سپریم کورٹ کے ریسرچ آفیسر ڈاکٹر وسیم طارق کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے معاملے پر دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے درخواست گزار کے طرزِ عمل پر سخت ریمارکس دیے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ڈاکٹر وسیم طارق کی درخواست پر سماعت کی۔
دورانِ سماعت درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ان پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا، جبکہ شکایت کنندگان اسٹیٹ آفس کے ملازمین تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: مدرسہ کے طالب علم سے بدفعلی کے ملزم زین علی کی درخواستِ ضمانت مسترد
ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف انکوائری بھی کی گئی، تاہم انکوائری میں ان کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہوا۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اصل معاملہ تو گھر کی الاٹمنٹ کا تھا، آپ نے دھونس لگائی ہوگی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ بہتر ہوگا کہ وہ اپنے کام پر توجہ دیں۔
مزید پڑھیں: حق مہر بیوی کا قانونی اور شرعی حق، شوہر شرائط عائد کرکے ادائیگی سے نہیں بچ سکتا، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ
دورانِ سماعت درخواست گزار کی جانب سے خاموشی اختیار نہ کرنے پر بھی عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ہمارے سامنے خاموش نہیں ہو رہے تو وہاں کیا کرتے ہوں گے، ادھر تو بادشاہ بنے ہوں گے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اس معاملے کی پیروی اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ چیف جسٹس کے آفس پر الزام عائد کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: سندھ میں قتل کیسز کی ایف آئی آر میں تاخیر پر سپریم کورٹ برہم، آئی جی سے سفارشات طلب
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ خود ہی مدعی، خود ہی جج کا کام نہیں ہونا چاہیے۔
عدالت نے مزید کہا کہ ایسا تاثر نہیں جانا چاہیے کہ عدالت نے درخواست گزار کو کوئی خصوصی رعایت یا فیور دی۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ اس سارے معاملے سے ان کی شہرت خراب ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: گھر کے اندر قتل میں گواہ کہاں سے آتے ہیں، سپریم کورٹ کا استفسار
جس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ اگر شہرت خراب ہوتی تو آپ نوکری نہ کر رہے ہوتے۔
جسٹس افغان نے مزید کہا کہ ایسا نہ ہو کہ درخواست گزار اپنی نوکری سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات زیادہ قابلیت بھی نقصان دہ ہوتی ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کی جگہ بہتر ہوتا کہ وکیل عدالت میں پیش ہوتا۔
عدالت نے درخواست گزار کو متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔














