وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی کی منسوخی اور دیگر معاشی مطالبات کے پیشِ نظر اہم مذاکرات کی تیاری شروع ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے رابطہ کر کے پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات کے حوالے سے وزیراعظم کا پیغام ان تک پہنچایا ہے۔
رابطے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کے درمیان ایک اہم اور طے شدہ ملاقات تجویز کی گئی ہے، جس کا حتمی شیڈول دونوں جماعتوں کی قائم کردہ کمیٹیاں باہمی مشاورت سے طے کریں گی۔
یہ بھی پڑھیے پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا 7 اکتوبر کے بعد نئے احتجاجی مرحلے کا اعلان
انہوں نے کہا کہ ملاقات کی تاریخ اور دیگر امور سے متعلق تفصیلات پر جماعت اسلامی اور حکومتی کمیٹی کے درمیان جلد اتفاقِ رائے پیدا کر لیا جائے گا۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کا بنیادی ایجنڈا عوام کو درپیش معاشی مشکلات، پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے اور پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف کی فراہمی ہے۔ اس کے علاوہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان وزیراعظم کے ساتھ گفتگو میں ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کمی لانے اور آئی پی پیز (IPPs) سے متعلق طے شدہ معاہدو ں پر نظرثانی جیسے حساس اور اہم امور کو بھی اٹھائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے اچھا ہوا پی ٹی آئی سے احتجاج الگ ہوگیا، ہمیں عوام اور انہیں اپنے لیڈر کا دکھ ہے، رہنما جماعت اسلامی فراست شاہ
جماعت اسلامی کے موقف پر روشنی ڈالتے ہوئے نائب امیر لیاقت بلوچ نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی کا مطالبہ بالکل شفاف ہے؛ حکومت کو پیٹرولیم لیوی کی صورت میں عوام سے وصول کیا جانے والا ’بھتہ‘ مکمل طور پر فوری ختم کرنا ہو گا تاکہ مہنگائی کے مارے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔











