روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس کسی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم نیٹو کی جانب سے روس پر براہِ راست حملہ کیا گیا تو ماسکو اپنے پاس موجود تمام ہتھیار استعمال کرے گا۔
مزید پڑھیں:روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے
ڈسکشن کلب ’والدائی‘ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ اگر روسی فیڈریشن پر براہِ راست حملہ ہوا، بالخصوص کالینن گراڈ کے تناظر میں، تو یہ سوال پیدا ہوگا کہ روس اپنے تمام دستیاب ہتھیار استعمال کرے۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ کون سے ہتھیار استعمال کیے جائیں گے، اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس کے پاس ایسے ہتھیار موجود ہیں جن کی مثال دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ملتی۔
🚨 BREAKING:
Russia is preparing for war with NATO after observing steps European leaders.
Putin also warns Europe that if it goes against Russia, there may be world war III. pic.twitter.com/a52JyNl64K
— Russia X 🇷🇺 (@Rusia_HD) October 1, 2026
پیوٹن نے کہا کہ روس کی یہ صلاحیت اسے یورپ کی 2 جوہری طاقتوں، فرانس اور برطانیہ، کے مقابلے میں برتری فراہم کرتی ہے۔
روسی صدر نے اپنے بیان میں روسی وزارت خارجہ کے اس خط کا بھی حوالہ دیا جس میں نیٹو کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر ’کالینن گراڈ‘ کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی گئی تو روس جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔
مزید پڑھیں:روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور زیلنسکی کی ملاقات کے انتظامات شروع کر دیے ہیں، ٹرمپ
پیوٹن نے وزارت خارجہ کے خط کو دھمکی قرار دینے کے بجائے روس کو ڈرانے کی کوششوں کا جواب قرار دیا۔
واضح رہے کہ کالینن گراڈ روس کا ایک علیحدہ خطہ ہے جو بحیرہ بالٹک کے ساحل پر پولینڈ اور لتھوانیا کے درمیان واقع ہے۔ یہ روس کے مرکزی علاقے سے جغرافیائی طور پر الگ ہے۔
دوسری عالمی جنگ سے قبل کالینن گراڈ جرمنی کا حصہ تھا اور اسے کونیگس برگ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ جنگ کے بعد یہ سوویت یونین کا حصہ بن گیا۔
کالینن گراڈ میں روس کے اہم فوجی اڈے، میزائل نظام اور بحری تنصیبات موجود ہیں، جس کے باعث یہ روس اور نیٹو کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔














