پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ٹیسٹ کپتان عامر سہیل نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) لاہور کا دورہ کر کے پلیئر ڈویلپمنٹ پروگرامز کا جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ جدید سہولیات اور سرمایہ کاری کو میدان میں بہترین کارکردگی اور نتائج میں تبدیل ہونا چاہیے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی خصوصی دعوت پر این سی اے کا دورہ کرنے والے عامر سہیل کو ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے انڈر 15، انڈر 17 اور انڈر 19 کھلاڑیوں کے پاتھ ویز اور نوجوان کرکٹرز کی تلاش و ان کی تیاری سے متعلق بنیادی ڈھانچے پر تفصیلی بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی اور پان کی پچکاری، متنازع بیان پر سابق کرکٹ کپتان عامر سہیل کی معذرت
اس موقع پر انہیں ’ایتھلیٹ مینجمنٹ سسٹم‘ کے بارے میں بھی بتایا گیا، جو کھلاڑیوں کی پیش رفت، کارکردگی کے جائزے اور بہتری کے شعبوں کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
Former Pakistan captain Aamir Sohail visits National Cricket Academy, offering his insights on the training set-up and facilities 🏏
He highlighted the PCB’s emphasis on player development and pathways cricket 🗣️
#NCA | #PakistanCricket https://t.co/bCdfSg05pS
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) October 8, 2026
جدید سہولیات اور بائیو مکینکس لیب
سابق اوپننگ بیٹر نے اکیڈمی میں اپ گریڈ کی گئی سہولیات اور زیرِ تعمیر ’بائیو مکینکس لیبارٹری‘ کا بھی جائزہ لیا۔
پی سی بی ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’جو سہولیات نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کھلاڑیوں کو میسر ہونی چاہئیں وہ اب موجود ہیں۔
یہ دیکھ کر بہت حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے ضروری بنیادی تقاضے اب حقیقی معنوں میں دستیاب ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ جدید بائیو مکینکس لیب کھلاڑیوں کو اپنی تکنیکی خامیاں دور کرنے اور کارکردگی نکھارنے میں مدد فراہم کرے گی۔
سرمایہ کاری کو نتائج میں تبدیل کرنے پر زور
پی سی بی چیئرمین کے کرکٹ کی بہتری کے عزم اور مالی و تکنیکی سرمایہ کاری کی تعریف کرتے ہوئے عامر سہیل نے واضح کیا کہ ان وسائل کا اثر میدان میں نظر آنا چاہیے۔
مزید پڑھیں:پی ایس ایل میچ کے دوران عامر سہیل کے کراچی سے متعلق ریمارکس پر ہنگامہ، سوشل میڈیا پر سخت تنقید
ان کا کہنا تھا کہ ’چیئرمین کی جانب سے ایسی حوصلہ افزائی اور کرکٹ کی بہتری کے لیے سرمایہ کاری کے بعد یہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ یہ سرمایہ کاری میدان میں بہتر کارکردگی اور نتائج کی صورت میں سامنے آئے‘۔
انہوں نے کھلاڑیوں کی تربیت پر مامور عملے میں اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور تجربے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اسکول اور کلب کرکٹ کی بحالی
عامر سہیل نے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے طے کردہ نئے پاتھ ویز کو سراہا، تاہم پی سی بی سے مطالبہ کیا کہ وہ اسکول اور کلب کرکٹ پر مسلسل اور مستقل توجہ برقرار رکھے۔
انہوں نے پی سی بی کے حال ہی میں شروع کیے گئے اسکول کرکٹ ٹورنامنٹ کو مثبت قدم قرار دیا لیکن کہا کہ اسکولوں کو پورا سال کرکٹ سے منسلک رکھا جائے تاکہ ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو مسلسل کھیلنے اور آگے بڑھنے کے مواقع میسر آسکیں۔
عامر سہیل نے 1990 سے 2000 کے درمیان پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 47 ٹیسٹ اور 156 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے۔
یہ بھی پڑھیں:وسیم اکرم نے بابر اعظم کو کیوں کچھ نہیں سکھایا جب وہ کراچی کنگز کا کپتان تھا؟ عامر سہیل کی وسیم اکرم پر تنقید
وہ ماضی میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ڈائریکٹر اور قومی سلیکشن کمیٹی کے چیف سلیکٹر کی حیثیت سے بھی ذمے داریاں انجام دے چکے ہیں۔
پی سی بی کی جانب سے اکیڈمی کے انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور بائیو مکینکس لیبارٹری کی تنصیب کا بنیادی مقصد پاکستان کے کرکٹ سیٹ اپ کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کرنا ہے۔













