کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں بیت المکرم مسجد کے قریب زیر تعمیر پل کا ایک حصہ گرنے سے ڈیوٹی پر مامور سیکیورٹی گارڈ ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگیا۔
ریسکیو 1122 کے مطابق حادثہ جمعرات کو پیش آیا، متاثرہ شخص تعمیراتی مقام پر ڈیوٹی گارڈ کے فرائض انجام دے رہا تھا کہ اچانک زیر تعمیر ڈھانچہ منہدم ہونے کے باعث وہ ملبے تلے دب گیا۔
اطلاع ملنے پر ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور امدادی کارروائی شروع کی۔ اہلکاروں نے ملبہ ہٹا کر سیکیورٹی گارڈ کی لاش نکال لی۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سال سے کھدی یونیورسٹی روڈ مکمل نہ ہوسکی، حکام کے لیے فلائی اوور پر ریڈ کارپٹ بچھا دیا گیا، سوشل میڈیا پر تنقید
ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائی مکمل کرلی گئی ہے جبکہ حادثے میں کسی اور شخص کے زخمی یا جاں بحق ہونے کی اطلاع نہیں ملی، تاہم ملبے تلے مزید کوئی شخص موجود نہیں تھا۔
ریسکیو حکام کے مطابق منہدم ہونے والا ڈھانچہ کراچی کے بس ریپڈ ٹرانزٹ یعنی بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کا حصہ تھا، حادثے کی فوری طور پر کوئی وجہ سامنے نہیں آسکی۔
🚨🚨کراچی،گلشن اقبال بیت المکرم مسجد کے قریب زیر تعمیر پل کا اسٹرکچر گرگیا،ملبے تلے دب کرایک شخص جاں بحق pic.twitter.com/cHWxxJ6I2u
— Ali Tanoli (@alitanoli889) October 1, 2026
ریڈ لائن منصوبہ تاخیر کا شکار
یہ حادثہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب کراچی کا ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ مسلسل تاخیر اور تعمیراتی مسائل کے باعث تنقید کی زد میں ہے۔
حکام کی جانب سے سابق ٹھیکیدار کا معاہدہ مسلسل تاخیر اور غیر تسلی بخش کارکردگی کے باعث ختم کیے جانے کے بعد فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے رواں سال اپریل میں یونیورسٹی روڈ پر منصوبے کے لاٹ 2 پر دوبارہ کام شروع کیا تھا۔
ریڈ لائن منصوبے کا آغاز 2022 میں کیا گیا تھا اور اسے 30 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ منصوبہ جون 2024 میں مکمل ہونا تھا، تاہم متعدد تاخیر کے باعث یہ مقررہ مدت سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔
مزید پڑھیں: ریڈ کارپٹ پر استقبال ایسا لگا جیسے یونیورسٹی روڈ اچانک مکمل ہوگئی؟
لاٹ 2 محکمہ موسمِیات سے نمائش تک کے حصے پر مشتمل ہے اور اسے کام کی معطلی، ٹھیکیدار اور متعلقہ حکام کے درمیان تنازعات سمیت متعدد رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی منصوبے پر تعمیراتی کام کی رفتار اور معیار کے ساتھ ساتھ صحت، حفاظتی اقدامات اور ماحولیاتی تقاضوں کی تکمیل پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
حالیہ حادثے کے بعد تعمیراتی مقامات پر حفاظتی انتظامات سے متعلق سوالات ایک بار پھر سامنے آنے کا امکان ہے۔
ریڈ لائن منصوبے کو 2 لاٹس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ لاٹ ون ایئرپورٹ سگنل سے محکمہ موسمیات تک جبکہ لاٹ 2 محکمہ موسمیات سے نمائش تک پھیلا ہوا ہے۔
#Karachi: A structure of the under-construction Red Line bridge collapsed near Bait-ul-Mukarram Mosque in Gulshan-e-Iqbal, killing a security guard. Rescue officials said the guard was trapped under the debris while performing security duties. His body was shifted to a hospital…
— Shahzad Khan (@i_shahzadkhan) October 1, 2026
لاٹ 2 منصوبے کا بڑا اور زیادہ مسائل کا شکار حصہ قرار دیا جاتا ہے۔
لاٹ 2 پر تعمیراتی کام کو گزشتہ سال بھی ٹھیکیدار اور حکام کے درمیان مالی تنازعات کے باعث طویل عرصے تک معطل رکھا گیا تھا۔
ادائیگیوں کے معاملے پر تنازع عدالت تک بھی پہنچا، جس کے بعد ادائیگیوں کی راہ ہموار ہوئی۔
دوسری جانب ریڈ لائن منصوبے میں تاخیر کے باعث کراچی کے شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے اور مختلف شاہراہوں پر ٹریفک کا دباؤ، راستوں میں رکاوٹیں اور آمدورفت کے مسائل برقرار ہیں۔














