دانت پیسنے کی عادت: یہ کیفیت کیوں جنم لیتی ہے، نقصانات کیا ہیں؟

جمعرات 17 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کیا آپ کو صبح اٹھتے ہی جبڑے میں درد، سر درد یا دانتوں میں حساسیت محسوس ہوتی ہے؟ کیا کبھی کسی نے آپ کو بتایا کہ آپ نیند میں دانت پیستے یا بھینچتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ممکن ہے آپ کو برکسزم نامی کیفیت کا سامنا ہو جس میں انسان بے خبری میں دانت پیستا، بھینچتا، جبڑے کو مضبوطی سے جما کر رکھتا یا اسے آگے پیچھے حرکت دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دانتوں کی صحت کا راز صرف برش نہیں، آپ کی خوراک بھی اہم ہے

ماہرین کے مطابق دانت پیسنے کی یہ عادت بعض افراد میں رات کو سوتے ہوئے ہوتی ہے جبکہ کچھ لوگ دن کے اوقات میں بھی غیر ارادی طور پر دانت بھینچتے رہتے ہیں۔ کئی افراد کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا اور انہیں اس وقت پتا چلتا ہے جب دانتوں میں خرابی، جبڑے میں درد یا صبح کے وقت سر درد جیسی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں دانت پیسنے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اگرچہ اس بارے میں حتمی اعداد و شمار دستیاب نہیں لیکن دانتوں کے بعض ماہرین کے مشاہدے میں ایسے نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن کے دانت مسلسل پیسنے یا بھینچنے کے باعث متاثر ہورہے ہیں۔

ذہنی دباؤ دانتوں تک کیسے پہنچتا ہے؟

تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے افراد میں دانت پیسنے یا بھینچنے کا تعلق ذہنی دباؤ سے ہوسکتا ہے۔ جب انسان مسلسل تناؤ یا صدمے کی کیفیت میں ہو تو جسم کا نظام اسے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہوسکتی ہے، جسم میں ایڈرینالین خارج ہوتا ہے اور پٹھوں میں تناؤ پیدا ہوتا ہے۔

چونکہ جبڑا اور اعصابی نظام ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں اس لیے ذہنی دباؤ کے دوران جبڑے کے پٹھے بھی تناؤ کا شکار ہوسکتے ہیں جس کے نتیجے میں انسان دانت بھینچنے یا پیسنے لگتا ہے۔

مزید پڑھیے: فِلنگ اور امپلانٹس کا دور ختم ہونے والا ہے؟ سائنسدان انسانی دانت دوبارہ اگانے کے نزدیک

ماہرین کے مطابق بعض افراد میں رات کے وقت دانت پیسنا دن بھر جمع ہونے والے تناؤ اور ذہنی دباؤ کو جسمانی طور پر خارج کرنے کا ایک طریقہ ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ افراد اپنی زندگی کے انتہائی دباؤ والے ادوار میں اس عادت کے شروع ہونے یا شدت اختیار کرنے کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

کیسے معلوم ہوگا کہ آپ دانت پیستے ہیں؟

دانت پیسنے کی عادت کی چند عام علامات میں دانتوں کا گھس جانا، چپ ہوجانا یا ان کی سطح کا ہموار ہوجانا، صبح کے وقت سر درد یا چہرے اور جبڑے میں درد، جبڑے میں اکڑاؤ یا کھنچاؤ، نیند کا بار بار متاثر ہونا اور دن کے وقت تھکن محسوس ہونا، دانتوں میں حساسیت بڑھ جانا اور کان میں درد یا کنپٹی کے قریب تکلیف جبکہ کان میں کسی انفیکشن کی موجودگی نہ ہو۔

بعض افراد میں دانت اتنے زیادہ گھس سکتے ہیں کہ ان کی ساخت متاثر ہونے لگتی ہے۔ شدید صورتوں میں دانت ٹوٹنے یا ان کے علاج میں استعمال ہونے والی مصنوعی ساخت کے بار بار خراب ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

دانتوں کے ماہرین کے مطابق کئی افراد کو اس عادت کا علم ہی نہیں ہوتا لیکن معائنے کے دوران دانتوں پر موجود گھساؤ اس بات کی نشاندہی کرسکتا ہے کہ وہ طویل عرصے سے دانت پیس رہے ہیں۔ تاہم ایسے شدید نقصانات نسبتاً کم ہوتے ہیں اور عام طور پر برسوں میں پیدا ہوتے ہیں۔

ہر دانت پیسنے کا سبب صرف ذہنی دباؤ نہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ برکسزم کو صرف دانتوں یا جبڑے کا ایک مکینیکل مسئلہ سمجھنا درست نہیں۔ اس کے پیچھے دماغ، اعصابی نظام، نیند، طرز زندگی اور دیگر کئی عوامل ہوسکتے ہیں۔

اسی لیے علاج کے دوران نیند کے معمول، خوراک، وزن، جسمانی سرگرمی، استعمال ہونے والی ادویات اور نیند سے متعلق دیگر مسائل کا بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: آن لائن ویڈیوز کی مدد سے دانتوں کا علاج کرنے والا جعلی ڈینٹسٹ خاندان پکڑا گیا

خصوصاً نیند کے دوران سانس رکنے کی بیماری یعنی آبسٹریکٹو سلیپ ایپنیا کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس کیفیت میں سانس کی نالی بند ہونے کے باعث بعض افراد نیند کے دوران جبڑے کو حرکت دے کر سانس کی راہ دوبارہ کھولنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس صورت میں دانت پیسنا بعض اوقات جسم کے لیے سانس بحال کرنے کی کوشش کا حصہ بھی ہوسکتا ہے۔

کیا دانت پیسنے کی عادت ہمیشہ نقصان دہ ہے؟

برکسزم کے منفی اثرات میں دانتوں کا گھسنا، دانتوں میں حساسیت، جبڑے کا درد اور نیند کا متاثر ہونا شامل ہیں تاہم ماہرین کے مطابق جبڑے کی حرکت ہمیشہ نقصان دہ نہیں ہوتی۔

مثلاً جبڑے کے پٹھوں کی حرکت لعاب بنانے والے بڑے غدود کو متحرک کرتی ہے۔ لعاب منہ کو صاف رکھنے، دانتوں کے تحفظ اور نظامِ ہاضمہ کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔

کچھ ابتدائی تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ چبانے کی سرگرمی دماغ تک خون کی روانی کو متحرک کرکے ذہنی صلاحیتوں پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے اگرچہ اس حوالے سے انسانی تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔

علاج کیسے کیا جاتا ہے؟

برکسزم کا علاج ہر فرد کے لیے ایک جیسا نہیں ہوتا کیونکہ پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ دانت پیسنے یا بھینچنے کی اصل وجہ کیا ہے۔

رات کو پہننے والا ماؤتھ گارڈ دانتوں کو مزید نقصان سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے تاہم ماہرین کے مطابق صرف ماؤتھ گارڈ دے دینا کافی نہیں بلکہ اس عادت کی بنیادی وجہ بھی تلاش کرنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بہت زیادہ گرم چائے یا کافی غذائی نالی کو نقصان پہنچا کر کینسر کا خطرہ بڑھا سکتی ہے

اگر مسئلہ نیند کے دوران سانس رکنے سے متعلق ہو تو سانس کی نالی کھلی رکھنے والے آلات، جن میں مسلسل مثبت دباؤ کے ذریعے سانس پہنچانے والا آلہ یا جبڑے کو آگے رکھنے والا مخصوص آلہ شامل ہے مددگار ہوسکتے ہیں۔

بعض مریضوں کو فزیوتھراپی، ذہنی و نفسیاتی گفتگو پر مبنی علاج، خصوصاً علمی رویہ جاتی تھراپی اور طرز زندگی میں تبدیلی سے بھی فائدہ ہوسکتا ہے۔

ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے باقاعدہ ورزش، بہتر نیند، صحت مند غذا اور تناؤ کو کم کرنے کی کوشش بھی اہم ہے۔ ماہرین بعض افراد کو الکحل کم کرنے اور تمباکو نوشی ترک کرنے کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔

شدید نوعیت کے بعض کیسز میں جبڑے کے پٹھوں کو عارضی طور پر ڈھیلا کرنے کے لیے بوٹوکس کے انجیکشن بھی ایک آپشن ہوسکتے ہیں تاہم یہ ہر مریض کے لیے ضروری نہیں اور ہر جگہ معمول کے علاج کے طور پر دستیاب بھی نہیں ہوتے۔

ماہرین کے مطابق اگر دانت مسلسل پیسنے کے ساتھ جبڑے میں درد، دانتوں کے گھسنے، ٹوٹنے یا نیند متاثر ہونے کی علامات موجود ہوں تو مسئلے کو نظر انداز کرنے کے بجائے دانتوں کے ڈاکٹر سے معائنہ کرانا بہتر ہے۔

مزید پڑھیں: رات کا کھانا کب کھانا چاہیے؟ صرف غذا نہیں وقت بھی اہم ہے

کیونکہ دانت پیسنے کی عادت صرف دانتوں کا مسئلہ نہیں اس لیے بعض اوقات یہ جسم پر مسلسل ذہنی دباؤ، نیند کی خرابی یا کسی دوسرے بنیادی مسئلے کا اشارہ بھی ہوسکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp