امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے جوہری پروگرام سے متعلق ٹھوس اقدامات کی صورت میں تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور ایرانی منجمد فنڈز کی بحالی پر آمادہ ہیں۔
تاہم صدر ٹرمپ نے پیر کی شام سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایسی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’غلط‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ٹرمپ ایران جنگ ہار رہے ہیں؟ 3ماہ بعد نئی بحث چھڑ گئی
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قطر اور پاکستان کے ثالث ایک مرتبہ پھر امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرنے اور کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
US President Donald Trump is willing to offer Iran sanctions relief and the release of frozen funds in exchange for concrete progress on nuclear issues, a US official told The Jerusalem Post.
Reporting by @IKweller https://t.co/C5CAZO7tNn— The Jerusalem Post (@Jerusalem_Post) September 28, 2026
ایران چاہتا ہے کہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز اور امریکی بحری ناکہ بندی پر توجہ مرکوز کی جائے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ تہران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق ٹھوس رعایتیں دے۔
تاہم امریکی جانب سے پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی کی پیشکش کو سفارتی پیشرفت کی ایک امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات پر کوئی ٹائم فریم دینے سے انکار، معاشی دباؤ اور فوجی کارروائی مؤثر قرار
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ تازہ ترین تجویز مسترد کر دی تھی۔
دریں اثنا، ثالثی کی کوششوں کے تحت قطری اور پاکستانی نمائندے نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کر رہے ہیں۔
ملاقات میں قطر کی جانب سے پیش کردہ اس تجویز پر بات چیت متوقع ہے جس پر دونوں فریق گزشتہ چند روز سے مذاکرات کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران سے جنگ نے امریکا کو کمزور کیا، یہ سب اسرائیل کے لیے ہوا: ری پبلیکن رکنِ کانگریس تھامس میسی پھٹ پڑے
قطری ثالثوں کی ٹرمپ انتظامیہ کے حکام سے بھی پیر یا منگل کو ملاقات متوقع ہے تاکہ مذاکرات میں کسی ممکنہ پیش رفت کی راہ ہموار کی جا سکے۔
بالواسطہ مذاکرات سے واقف ایک امریکی عہدیدار نے بات چیت کو ’مثبت اور تعمیری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے جوہری معاملات پر لچک کا عندیہ دیا ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان اب بھی اہم خلا موجود ہیں اور جوہری معاملات حل کیے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
مزید پڑھیں: امریکا کا ایران پر نئے فوجی حملوں پر غور، صدر ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس میں ہنگامی قیام، تمام مصروفیات منسوخ
امریکی عہدیدار کے مطابق بنیادی اختلاف اس بات پر ہے کہ دونوں فریق اپنی ذمہ داریاں کب پوری کریں گے اور پہلا قدم کون اٹھائے گا۔
عہدیدار نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں اضافہ جاری ہے، جبکہ ناکہ بندی اور پابندیاں ایران کی پوزیشن کو متاثر کر رہی ہیں۔
ان کے بقول امریکا کی پوزیشن ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہو رہی ہے اور صدر ٹرمپ اس مقصد پر قائم ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ معمولی نہیں وسیع تر معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، جے ڈی وینس
امریکی حکام نے ایران کی یقین دہانیوں پر شکوک کا اظہار بھی کیا ہے، ایک عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ ایران نے گزشتہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جولائی میں آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کی تھی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اس مرتبہ ایران سے واضح ضمانتیں چاہتا ہے کہ تہران مذاکرات کو اپنی مشکلات سے نکلنے کے لیے محض ایک ذریعہ نہیں بلکہ سنجیدہ سفارتی عمل کے طور پر آگے بڑھائے گا۔














