ایشین گیمزاختتام پذیر، چین 341 تمغوں کے ساتھ سرِفہرست، جاپان دوسرے، پاکستان کس نمبر پررہا؟

اتوار 4 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جاپان کے شہر آئچی ناگویا میں 16 روز تک جاری رہنے 20ویں ایشین گیمز2026، 54 نئے عالمی ریکارڈز قائم کرنے کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی ہیں، جن میں چین نے 169 گولڈ میڈلز کے ساتھ پہلی جبکہ میزبان جاپان نے ریکارڈ 83 گولڈ میڈلز حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی۔

جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو نیوز کے مطابق 19 ستمبر سے شروع ہونے والے ان کھیلوں میں 45 ممالک اور خطوں سے 15,000 سے زیادہ (مجموعی طور پر 17,000 سے زیادہ ) کھلاڑیوں اور آفیشلز نے شرکت کی۔

چین نے مجموعی طور پر 341 تمغے حاصل کر کے پہلی پوزیشن برقرار رکھی، جن میں 169 گولڈ میڈلز شامل ہیں، تاہم یہ تعداد 2023 کے گیمز کے مقابلے میں قدرے کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:والی بال: پاکستان نے چین کو شکست دے کر ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ جیت لیا

میزبان جاپان نے تاریخ کے سب سے بڑے 932 کھلاڑیوں کے دستے کے ساتھ شرکت کی اور ریکارڈ 83 گولڈ میڈلز سمیت مجموعی طور پر 269 تمغے جیت کر دوسری پوزیشن حاصل کی۔ جنوبی کوریا 39 گولڈ میڈلز کے ساتھ مجموعی طور پر 150 تمغے حاصل کر کے تیسرے نمبر پر رہا۔

پاکستان نے 10 میڈل حاصل کیے

پاکستان نے مختلف کیٹیگریز میں 10 میڈلز حاصل کرکے پورے ٹورنامنٹ میں شریک ممالک میں سے 29 ویں پوزیشن حاصل کی۔

جاپان کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود شمالی کوریا نے کھیل کے وزیر کم ال گوک کی قیادت میں اپنا وفد بھیجا اور 7 گولڈ میڈلز سمیت 29 تمغے جیتے۔ اس کے علاوہ ایران اور فلسطین کے کھلاڑیوں نے بھی ایونٹ میں بھرپور شرکت کی۔

شاندار ریکارڈز اور ایونٹ کے نمایاں ترین کھلاڑی

ایشین گیمز میں نوجوان کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ 13 سالہ چینی پیراک یو زیڈی کو ویمنز ایم وی پی (سب سے اہم کھلاڑی) قرار دیا گیا۔

انہوں نے 200 میٹر بٹر فلائی، 200 میٹر اور 400 میٹر انڈیویجول میڈلے میں گیمز ریکارڈز کے ساتھ 3 گولڈ میڈلز جیتے۔ انہیں 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس کے لیے بھی بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اپنی کامیابی کے باوجود شرمیلی یو زیڈی نے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتی کہ میں وہ ہوں جسے لوگ معجزانہ صلاحیتوں کا حامل (پروڈیجی) کہتے ہیں ‘۔

تھائی لینڈ کے 20 سالہ اسپرنٹر پوریپول بپتھون کو مینز ایم وی پی منتخب کیا گیا، جنہوں نے 100 میٹر اور 200 میٹر دوڑ میں گولڈ میڈلز اپنے نام کیے۔

مزید پڑھیں:ایشین گیمز: پاکستان والی بال ٹیم سیمی فائنل میں ایران سے ہار گئی، اب کانسی کے تمغے کے لیے میدان میں اترے گی

جاپان کے 11 سالہ یوکی کری ہارا نے ای اسپورٹس کے پزل کیٹیگری میں گولڈ میڈل جیت کر ایشین گیمز کی تاریخ کے سب سے کم عمر چیمپیئن کا اعزاز حاصل کیا۔

سوئمنگ پول میں جاپان کے 17 سالہ شن اوہاشی نے مردوں کی 200 میٹر بریسٹ اسٹروک میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ جبکہ شمالی کوریا کی 140 سینٹی میٹر (4 فٹ 7 انچ) قد والی ویٹ لفٹر ری سونگ گم نے ایک ہی دن میں 3 عالمی ریکارڈ توڑ کر گولڈ میڈل جیتا۔

کھیلوں کے مقابلے، روایتی ایونٹس اور نئے شعبے

ٹورنامنٹ کے دوران اولمپک ڈسپلنز اور ایشیا کے روایتی کھیلوں جیسے سیپک ٹاکرا اور کبڈی سمیت 43 کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوئے۔

