پاکستان سمیت 12 ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئے مستقل ارکان شامل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے منتخب ارکان کی تعداد بڑھانے اور طویل مدت کے لیے گردش کرنے والی نشستیں متعارف کرانے کی حمایت کردی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطح ہفتے کے موقع پر ’یونائٹنگ فار کنسنسس‘ گروپ کا اجلاس ہوا، جس میں پاکستان، ارجنٹائن، کینیڈا، کولمبیا، کوسٹاریکا، اٹلی، مالٹا، میکسیکو، جنوبی کوریا، سان مارینو، اسپین اور ترکیہ شامل ہیں۔ گروپ نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لیے اپنے مشترکہ مؤقف کا اعادہ کیا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ سلامتی کونسل کو موجودہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے زیادہ نمائندہ، جمہوری، شفاف، جواب دہ اور مؤثر بنایا جانا چاہیے۔
“Uniting for Consensus” Joint Statement on UN Security Council Reform
(September 24 2026)
Press Releases
The “Uniting for Consensus” Group (UfC) – consisting of Argentina, Canada, Colombia, Costa Rica, Italy, Malta, Mexico, Pakistan, Republic of Korea, San Marino, Spain,… pic.twitter.com/RDYiyGzFUF
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) September 25, 2026
گروپ نے کہا کہ منتخب ارکان کی تعداد میں اضافہ، بشمول طویل مدت کی گردش کرنے والی نشستوں کے ذریعے توسیع، عالمی ادارے میں ان خطوں کی نمائندگی بہتر بنانے میں مدد دے گی جو اس وقت کم نمائندگی رکھتے ہیں۔ اعلامیے میں افریقہ کے علاوہ ایشیا پیسیفک اور لاطینی امریکا و کیریبین کے خطوں کا بھی ذکر کیا گیا۔
’یونائٹنگ فار کنسنسس‘ نے نئی مستقل نشستیں بنانے کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل اصلاحات کے لیے بین الحکومتی مذاکرات کا عمل ہی رکن ممالک کی قیادت میں ہونے والا جامع اور قابلِ قبول فورم ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اصلاحات کے عمل کو مذاکرات، لچک اور سمجھوتے کی بنیاد پر آگے بڑھایا جانا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ رکن ممالک کی سیاسی حمایت حاصل کی جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں:جنگ بندی کے بغیر یوکرین میں امن ممکن نہیں، پاکستان کا سلامتی کونسل میں مؤقف
گروپ نے سلامتی کونسل کے ویٹو کے خاتمے کی حمایت بھی کی، تاہم فوری طور پر اجتماعی مظالم اور جنگی جرائم جیسے مخصوص حالات میں ویٹو کے استعمال کو محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ 81ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران گروپ تمام رکن ممالک کے ساتھ تعمیری رابطہ جاری رکھتے ہوئے ایسی سلامتی کونسل کے قیام کے لیے کام کرے گا جو عالمی برادری کے مفادات کی بہتر نمائندگی کرسکے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کی ذمہ داری زیادہ مؤثر انداز میں ادا کرے۔













