امریکی سائنسدان کارل ڈیسرورتھ اور جرمن سائنسدان پیٹر ہیگیمان اور جارج ناگل نے 2026 کا نوبیل انعام برائے فزیالوجی یا میڈیسن جیت لیا۔
مزید پڑھیں:نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈیوڈ گراس نے دنیا کے خاتمے کی مدت بتادی
نوبیل اسمبلی کے مطابق تینوں سائنسدانوں کو روشنی سے فعال ہونے والے آئن چینلز اور ’آپٹو جینیٹکس‘ سے متعلق دریافتوں پر یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ آپٹو جینیٹکس ایسی تکنیک ہے جس کے ذریعے روشنی کی مدد سے دماغ کے مخصوص عصبی خلیوں کی سرگرمی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
نوبیل اسمبلی کے مطابق اس طریقے سے زندہ دماغ میں انفرادی عصبی خلیوں کو فعال یا غیر فعال کرنا ممکن ہوا ہے، جس سے سائنسدانوں کو دماغ میں معلومات کی ترسیل اور مختلف نیورونز کے باہمی تعامل کو سمجھنے میں مدد ملی ہے۔
Neuroscientist Dr. Karl Deisseroth, awarded the Nobel Prize for medicine, says his work has helped scientists pinpoint brain cells involved in disorders like depression and Alzheimer’s https://t.co/zisHL6o4Cy https://t.co/AFCYWyBFQ7
— Reuters (@Reuters) October 5, 2026
اس تحقیق کی بنیاد ’چینل روڈوپسن-2‘ نامی روشنی حساس پروٹین کی دریافت سے پڑی، جسے جرمن سائنسدانوں پیٹر ہیگیمان اور جارج ناگل نے طحالب میں دریافت کیا۔ بعد ازاں کارل ڈیسرورتھ نے اس تکنیک کو عصبی خلیوں پر لاگو کیا اور 2006 میں اسے ’آپٹو جینیٹکس‘ کا نام دیا گیا۔
مزید پڑھیں:امریکا ایران جنگ بندی: نوبیل انعام کا اصل حق دار پاکستان ہے، اٹلی
آپٹو جینیٹکس نے نیورو سائنس میں تحقیق کے نئے راستے کھولے ہیں اور اس کے ذریعے شیزوفرینیا، الزائمر، پارکنسنز، مرگی اور نشے سمیت مختلف دماغی عوارض کو سمجھنے پر تحقیق جاری ہے۔
تینوں سائنسدان 12 ملین سویڈش کرونا، یعنی قریباً 12 لاکھ ڈالر، کی انعامی رقم مشترکہ طور پر حاصل کریں گے۔














