خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی: دہشتگردی کے بڑھتے خطرات اور سیکیورٹی نظام کے چیلنجز

اتوار 11 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات اور امن و امان کی بگڑتی صورتِ حال کے تناظر میں ایمرجنسی کا نفاذ صوبے کو درپیش سنگین سکیورٹی چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔ اس اقدام کے پس منظر میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافے، پولیس اور انسدادِ دہشتگردی کے نظام کو درپیش مشکلات اور صوبائی حکومت کی حکمتِ عملی پر اٹھائے جانے والے سوالات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا میں 13 سالہ دہشتگردی اور عوام کی قربانیاں

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2024 سے ستمبر 2026 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2026 میں ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے 3 ہزار 145 حملوں میں سے ایک ہزار 971 خیبر پختونخوا میں ہوئے۔ اسی عرصے میں پولیس پر ڈرون حملوں اور دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد کے استعمال میں اضافے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں پولیس پر 170 ڈرون حملے ہوئے، جبکہ ستمبر تک 159 آئی ای ڈی حملے رپورٹ کیے گئے۔ ان 73 فیصد حملوں کا ہدف پولیس اور سیکیورٹی فورسز تھیں۔

یہ صورتِحال صوبے میں پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشتگردی کی استعداد بڑھانے کی ضرورت کو نمایاں کرتی ہے۔ گزشتہ 10 برس میں دہشتگردی کے خلاف اقدامات کے لیے 800 ارب روپے فراہم کیے گئے، لیکن پولیس میں 9 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں۔

جنوبی اضلاع میں بکتر بند گاڑیوں، جدید ہتھیاروں، نائٹ وژن آلات اور نگرانی کے نظام کی کمی کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ سیف سٹی منصوبہ صرف پشاور تک محدود ہے، جس کے باعث دیگر حساس علاقوں میں نگرانی اور فوری ردعمل کی صلاحیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

دہشتگردی کے اثرات محض اعداد و شمار تک محدود نہیں۔ جنوبی وزیرستان میں بچوں کی ہلاکتوں اور تعلیمی اداروں و ایمبولینسوں کو نقصان پہنچنے کے واقعات، باجوڑ میں ڈرون حملے میں 2 بچوں کی ہلاکت اور لکی مروت میں مسجد کے قریب ایک بچے کی موت جیسے واقعات نے شہریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھائے ہیں۔

ایسے حالات میں ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ شہریوں، بالخصوص بچوں، تعلیمی اداروں اور طبی سہولتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

صوبے میں دہشتگردی سے نمٹنے کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ وفاقی سطح پر صوبائی حکومت کی ترجیحات اور انسدادِ دہشتگردی کے لیے اس کے کردار پر تنقید کی جاتی رہی ہے، جبکہ صوبے میں امن کی بحالی کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں حملے اور دہشتگردی کے ذمہ دار عناصر کے خلاف واضح مؤقف نہ اپنانے کا معاملہ بھی اس بحث کا حصہ ہے۔

ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اصل امتحان اس اقدام کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کا ہوگا۔ پولیس اور سی ٹی ڈی کو مطلوبہ وسائل، جدید آلات اور تربیت فراہم کرنا، حساس اضلاع میں نگرانی کا نظام بہتر بنانا، خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائیوں کو مربوط کرنا اور دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنا ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ شہری آزادیوں، آئینی تقاضوں اور عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں:گورنر خیبر پختونخوا کا صدارتی اعلان کا خیرمقدم، عوام سے قانون ہاتھ میں نہ لینے کی اپیل

خیبر پختونخوا کے عوام طویل عرصے سے بدامنی اور دہشتگردی کے اثرات برداشت کر رہے ہیں۔ ایمرجنسی کی کامیابی کا معیار محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، پولیس کی استعداد میں بہتری، تعلیمی اداروں کا امن اور معمولاتِ زندگی کی بحالی ہونا چاہیے۔

صوبے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب وفاقی اور صوبائی ادارے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک واضح، مربوط اور جواب دہ حکمتِ عملی پر عمل کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp