معاشی استحکام کے بعد اب برآمدات، روزگار اور پائیدار ترقی پر توجہ دینی ہوگی، وزیراعظم

جمعرات 1 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے باہمی تعاون اور اصلاحات کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے، اب توجہ پائیدار اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، پیداوار بڑھانے اور برآمدات کے فروغ پر مرکوز کرنا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی وطن واپسی پر 3 بڑے سیاسی بحران حل ہونے کا امکان

وزیراعظم نے نیا ناظم آباد اپارٹمنٹ ریئٹ اسکیم کی فہرست میں شمولیت کے موقع پر گانگ تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومتوں، مالیاتی اداروں اور اقتصادی ٹیم کی مشترکہ کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے حصول کے لیے سیاسی قیادت، عسکری قیادت اور متعلقہ اداروں نے مل کر کام کیا، جبکہ اصلاحات پر عمل درآمد کے نتیجے میں پاکستان دوبارہ پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہوا ہے۔

وزیراعظم کے مطابق نیویارک اور لندن میں حالیہ دوروں کے دوران سٹی بینک، جے پی مورگن، بارکلیز اور آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر سمیت عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں ہوئیں جنہوں نے پاکستان کی جانب سے دیرینہ ساختی اصلاحات پر عمل درآمد کو سراہا اور اسے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول قرار دیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کا کامیاب اجرا کیا، جس کے لیے 6 ارب ڈالر کی پیشکشیں موصول ہوئیں جبکہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.4 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے ذخائر 5.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ترسیلات زر اور آئی ٹی برآمدات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی کارکردگی بھی بہتر ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان چین دوستی وقت کے ہر امتحان پر پوری اتری، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم نے کہا کہ اب پاکستان کو معاشی استحکام کے مرحلے سے آگے بڑھ کر ایسی اقتصادی ترقی کی طرف جانا ہوگا جو ٹیکنالوجی، روزگار، پیداوار اور برآمدات میں اضافے پر مبنی ہو۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں برآمد کنندگان، صنعت کاروں اور مختلف شعبوں، بالخصوص تعمیراتی شعبے کے لیے سیکڑوں ارب روپے کی ٹیکس رعایتیں اور مراعات دی گئی ہیں جن کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

انہوں نے ریئل اسٹیٹ اور صنعتی شعبے میں ریئٹ نظام کے تحت لاہور اور کراچی میں کاروباری رہنماؤں، بالخصوص عارف حبیب کی جانب سے شروع کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے اسٹاک ایکسچینج اور کیپٹل مارکیٹس کو مزید جدید اور بہتر بنانے پر زور دیا۔

وزیراعظم نے بعض ایسی صنعتوں کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا جنہیں بھاری سبسڈی اور ٹیرف کے تحفظ سمیت مختلف مراعات فراہم کی گئیں تاہم وہ درآمدی متبادل پیدا کرنے اور مسابقت بڑھانے کے وعدوں کے باوجود مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے دیانت داری کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، جبکہ معاشی ترقی کے لیے جدید مشینری، زیادہ پیداوار اور محنت ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپس پہنچ گئے

انہوں نے کہا کہ صنعت کاری اور برآمدات پر خصوصی توجہ دینا ہوگی اور معیشت میں برآمدات پر مبنی نمو لانا ہوگی۔

’معاشی حالات کی بہتری میں سیاسی اور عسکری قیادت کا باہمی تعاون اہم ہے‘

وزیراعظم شہباز شریف نے چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو قومی سلامتی اور معاشی ترقی کے لیے ان کے تعاون اور عزم پر خصوصی طور پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے سفر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

وزیراعظم نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کی جانب سے اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی کی بازیابی اور لینڈ بینک کے قیام کے منصوبے کو بھی سراہا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسلسل محنت، اصلاحات اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے پاکستان ایک مضبوط معیشت بن کر اقوام عالم میں نمایاں مقام حاصل کرے گا۔

نجی شعبے کی شمولیت میں اضافہ

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ معیشت میں نجی شعبے کی شمولیت کا رجحان بڑھ رہا ہے اور حکومت نجی شعبے کے لیے مطلوبہ ماحول فراہم کرتی رہے گی۔

انہوں نے بتایا کہ رہائشی قرضوں کی مد میں 60 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق تین سال قبل ملکی معیشت سکڑاؤ کا شکار تھی تاہم اب صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور بالخصوص امریکی کمپنیوں سمیت غیر ملکی ادارے پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہونے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیکس وصولی کے اہداف عبور کیے جا چکے ہیں جبکہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد گزشتہ سال کے 39 لاکھ کے مقابلے میں بڑھ کر 57 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد

کاروباری رہنما عارف حبیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ساڑھے 4 سال بعد عالمی کیپٹل مارکیٹس میں واپس آیا ہے اور یورو بانڈ کے لیے ملنے والے مثبت ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سرمایہ کار پاکستانی معیشت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ سی سی سی پلس سے بہتر ہو کر بی تک پہنچی ہے جبکہ مقامی کرنسی مسلسل تین برس سے مستحکم رہی ہے۔

عارف حبیب کے مطابق اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 22 ارب ڈالر جبکہ مجموعی مائع ذخائر 27 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی بہتر انداز میں منظم ہے، کارکنوں کی ترسیلات زر نئی بلند سطحوں تک پہنچ رہی ہیں، جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے آنے والی رقوم میں 58 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف کا لندن اسٹاک ایکسچینج کا دورہ، سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

تقریب میں وفاقی وزرا عطا اللہ تارڑ، میاں ریاض حسین پیرزادہ اور ڈاکٹر مصدق ملک سمیت دیگر شخصیات موجود تھیں، جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، اسٹیٹ بینک کے گورنر، کاروباری رہنما عارف حبیب اور کارپوریٹ شعبے کی اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp