مریخ پر ناسا کی گاڑی نے  45.2 کلومیٹر فاصلہ طے کرکے نیا ریکارڈ قائم کردیا

منگل 13 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی خلائی ادارے ناسا کی روبوٹک گاڑی پرسیورینس نے زمین کے علاوہ کسی بھی سیارے پر گاڑی چلانے کا سابقہ ریکارڈ توڑ دیا، 2021 میں مریخ پر پہنچنے کے بعد اب تک 45.2  کلومیٹر کا فاصلہ طے کرچکی ہے۔

 ناسا کے مطابق 6 پہیوں پر مشتمل گاڑی نے اپنے مشن کے ساڑھے 5 سال بعد یہ سنگ میل عبور کیا۔ اس مشن کا مقصد یہ جاننا ہے کہ آیا مریخ پر کبھی ایسے حالات موجود تھے جو خردبینی زندگی کے لیے سازگار ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: مریخ پر کس تعمیراتی مواد  سے گھر بنائے جائیں گے؟

پرسیورینس نے ناسا کی سابقہ گاڑی آپرچیونٹی کا ریکارڈ توڑا ہے، جس نے 2004 سے 2018 کے دوران مریخ کی سطح پر 45 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا۔ دونوں گاڑیوں نے چاند پر چلنے والی گاڑیوں کے سفری ریکارڈز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے اسٹیون لی کے مطابق پرسیورینس کے انجینیئرنگ آلات اور سائنسی نظام بہترین حالت میں ہیں اور اس کے متبادل نظام بھی فعال ہیں۔ تمام نظاموں کے حالیہ جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ گاڑی 2030 کی دہائی میں بھی کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ممکنہ طور پر اس سے آگے بھی اپنا مشن جاری رکھ سکتی ہے۔

مریخ کے قدیم علاقے کی کھوج

پرسیورینس مریخ کے شمالی نصف کرّے میں واقع جیزیرو گڑھے پر تحقیق کررہی ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اربوں سال پہلے یہ علاقہ پانی سے بھر گیا تھا اور یہاں ایک جھیل موجود تھی۔

 

گاڑی نے یہ ریکارڈ آئیڈوبی نامی علاقے کی جانب سفر کے دوران قائم کیا۔ یہ راستہ جیزیرو گڑھے کے مغربی کنارے کے قریب واقع لاک دے شارم نامی علاقے سے گزرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مریخ پر طلوعِ آفتاب کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ ناسا کے کیوریوسٹی روور نے نئی تاریخی تصویر جاری کر دی

ناسا کی دوسری تحقیقی گاڑی کیوریوسٹی مریخ کے خط استوا کے قریب واقع گیل گڑھے میں تحقیق کررہی ہے۔

اسٹیون لی کے مطابق پرسیورینس کی رفتار میں کمی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ اس کے سفری نظام کو آزمایا جارہا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ گاڑی 100 کلومیٹر یا اس سے زیادہ فاصلہ طے کرسکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے اس کے آلات کو 150 سے 300 کلومیٹر کے مساوی فاصلے تک کام کرنے کے لیے بھی جانچا جائے گا۔

90 فیصد سفر خودکار نظام کے تحت

ناسا نے پرسیورینس کی کامیابی میں اس کے خودکار ڈرائیونگ نظام آٹو نیو کو اہم قرار دیا ہے۔ اسٹیون لی کے مطابق گاڑی اپنے تقریباً 90 فیصد سفر کے دوران انسانی مداخلت کے بغیر خود راستہ منتخب کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پرسیورینس اپنے سامنے موجود علاقے کی سہ جہتی تصاویر بناتی ہے، ان کی مدد سے کمپیوٹر پر علاقے کا سہ جہتی نقشہ تیار کرتی ہے اور منزل کی جانب جانے کے لیے محفوظ ترین راستے کا انتخاب کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مریخ پر زندگی کس جگہ تلاش کی جائے؟ ’شیطان کیڑے‘ نے سائنسدانوں کو نیا اشارہ دے دیا

گاڑی میں نصب ویژن کمپیوٹ ایلیمنٹ نامی تیز رفتار معاون کمپیوٹر اسے تصاویر کا تجزیہ کرنے اور خودکار ڈرائیونگ کے سافٹ ویئر کو تیزی سے چلانے میں مدد دیتا ہے۔ اس طرح گاڑی سفر کے دوران تقریباً مسلسل اپنے راستے کا جائزہ لے سکتی ہے۔

اس کے برعکس، سابقہ تحقیقی گاڑیوں کو سفر کے ہر مرحلے سے پہلے حساب کتاب کرنے کے لیے رکنا پڑتا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp