاثر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کی بروقت اسکریننگ کرکے مرض کی تشخیص اور متاثرہ افراد کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرنا ہے۔














