آٹا، چکن، دالیں، پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی، شارٹ ٹرم مہنگائی بڑھ کر 11.38 فیصد ہو گئی

جمعہ 16 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جمعہ کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 15 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران شارٹ ٹرم مہنگائی بڑھ کر 11.38 فیصد سالانہ ہو گئی ہے۔

مہنگائی میں اس اضافے کی بڑی وجہ خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں جس نے شہریوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس ہفتے مانیٹر کی جانے والی 51 ضروری اشیا میں سے 23 اشیا یعنی 45.10 فیصد کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:آٹے اور ایندھن میں مسلسل اضافہ، مہنگائی کی شرح 11.97 فیصد تک پہنچ گئی

جبکہ 7 اشیا یعنی 13.72 فیصد کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی اور 21 اشیاء یعنی 41.18 فیصد کی قیمتیں پچھلے ہفتے کے مقابلے میں مستحکم رہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شارٹ ٹرم مہنگائی مسلسل کئی ہفتوں سے ڈبل ڈیجیٹ یعنی دہرے ہندسے میں برقرار ہے۔

اس دوران حساس قیمت اشاریہ جو مختصر مدت کی مہنگائی کا احاطہ کرتا ہے، ہفتہ وار بنیادوں پر معمولی طور پر 0.04 فیصد کم ہوا جو خوراک اور غیر خوراک اشیا کے اتار چڑھاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔

کاسٹ پش انفلیشن اور توانائی کا بحران

حکومت کی طرف سے پیٹرولیم لیوی میں نرمی نہ کرنے کی وجہ سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔

توانائی کی لاگت میں ہونے والا یہ اضافہ نہ صرف مہنگائی کے دباؤ کو ہوا دے رہا ہے بلکہ اشیا اور خدمات کی بلند قیمتوں کے ذریعے سیلز ٹیکس کی وصولی میں بھی غیر ملکی اور ملکی سطح پر اضافہ کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں:ستمبر میں مہنگائی کی شرح کم، خوراک سستی، مگر بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ

یہ بنیادی طور پر کاسٹ پش انفلیشن ہے، جہاں توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت کے بعد خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں عام گھرانے مہنگے صارف نرخوں کے دباؤ تلے دبے ہوئے ہیں۔

یہ انڈیکس 51 اشیا پر مشتمل ہے جن کی قیمتیں 17 شہروں کے 50 بازاروں سے اکٹھی کی جاتی ہیں اور ضروری اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں تبدیلی کو ٹریک کرنے کے لیے اسے ہفتہ وار حساب سے تیار کیا جاتا ہے۔

ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگی ہونے والی اشیا

گزشتہ ہفتے کے دوران جن اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ان میں دال چنا 4.97 فیصد، آٹا 3.36 فیصد، چکن 3.31 فیصد، انڈے 0.99 فیصد، دال ماش 0.98 فیصد، دال مسور 0.95 فیصد، جلانے والی لکڑی 0.69 فیصد، شرٹنگ 0.58 فیصد، پکائی ہوئی دال 0.55 فیصد، ڈیزل 0.47 فیصد، ایل پی جی 0.42 فیصد اور تیار چائے 0.28 فیصد شامل ہیں۔

ہفتہ وار بنیادوں پر سستی ہونے والی اشیا

اس کے مقابلے میں ہفتہ وار بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ان میں ٹماٹر 23.05 فیصد، پیاز 4.90 فیصد، کیلے 2.59 فیصد، پٹرول 0.70 فیصد، باسمتی ٹ ٹوٹا چاول 0.65 فیصد، چینی 0.62 فیصد اور گڑ 0.36 فیصد سستا ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی معاشی شرح نمو اور مہنگائی کے بارے میں نئی پیشگوئی کردی

سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کا تفصیلی جائزہ

سالانہ بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ ہولناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ان میں پیاز 75.19 فیصد، ایل پی جی 68.95 فیصد، پہلی سہ ماہی کی بجلی 58.59 فیصد، پٹرول 49.60 فیصد، ڈیزل 43.98 فیصد، آٹا 35.13 فیصد، چکن 20.77 فیصد، مرچ پاؤڈر 15.55 فیصد، بڑا گوشت یعنی بیف 14.90 فیصد، چھوٹا گوشت یعنی مٹن 12.27 فیصد، سادہ ڈبل روٹی 9.02 فیصد اور تیار چائے 8.36 فیصد مہنگی ہوئی ہیں۔

سالانہ بنیادوں پر سستی ہونے والی اشیا

اس کے برعکس سالانہ بنیادوں پر ٹماٹر کی قیمتوں میں 63.65 فیصد کی بڑی کمی ہوئی، اس کے بعد آلو 39.93 فیصد، چینی 23.20 فیصد، انڈے 19.83 فیصد، نمک پاؤڈر 14.86 فیصد، دال مسور 8.97 فیصد، گڑ 8.92 فیصد اور دال مونگ 7.83 فیصد سستی ہوئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دہشتگردوں کو بھتہ اور حکومتی فنڈز دے کر پی ٹی آئی حکومت منفی کردار ادا کر رہی تھی، خواجہ آصف

سانحہ دیر کالونی اسکول : خیبرپختونخوا میں نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت کے لیے نئے قواعد بنانے کا حکم

مولانا فضل الرحمان جیسے سینیئر سیاستدان سے دہشتگردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی، مریم نواز

’تم کہاں ہو؟‘ پوچھنے اور لوکیشن بھیجنے کا طریقہ سمجھانے کی جھنجھٹ ختم، واٹس ایپ کا نیا فیچر آگیا

پیار اور دوستی کی لازوال کہانی، ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ فلم کے 28 سال مکمل، کرن جوہر نے یادیں تازہ کردیں

ویڈیو

دیر کالونی اسکول سانحہ: 7 روز میں انکوائری رپورٹ طلب، این او سی اور نقشے کی منظوری دینے والوں کا تعین ہوگا، عامر عبداللہ

ہمارے پھول جیسے بچے شہید ہوئے، مائیں ماننے کو بھی تیار نہیں ـ پشاور اسکول سانحے پر ہر آنکھ اشکبار

پھولوں کے شہر میں پھولوں کے جنازے، کے پی ایمرجنسی میں توسیع، بڑا فیصلہ

کالم / تجزیہ

پشاور میں چھت نہیں، حکومتی نظام گرا ہے

دو قومیں، دو نسلیں

ایمرجنسی کے بعد تحریک انصاف کیا کرے؟