اس بار کئی ایسے کھیلوں کا بھی ڈیبیو ہوا جو اولمپکس میں شامل ہونے کے منتظر ہیں، جن میں پیڈل، مکسڈ مارشل آرٹس اور ورچوئل تائیکوانڈو شامل ہیں۔

کرکٹ کے مقبول ایونٹ کے فائنل میں بھارت نے اپنے روایتی حریف پاکستان کو شکست دے کر گولڈ میڈل جیتا۔ مردوں کے فٹبال فائنل میں جنوبی کوریا نے 30  ہزار تماشائیوں کی موجودگی میں جاپان کو 0-1 سے ہرا کر گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔

انتظامی خامیاں، بدانتظامی اور ’ایف‘ گریڈ کا تنازع

کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی کے باوجود گیمز بدانتظامی، تماشائیوں کی عدم توجہی اور انتظامی ناکامیوں کا شکار رہے۔

اخراجات بچانے کے لیے روایتی ایتھلیٹس ولیج کی جگہ لکڑی کے عارضی یونٹس، کروز شپ ’کوسٹا سیرینا‘ اور ہوٹلوں کا استعمال کیا گیا۔

کھلاڑیوں کی زیادہ تعداد کے باعث بستروں کی شدید قلت پیدا ہوئی۔ تھائی لینڈ کے ایک اولمپک آفیشل نے سونے کی جگہ تلاش کرنے کو’میوزیکل چیئرز ‘ سے تشبیہ دی۔

سنگین غلطیوں میں جنوبی کوریا کی ہاکی ٹیم کے میچ سے قبل شمالی کوریا کا قومی ترانہ بجا دیا گیا۔ بسیں وقت پر نہ پہنچنے کے باعث دو ٹیموں کو غلط اسٹیڈیم بھیج دیا گیا جس سے والی بال کا میچ تاخیر کا شکار ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:ایشین گیمز اسکواش: پاکستان کو فائنل میں ملائیشیا کے ہاتھوں شکست، ملک کے لیے پہلا سلور میڈل جیت لیا

جبکہ مردوں کی فٹبال وکٹری سیریمنی میں جنوبی کوریا کا پرچم لہرایا ہی نہیں گیا۔ کورین اسپورٹ اینڈ اولمپک کمیٹی کے صدر ریو سیونگ من نے منتظمین کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر مجھے انہیں کوئی گریڈ دینا پڑے تو وہ ’ایف‘ہوگا ‘۔

اس کے علاوہ افتتاحی تقریب میں ہزاروں نشستیں خالی رہیں، جبکہ جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان ویمنز سیمی فائنل دیکھنے 50 ہزار نشستوں والے اسٹیڈیم میں محض 998 تماشائی آئے۔

جاپانی اولمپک کمیٹی کی صدر سیکو ہاشیموتو نے اعتراف کیا کہ’کئی مسائل‘ پیش آئے اور خرابیِ موسم نے تماشائیوں کو دور رکھا، تاہم جاپان مستقبل کے ایونٹس کے لیے ان تجربات سے سیکھے گا۔

دوسری جانب اولپمک کونسل آف ایشیا کے ڈائریکٹر جنرل حسین المسلم نے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’اعداد و شمار ہی حقائق ہیں‘ اور گیمز میں 50 سے زیادہ عالمی ریکارڈز قائم ہوئے ہیں۔

اختتامی تقریب اور مستقبل

خشک اور خوشگوار شام میں منعقدہ اختتامی تقریب میں اولمپک کونسل آف ایشیا کے صدر شیخ جوعان بن حمد آل ثانی نے کھلاڑیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ اتھلیٹس نے ہمارے براعظم کے لاکھوں نوجوانوں کو ایک متاثر کن پیغام دیا ہے کہ سب سے اہم چیز مقابلے کی خوشی، دوستی کا بندھن اور بہترین کارکردگی کی لگن ہے‘۔

مزید پڑھیں:ایشین گیمز اسکواش: پاکستان کو فائنل میں ملائیشیا کے ہاتھوں شکست، ملک کے لیے پہلا سلور میڈل جیت لیا

انہوں نے مزید کہا کہ ’آج رات ہم ان گیمز کا اختتام کر رہے ہیں جو ایشیائی کھیلوں کی اگلی نسل کو ترتیب دیں گے ‘۔

تقریب کے اختتام پر 2030 کے اگلے ایشین گیمز کی میزبانی قطر کے دارالحکومت دوحہ کے سپرد کی گئی۔ واضح رہے کہ ایشین گیمز کا آغاز 1951 میں نئی دہلی سے ہوا تھا۔ اس کے علاوہ جاپان 18 اکتوبر سے ایک ہفتے کے لیے ایشین پیرا گیمز کی میزبانی بھی کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp