دنیا بھر میں 2024 کے دوران کینسر کے سامنے آنے والے نئے کیسز میں سے تقریباً 12 فیصد کا تعلق مختلف انفیکشنز سے تھا۔
عالمی ادارۂ صحت کے کینسر سے متعلق تحقیقی ادارے کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق، اس عرصے میں تقریباً 23 لاکھ نئے کیسز انفیکشنز کے باعث سامنے آئے۔ تحقیق کے نتائج 28 ستمبر 2026 کو طبی جریدے ‘دی لینسٹ آنکولوجی’ میں آن لائن شائع ہوئے، جبکہ عالمی ادارے نے 29 ستمبر کو انہیں جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں خود بھی چھاتی کے کینسر کا شکار رہ چکی ہوں، بروقت تشخیص نے علاج میں مدد دی، امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر
تحقیق میں 12 ایسے جراثیم اور وائرس کا جائزہ لیا گیا جنہیں کینسر کا سبب بننے والے عوامل میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان میں ہیومن پیپیلوما وائرس، معدے میں پائے جانے والے بیکٹیریا ہیلیکوبیکٹر پائلوری، ہیپاٹائٹس بی اور سی کے وائرس، ایپسٹین بار وائرس اور ایچ آئی وی شامل ہیں۔
View this post on Instagram
تحقیق کے مطابق ہیلیکوبیکٹر پائلوری کے انفیکشن کا تعلق تقریباً 7 لاکھ 60 ہزار کینسر کیسز سے سامنے آیا، جبکہ ہیومن پیپیلوما وائرس تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار کیسز سے منسلک تھا۔ ہیپاٹائٹس بی کے باعث تقریباً 3 لاکھ 60 ہزار، ایپسٹین بار وائرس کے باعث 2 لاکھ 60 ہزار اور ہیپاٹائٹس سی کے باعث تقریباً 1 لاکھ 60 ہزار کیسز سامنے آنے کا تخمینہ لگایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مردوں میں وائی کروموسوم کا ختم ہونا کینسر کی ابتدائی علامت ہوسکتا ہے
ماہرین کے مطابق بعض انفیکشنز جسم کے خلیوں میں تبدیلیوں، مسلسل سوزش یا مدافعتی نظام کو کمزور کرکے کینسر کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ تاہم کسی انفیکشن سے متاثر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ لازماً کینسر بھی ہوگا۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ویکسینیشن، بروقت تشخیص اور علاج کے ذریعے انفیکشنز سے منسلک کینسر کے کئی کیسز سے بچا جاسکتا ہے۔ ہیومن پیپیلوما وائرس اور ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کی ویکسین، جبکہ بعض انفیکشنز کی جانچ اور علاج اس سلسلے میں اہم اقدامات ہیں۔














