پاکستان کی بھارت میں مسجد کے انہدام کی کوششوں کی مذمت، افغانستان سے متعلق الزامات مسترد

جمعرات 1 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے بھارت میں تاریخی شاہی مسجد کے انہدام کی کوششوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے بھارت میں مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنانے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ افغانستان کے صوبے نورستان میں پاکستانی مداخلت کے الزامات کو بھی سختی سے مسترد کردیا۔

ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقوں سے جہاز کی بازیابی کے آپریشن میں جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں میں رفیع اللہ خان، کاشف اور سید محمود احمد انصاری شامل ہیں۔ آپریشن میں عملے کے 4 دیگر پاکستانی ارکان بھی زخمی ہوئے، جن کا علاج جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صومالیہ میں مغوی جہاز کی بازیابی کے دوران جاں بحق ہونے والوں میں 3 پاکستانی شامل، دفتر خارجہ کی تصدیق

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان صومالی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ زخمیوں کی دیکھ بھال، جاں بحق افراد کی میتوں کی وطن واپسی اور بچ جانے والے پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی یقینی بنائی جا سکے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان کے صوبے نورستان میں پاکستانی مداخلت کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان 36 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کا محفوظ ٹھکانہ ہے۔

انہوں نے بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں تاریخی شاہی مسجد کے انہدام کی کوششوں کی بھی سخت مذمت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت میں مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنانے کا نوٹس لیا جائے۔

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان قوانین پر مبنی عالمی نظام کی حمایت کرتا ہے اور طے شدہ عالمی فریم ورک پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستان امریکا اور ایران دونوں پر زور دیتا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا احترام کریں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کرسکتا، مسئلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مؤثر انداز میں اٹھائیں گے، دفتر خارجہ

انہوں نے کہا کہ زیر التوا معاملات مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیے جائیں۔ پاکستان کی قیادت میں تنازع کا پرامن اور دوستانہ حل ہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔ تنازع کا حل عالمی امن و سلامتی کے وسیع تر مفاد میں ہونا چاہیے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل اور تعمیری رابطے میں ہے اور ایران اور امریکا کے درمیان رابطے میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ دیرینہ اور کثیرالجہتی اسٹریٹجک شراکت داری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور واشنگٹن کے ساتھ طویل عرصے سے قائم سفارتی، اقتصادی اور سیکیورٹی تعلقات مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستان بین الاقوامی طریقہ کار اور طے شدہ فریم ورک کی سختی سے پاسداری پر بھی زور دیتا ہے۔

بھارتی کوآرڈینیٹر برائے شنگھائی تعاون تنظیم کے دورہ پاکستان سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ طویل عرصے بعد بھارت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ پاکستان آنے والے بھارتی ایس سی او نیشنل کوآرڈینیٹر نے سیالکوٹ سمیت دیگر مقامات کے دورے میں بھی دلچسپی ظاہر کی، جبکہ انہوں نے لاہور کا بھی ذکر کیا۔

ترجمان نے بتایا کہ بھارتی عہدیدار نے لاہور کو آئندہ ایک سال کے لیے ایس سی او کا ثقافتی دارالحکومت قرار دیا۔ ان کی موجودگی نے خطے میں امن، ترقی، رابطہ کاری، تجارت اور ٹرانزٹ کے مقاصد کو اجاگر کیا۔ ان کا دورہ علاقائی سطح پر خیالات کے تبادلے کے حوالے سے اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، ترجمان دفتر خارجہ

انہوں نے بھارتی عہدیدار کی پاکستان آمد کو خوش آئند قدم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میں آئندہ ایک سال کے دوران ہونے والی تقریبات میں خطے کے رکن ممالک شرکت کرتے رہیں گے۔

سندھ طاس معاہدے سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان عالمی ثالثی عدالت کے حوالے سے بھارت کی جانب سے ابہام پیدا کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ اپنی تمام شقوں سمیت مکمل طور پر موجود ہے اور عالمی ثالثی عدالت نے بھارتی اعتراضات مسترد کر دیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اگست میں بھی عالمی ثالثی عدالت نے بھارتی دعووں کو مسترد کیا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے ریمارکس سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان سے منسوب بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، اس لیے وضاحت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کا ذمہ دار رکن ہے اور تمام قابل اطلاق پابندیوں کے نظام کی پاسداری کرتا ہے۔ پاکستان بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے مطابق پابندیوں پر عمل کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:مذاکرات ہی خطے کے مسائل کا واحد حل، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے لیے سرگرم ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام سے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp