جاپان میں غیر ملکیوں کے مستقل قیام کے قوانین سخت، نئی شرائط یکم اکتوبر سے نافذ ہوں گی

جمعہ 25 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جاپان نے غیر ملکی شہریوں کے مستقل رہائشی اجازت نامے کے حصول کے قوانین مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت درخواست گزاروں کو جاپان کی اوسط آمدن سے زیادہ سالانہ گھریلو آمدن، جاپانی زبان پر عبور اور پنشن کی ادائیگی سے متعلق اضافی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

مزید پڑھیں:ایشین گیمز، قومی کرکٹ ٹیم شرکت کے لیے جاپان روانہ

الجزیرہ کے مطابق نئی شرائط کا مرحلہ وار نفاذ یکم اکتوبر سے شروع ہوگا، جبکہ آمدن سے متعلق شرط اپریل سے جمع کرائی گئی درخواستوں پر بھی لاگو ہوگی۔ مستقل رہائش کے امیدواروں کو 30 سال کی پنشن ادائیگی کے مساوی رقم موجود ہونے کا بھی ثبوت دینا ہوگا۔ جاپان کی امیگریشن سروسز ایجنسی کے مطابق تبدیلیوں کا مقصد غیر ملکیوں کو خود کفیل اور مستحکم زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔

جاپان میں غیر ملکی باشندوں کی تعداد 2025 کے اختتام تک ریکارڈ 41 لاکھ 20 ہزار تک پہنچ گئی تھی، جو مجموعی آبادی کا قریباً 3 فیصد ہے۔ دوسری جانب ملک کو کم ہوتی شرح پیدائش اور افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔

ماہرین کے مطابق غیر ملکی کارکنوں کے لیے طویل المدتی قیام مشکل ہونے سے جاپان کی افرادی قوت کی ضروریات اور امیگریشن پالیسی کے درمیان توازن کا سوال مزید اہم ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیں:جاپان میں طاقتور سمندری طوفان، کانتو ریجن میں سیلاب کا خطرہ

الجزیرہ کے مطابق جاپان میں امیگریشن پہلے ہی سیاسی بحث کا اہم موضوع بن چکی ہے اور حالیہ عرصے میں غیر ملکیوں کی مزید آمد کے حوالے سے عوامی مخالفت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp