موبائل سگنل نہ ہوں تب بھی فون کال ممکن، پاکستانی وائی فائی کالنگ کیسے استعمال کریں؟

بدھ 14 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

موبائل فون پر سگنل نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اب آپ کسی کو فون نہیں کرسکتے۔ اگر گھر، دفتر یا تہہ خانے میں موبائل نیٹ ورک دستیاب نہ ہو لیکن وائی فائی چل رہا ہو تو ایک خاص ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے ہی موبائل نمبر سے کال اور ایس ایم ایس بھیجنا ممکن ہے۔ اس سہولت کو وائی فائی کالنگ کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے موبائل ٹاور کے سگنلز کے بغیر بھی رابطہ برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بھی اس ٹیکنالوجی سے متعلق عوامی آگاہی فراہم کی ہے۔ تاہم اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ صارف کا موبائل فون، سم اور موبائل آپریٹر اس ٹیکنالوجی کو سپورٹ کرتے ہوں۔

وائی فائی کالنگ کیا ہے اور کیسے کام کرتی ہے؟

وائی فائی کالنگ کو تکنیکی زبان میں ‘وائس اوور وائی فائی’ (VoWiFi) کہا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے موبائل فون آپریٹر کی وائس کال سروس کو وائی فائی نیٹ ورک کے ذریعے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

عام طور پر جب آپ کسی کو فون کرتے ہیں تو آپ کا موبائل فون قریبی ٹاور سے رابطہ کرتا ہے۔ ٹاور کال کو موبائل کمپنی کے نیٹ ورک تک پہنچاتا ہے، جہاں سے وہ مطلوبہ شخص کے فون تک منتقل ہوتی ہے۔ لیکن اگر آپ کسی ایسی جگہ موجود ہوں جہاں موبائل سگنل نہ آرہے ہوں تو عام طریقے سے کال کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جاز نے 5جی نیٹ ورک 10 شہروں تک پھیلا دیا، رواں سال کا ہدف کیا ہے؟

وائی فائی کالنگ میں اس عمل کا آغاز موبائل ٹاور کے بجائے وائی فائی نیٹ ورک سے ہوتا ہے۔ آپ کے فون سے کال کا ڈیٹا وائی فائی اور انٹرنیٹ کے ذریعے موبائل آپریٹر کے نظام تک پہنچتا ہے۔ آپریٹر آپ کے موبائل نمبر کی شناخت کرکے کال کو مطلوبہ شخص تک پہنچا دیتا ہے۔

انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشنز ٹیکنالوجی کے ماہر پرویز افتخار کے مطابق اس عمل کے دوران صارف کا وہی موبائل نمبر استعمال ہوتا ہے جو اس کی سم کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ دوسری جانب کال وصول کرنے والے شخص کو یہ معلوم ہونا بھی ضروری نہیں کہ کال موبائل ٹاور کے بجائے وائی فائی کے ذریعے کی گئی ہے۔

وائی فائی کالنگ اور واٹس ایپ کال میں کیا فرق ہے؟

بظاہر دونوں سہولتوں میں انٹرنیٹ استعمال ہوتا ہے، لیکن ان کے طریقۂ کار میں بنیادی فرق ہے۔

وائی فائی کالنگ موبائل آپریٹر کی اپنی کال سروس ہے، جبکہ واٹس ایپ، ٹیلی گرام اور دیگر ایپس کے ذریعے ہونے والی کالیں متعلقہ ایپ کے انٹرنیٹ نظام کے تحت کی جاتی ہیں۔

وائی فائی کالنگ کے لیے کال کرنے والے صارف کو اپنا معمول کا موبائل نمبر ہی استعمال کرنا ہوتا ہے۔ وہ ایسے شخص کو بھی کال کرسکتا ہے جو واٹس ایپ یا کسی دوسری انٹرنیٹ کالنگ ایپ کا صارف نہ ہو۔ حتیٰ کہ لینڈ لائن نمبر پر بھی کال کی جاسکتی ہے، بشرطیکہ موبائل آپریٹر کی سروس اور متعلقہ کنکشن اس کی اجازت دیتے ہوں۔

اس کے برعکس واٹس ایپ یا دیگر ایپس کے ذریعے کال کرنے کے لیے عموماً ضروری ہوتا ہے کہ دونوں جانب متعلقہ ایپ استعمال کی جارہی ہو۔

پاکستان میں وائی فائی کالنگ استعمال کرنے کے لیے کیا ضروری ہے؟

پاکستانی موبائل آپریٹرز کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ سہولت استعمال کرنے کے لیے چند تکنیکی شرائط پوری ہونا ضروری ہیں۔

آپ کا موبائل فون وائی فائی کالنگ یعنی VoWiFi کو سپورٹ کرتا ہو۔

فون اور موبائل آپریٹر میں ضروری مطابقت موجود ہو اور VoLTE کی سہولت بھی دستیاب ہو۔

آپ کی سم فور جی ایل ٹی ای نیٹ ورک کے مطابق ہو۔

آپ کے پاس مناسب بیلنس یا کال اور ایس ایم ایس کا فعال پیکج موجود ہو۔

جاز کے مطابق سام سنگ، اوپو، ویوو اور ڈیجٹ کے متعدد فون ماڈلز پر اس سہولت کی آزمائش کی جاچکی ہے۔ زونگ کے مطابق بھی بہت سے جدید اسمارٹ فونز وائی فائی کالنگ کو سپورٹ کرتے ہیں، جن میں سام سنگ، ایپل، ہواوے اور شاؤمی کے فون شامل ہیں۔ تاہم ہر فون ماڈل اور ہر موبائل آپریٹر پر اس سہولت کی دستیابی یکساں نہیں ہوتی۔

فور جی، ایل ٹی ای اور وولٹے کیا ہیں؟

وائی فائی کالنگ کو سمجھنے کے لیے ان اصطلاحات کا فرق جاننا بھی ضروری ہے۔

ایل ٹی ای (LTE) کا پورا نام ‘لانگ ٹرم ایوولوشن’ ہے اور اسے عام طور پر فور جی ٹیکنالوجی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جب فون پر فور جی یا ایل ٹی ای کا نشان ظاہر ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ فون اس نیٹ ورک کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کررہا ہے۔

وولٹے (VoLTE) کا مطلب ‘وائس اوور ایل ٹی ای’ ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے فون کال فور جی نیٹ ورک پر کی جاسکتی ہے، جس سے آواز کا معیار بہتر ہوسکتا ہے اور کال کے دوران فون کو پرانے نیٹ ورک پر منتقل ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

وائی فائی کالنگ میں فون وائی فائی نیٹ ورک استعمال کرتا ہے، لیکن موبائل آپریٹر کی کال سروس تک رسائی کے لیے فون اور نیٹ ورک کا متعلقہ ٹیکنالوجیز سے مطابقت رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

موبائل فون میں وائی فائی کالنگ کیسے فعال کریں؟

اگر آپ کا فون اس سہولت کو سپورٹ کرتا ہے تو اسے فون کی سیٹنگز میں جاکر فعال کیا جاسکتا ہے۔

اینڈرائیڈ فون استعمال کرنے والے سیٹنگز میں ‘کنیکشنز’ یا ‘سم سیٹنگز’ کے اندر وائی فائی کالنگ کا آپشن تلاش کریں۔ مختلف کمپنیوں کے فونز میں اس آپشن کی جگہ مختلف ہوسکتی ہے۔

آئی فون استعمال کرنے والے سیٹنگز میں جاکر ‘سیلولر’ یا ‘موبائل سروس’ کے آپشن پر جائیں اور وہاں وائی فائی کالنگ کو فعال کریں۔

یہ بھی پڑھیں: جہاز پر اسٹار لنک فری وائی فائی کی سروس شروع، کتنا تیز انٹرنیٹ میسر ہوگا؟

فیچر فعال ہونے کے بعد جب موبائل سگنل کمزور ہوں یا دستیاب نہ ہوں تو فون، دستیاب وائی فائی نیٹ ورک کے ذریعے کال اور ایس ایم ایس کی سہولت استعمال کرسکتا ہے، بشرطیکہ موبائل آپریٹر کی جانب سے یہ سروس فراہم کی جارہی ہو۔

اگر فون کی سیٹنگز میں یہ آپشن موجود نہ ہو یا اسے فعال کرنے میں دشواری پیش آئے تو پی ٹی اے کی ہدایت کے مطابق اپنے موبائل آپریٹر سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

کیا وائی فائی کالنگ کے اضافی پیسے دینا پڑتے ہیں؟

موبائل آپریٹرز کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق وائی فائی کالنگ کے لیے الگ سے اضافی فیس وصول نہیں کی جاتی، بلکہ عام موبائل کال یا ایس ایم ایس کے مقررہ نرخ لاگو ہوتے ہیں۔ اس لیے کال کرنے سے پہلے اپنے موجودہ پیکج اور آپریٹر کی شرائط جان لینا بہتر ہے۔

مختصر یہ کہ وائی فائی کالنگ موبائل ٹاور کے سگنلز پر انحصار کم کرکے رابطے کا متبادل راستہ فراہم کرتی ہے۔ جہاں موبائل نیٹ ورک کمزور ہو لیکن وائی فائی دستیاب ہو، وہاں یہ سہولت مفید ثابت ہوسکتی ہے، تاہم اس کے لیے موزوں فون، سم اور موبائل آپریٹر کی معاونت ضروری ہے۔

ابتدائی اقدامات میں ٹھنڈا پانی یا نمکیات والا مشروب تھوڑا تھوڑا پینا، اضافی کپڑے ڈھیلے کرنا یا اتارنا، آرام کرنا، ٹھنڈے پانی سے نہانا اور پیشانی پر ٹھنڈا گیلا کپڑا رکھنا شامل ہیں۔ بغلوں اور رانوں کے جوڑ کے قریب برف کی تھیلی یا ٹھنڈی پٹیاں رکھنے اور پنکھے سے جسم کو ٹھنڈا کرنے سے بھی مدد مل سکتی ہے۔

کلائیوں کو تقریباً 60 سیکنڈ تک ٹھنڈے پانی کے نیچے رکھنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔ علامات ختم ہونے تک جسمانی سرگرمی دوبارہ شروع نہیں کرنی چاہیے۔

اگر ہیٹ اسٹروک کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ آرام اور ابتدائی دیکھ بھال کے باوجود ایک گھنٹے میں علامات بہتر نہ ہوں تو بھی طبی معائنہ کرانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp