کوئٹہ: انٹیگریٹڈ سیکیورٹی منصوبہ، 2 ہزار 900 جدید کیمرے نصب کیے جانے کا فیصلہ

ہفتہ 10 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان حکومت نے کوئٹہ میں سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے کے لیے 2 ہزار 900 جدید نگرانی کیمرے نصب کرنے اور فوری ردعمل دینے والی پولیس فورس کے مزید مراکز قائم کرنے کی منظوری دے دی، جبکہ غیر حاضری اور غفلت پر 871 پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے سیکیورٹی اور پولیسنگ اجلاس میں کوئٹہ انٹیگریٹڈ سیکیورٹی منصوبے سمیت پولیس کی جدید کاری اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کوئٹہ گرین ڈیجیٹل کوریڈور کے تحت شہر میں 2 ہزار 900 جدید نگرانی کیمرے نصب کیے جائیں گے، جن کا مقصد شہر کی نگرانی کا نظام بہتر بنانا، دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو مؤثر بنانا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال یا سیکیورٹی کے واقعے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے فوری ردعمل کو یقینی بنانا ہے۔

اجلاس میں کوئٹہ میں فوری ردعمل دینے والی فورس (کیو آر ایف) کے مزید مراکز قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی، تاکہ سیکیورٹی خطرات اور ہنگامی حالات میں پولیس کم سے کم وقت میں جائے وقوعہ پر پہنچ سکے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان کے عوام کی مشکلات کم کرنا اولین ترجیح ہے، سرفراز بگٹی

اجلاس کو پولیس کی جدید کاری سے متعلق اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اس سلسلے میں پولیس افسران اور اہلکاروں کو جدید تربیت، ضروری آلات اور دیگر وسائل فراہم کیے جائیں گے، تاکہ وہ دہشتگردی اور سیکیورٹی کے بدلتے ہوئے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹ سکیں۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اور انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان نے اجلاس کو صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور پولیسنگ کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔

اجلاس میں پولیس میں نظم و ضبط اور احتساب بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق غیر حاضری اور غفلت کے مرتکب 871 پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کیا گیا ہے، جبکہ مختلف شخصیات کے ساتھ تعینات 1 ہزار 5 پولیس اہلکاروں کی خدمات واپس لے کر انہیں پولیس کے متعلقہ محکمے میں بھیج دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ہدایت کی کہ دہشتگردی کے خلاف تعینات پولیس اہلکاروں کو جدید تربیت، ضروری سازوسامان اور مکمل معاونت فراہم کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پولیس کو دہشتگردی کے خلاف لڑنے کے لیے تعینات کیا جاتا ہے تو اسے درکار تمام وسائل اور مکمل تعاون بھی فراہم کیا جانا چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں آخری دہشتگرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے گی، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی

اجلاس میں وزیراعلیٰ نے غیر ترقیاتی اخراجات پر مزید کنٹرول کرنے اور دستیاب وسائل کو عوامی مفاد کے منصوبوں اور اقدامات پر خرچ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

حکومت کے مطابق جدید نگرانی کے نظام، پولیس کی استعداد کار میں اضافے اور احتساب کے اقدامات کا مقصد کوئٹہ سمیت بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp