مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا غیر منضبط استعمال ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے اور آئندہ سال اے آئی کی مدد سے کیے جانے والے سائبر حملوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بل گیٹس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے بے قابو ہو جانے کا بڑا خطرہ ابھی کئی سال دور ہے، تاہم فوری تشویش یہ ہے کہ جرائم پیشہ عناصر موجودہ اے آئی نظاموں کو حفاظتی اقدامات کے بغیر اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت خطرہ یا ٹیکنالوجی کا انقلاب، اقوام عالم اسے ریگولیٹ کیوں کرنا چاہتی ہیں؟
بل گیٹس کے مطابق، آئندہ سال جس شعبے میں مصنوعی ذہانت کے منفی اثرات سب سے زیادہ نمایاں ہونے کا امکان ہے، وہ سائبر حملوں کا شعبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ فی الحال اصل خطرہ مصنوعی ذہانت کا خود قابو سے باہر ہونا نہیں، بلکہ ایسے افراد کا اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال ہے جو اس کے حفاظتی نظاموں کو ہٹا سکتے ہیں۔
Microsoft co-founder Bill Gates has warned that unregulated artificial intelligence could drive a surge in cyberattacks over the next year.https://t.co/Ob5sRQ2uwx
— News Central TV (@NewsCentralTV) October 11, 2026
ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کے ممکنہ طویل المدتی خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی کام کرنا ضروری ہے، تاہم فوری طور پر ان عناصر کی روک تھام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو اس ٹیکنالوجی کو نقصان دہ مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
مائیکروسافٹ کے شریک بانی نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے حفاظتی اقدامات کو ختم کرنے اور اس کے جدید ترین ماڈلز تک غیر محفوظ رسائی کو روکنے کے لیے مزید پابندیوں اور مؤثر ضوابط کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کا نیا خطرہ، ’کلاڈ‘ نے اوپن اے آئی کا سسٹم ہیک کرلیا
ان کے مطابق، جب جدید اے آئی ماڈلز کو حفاظتی رکاوٹوں کے بغیر استعمال کیا جائے اور وہ غلط عناصر کے ہاتھ لگ جائیں تو بالخصوص سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں آئندہ سال کئی سنگین اور غیر متوقع مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔
بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے حیاتیاتی دہشتگردی اور سائبر حملوں کے ممکنہ خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات اور ضابطہ کاری ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت انسانیت کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، برنی سینڈرز کی وارننگ
اس سے قبل اگست میں بل گیٹس نے ایک تفصیلی تحریر میں بھی خبردار کیا تھا کہ دنیا مصنوعی ذہانت کے باعث آنے والی بڑی تبدیلیوں، خصوصاً روزگار کے شعبے پر مرتب ہونے والے اثرات، سے نمٹنے کے لیے مناسب طور پر تیار نہیں۔
بل گیٹس ان ٹیکنالوجی ماہرین اور صنعت سے وابستہ نمایاں شخصیات میں شامل ہیں جو مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
اے بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے اس تصور کو بھی مسترد کیا کہ اے آئی کمپنیاں صرف اپنی رضاکارانہ کوششوں اور خود ضابطہ کاری کے ذریعے دنیا کو ان خطرات سے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔














