پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی بابر نواز خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف جنگ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر لڑنے کی ضرورت ہے، جب تک دہشتگردی کے معاملے پر تمام فریق ایک پیج پر نہیں آتے، کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پورا ملک اس وقت چاہتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کی جائے، لیکن سیاسی معاملات کو آگے بڑھانے کے بجائے احتجاج اور جلسے جلوسوں کا سلسلہ جاری ہے۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ، وفاقی کابینہ سے کل منظوری لیے جانے کا امکان
بابر نواز خان نے کہاکہ پی ٹی آئی احتجاج کے ذریعے اپنے ووٹرز کو دھوکا دے رہی ہے۔ ان کے یہ جلسے جلوس اسی طرح جاری رہیں گے۔
انہوں نے کہاکہ سچی بات کرنے پر لوگوں کو برا لگتا ہے اور ان کی باتوں پر سوشل میڈیا پر تنقید بھی کی جائے گی، لیکن وہ کسی جماعت کی نہیں بلکہ ملک کی بات کررہے ہیں۔
’دہشتگردی سیاسی جماعتوں کا نہیں، پورے ملک کا مسئلہ ہے‘
بابر نواز خان نے کہا کہ دہشتگردی نہ پی ٹی آئی کا مسئلہ ہے، نہ مسلم لیگ ن اور نہ ہی پیپلز پارٹی کا، بلکہ یہ سیاست سے بالاتر ہر پاکستانی کا مسئلہ ہے۔ دہشت گردی کے واقعات میں علما، معصوم بچے، خواتین اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید ہو رہے ہیں، اس لیے اس معاملے کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کا موازنہ بلوچستان سے نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ دونوں صوبوں کے حالات مختلف ہیں۔ بلوچستان میں چھوٹی چھوٹی قوم پرست تنظیمیں سرگرم ہیں، جن کے اہداف فوج یا زیادہ سے زیادہ سرکاری ملازمین ہوتے ہیں، جبکہ وہ اسلام آباد کی طرف نہیں آتیں۔
انہوں نے کہاکہ بھارت کی سرپرستی میں کام کرنے والے اور دوسرے ممالک کے مفادات کے لیے سرگرم عناصر پاکستان میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں۔ ایسے عناصر ملک میں داخل ہو کر اسلام آباد سمیت دوسرے شہروں میں امام بارگاہوں، اسپتالوں، عدالتوں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
بابر نواز خان نے کہاکہ 2027 میں پاکستان میں تین بڑے ایونٹس ہونے جا رہے ہیں، جن میں سیف گیمز بھی شامل ہیں۔ ایسے بڑے ایونٹس میں دنیا بھر سے لوگ پاکستان آئیں گے، اس لیے ملک میں امن و امان کا قیام ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ بعض لوگوں کو ان کی باتیں پسند نہیں آئیں گی اور وہ تنقید بھی کریں گے، لیکن حقائق کو بالآخر تسلیم کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق اس وقت ملک کی ضرورت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی جائے۔
’عمران خان سے ملاقات پر ڈیڈ لاک ہے‘
رکن قومی اسمبلی نے کہاکہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو دوبارہ مذاکرات کی پیشکش کی لیکن عمران خان سے ملاقات کرانے کے معاملے پر ڈیڈ لاک موجود ہے۔ ان کے بقول عمران خان سے ملاقات کرانے پر کوئی مالی خرچ نہیں آتا، اس لیے اس معاملے کو غیرضروری طور پر طول دینے کے بجائے آگے بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو قومی ٹیلی وژن پر آکر یہ کہنا چاہیے کہ وہ دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں۔ چاہے انہیں جو بھی کہا جائے، وہ دہشتگردی کے خلاف بات کریں، کیونکہ دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنا ضروری ہے۔
بابر نواز خان نے کہاکہ دہشتگردی کے معاملے پر ایک پیج پر آئے بغیر کسی قسم کے مذاکرات ممکن نہیں۔ یہ معاملہ عمران خان کی رہائی سے متعلق نہیں اور نہ ہی اس کا کسی دوسرے مطالبے سے تعلق ہے، بلکہ بنیادی مسئلہ دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنا ہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کی تقریروں اور احتجاجی بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تقریریں پہلے بھی بہت سنی جا چکی ہیں اور آئندہ بھی سننے کو ملیں گی، لیکن جب تک دہشتگردی کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار نہیں کیا جاتا، بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔
’عمران خان کی صحت اور سیکیورٹی حکومت کی ترجیح ہے‘
عمران خان کی طبی سہولیات کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے بابر نواز خان نے کہا کہ ان کی صحت اور سیکیورٹی حکومت کی ترجیح ہے اور یہ جیل مینوئل کے تحت اس کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب حکومت کو محسوس ہوا کہ عمران خان کا علاج ایسے ڈاکٹر سے کرایا جانا چاہیے جو پاکستان اور یورپ میں پریکٹس کرتا رہا ہو تو اس سے بھی ان کا معائنہ کرایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے علم میں ایسا نہیں کہ حکومت کے کسی وزیر نے اس معاملے پر کوئی مختلف مؤقف اختیار کیا ہو۔
مزید پڑھیں: گورنر راج پورے صوبے میں نافذ ہوگا، ایمرجنسی شاید کچھ اضلاع میں لگے، فیصل کریم کنڈی
بابر نواز خان نے کہاکہ عمران خان ایک مخصوص طبقے اور سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، اس لیے ان کی صحت اور سیکیورٹی کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان کے لیے عمران خان بھی اتنے ہی قابل احترام ہیں جتنے نواز شریف، تاہم سیاست اپنی جگہ اور ملک و قوم کی بقا اپنی جگہ ہے۔













