بھارت میں الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا، احتجاج میں خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے واقعات

اتوار 4 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں الیکشن کمیشن کے سربراہ کے استعفے کے لیے اتوار کو مسلسل تیسرے روز بھی ملک گیر احتجاج جاری رہا۔ ادھر نئی دہلی پولیس نے ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں کے دوران بعض پولیس اہلکاروں پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے چیف گنیش کمار کے خلاف احتجاج کا باقاعدہ آغاز جمعہ کو ہوا تھا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں کی حالیہ نظرثانی کے دوران مبینہ طور پر دھاندلی کرتے ہوئے لاکھوں ووٹرز کے نام فہرستوں سے غیر قانونی طور پر نکالے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:’بی جے پی میں شامل ہو جاؤ ورنہ تمھارے ماں باپ کو دیکھ لیں گے‘، کاکروچ پارٹی کے بانی کو سنگین دھمکیاں

اگرچہ الیکشن کمیشن نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے، تاہم الیکشن کمشنر گنیش کمار نے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔

ممبئی میں ہزاروں افراد سڑکوں پر

اتوار کو ممبئی میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر زبردست احتجاج کیا۔ بھارتی پرچم لہراتے ہوئے مظاہرین نے الیکشن کمشنر گنیش کمار سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

ان مظاہرین میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) کے حامی بھی بڑی تعداد میں شامل تھے۔

واضح رہے کہ یہ جماعت رواں برس مئی میں ایک آن لائن طنزیہ مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی اور اس کی کامیاب مہم کے نتیجے میں اس وقت کے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے ہٹنا پڑا تھا۔

سی جے پی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے اتوار کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’ممبئی آزاد اور شفاف انتخابات کے لیے ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آیا ہے!‘ ۔

انہوں نے تمام مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام بھارتی متحد ہو جائیں، کیونکہ اب نہیں تو کبھی نہیں۔

خواتین کو ہراساں کرنے کے الزامات

نئی دہلی میں ہفتے کے روز جنتر منتر کے مخصوص احتجاجی مقام کے قریب سے پولیس نے درجنوں مظاہرین کو حراست میں لیا تھا۔ اسی دوران پولیس اہلکاروں پر جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے۔

مزید پڑھیں:راجستھان میں اسکول کے معائنے کے لیے جانے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ ٹیم پر حملہ، بی جے پی پر الزام؟

اتوار کو سی جے پی کے حامیوں سمیت درجنوں کارکنوں نے نئی دہلی کے ایک پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہو کر ان الزامات پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

دہلی پولیس نے ایک باضابطہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ 3 خواتین صحافیوں کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس نے اس معاملے کی ’شفاف اور غیر جانبدارانہ‘ تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں، ایک متاثرہ خاتون نے الزام لگایا ہے کہ ایک پولیس افسر نے انہیں دھکا دیا اور نامناسب طریقے سے چھوا۔

سی جے پی کے کارکن سورو داس نے سوشل میڈیا پر تصدیق کی کہ متاثرہ خاتون کے ساتھ ایک وفد تفتیش کے لیے تھانے کے اندر موجود ہے۔ اس حوالے سے ابھیجیت دیپکے کا کہنا ہے کہ ملزم افسر کو فی الفور گرفتار کیا جانا چاہیے۔

اپوزیشن کے الزامات اور آئندہ کا لائحہ عمل

بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن پر وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اشاروں پر کام کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی

اپوزیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ منگل کو نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کریں گے، جس کے بعد ملک بھر میں ’جمہوریت بچاؤ‘ کے نام سے ریلیاں نکالی جائیں گی۔

دوسری جانب، سی جے پی نے 10 اکتوبر کو نئی دہلی میں نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر متحرک کرنے اور ایک وسیع احتجاجی تحریک شروع کرنے کی کال دے دی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp