دہشتگردوں کو بھتہ اور حکومتی فنڈز دے کر پی ٹی آئی حکومت منفی کردار ادا کر رہی تھی، خواجہ آصف

جمعہ 16 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بالکل تعاون نہیں کر رہی تھی، یہی وجہ ہے کہ صوبے میں دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ پی ٹی آئی حکومت دہشتگردوں کو بھتہ اور حکومتی فنڈز سے پیسے دے کر منفی کردار ادا کر رہی تھی۔

پی ٹی آئی حکومت کے 3 سال میں 2900، سہیل آفریدی کے ڈیڑھ سال میں 3900 شہادتیں ہوئیں

وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے گزشتہ 3 سال کے دوران 2900 شہادتیں ہوئیں، جبکہ سہیل آفریدی کے ڈیڑھ سالہ دور میں 3900 شہادتیں ہوئی ہیں۔ ان کے بقول، ان اعداد و شمار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پی ٹی آئی کا کیا کردار رہا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اب خیبرپختونخوا حکومت اور وفاق ایک پیج پر ہیں، دونوں کا ایک ہی مقصد ہوگا کہ صوبے کو دہشت گردی سے نجات دلائی جائے۔ ملک اور صوبے میں امن کا قیام ہماری پہلی ترجیح ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کا رخ کسی اور طرف تھا، جبکہ وفاقی حکومت کا مطمح نظر کچھ اور تھا، جس کی وجہ سے صوبے کے حالات بہت خراب تھے۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی ایک شخص کی سیاست کر رہی تھی اور اس کی سیاست اول و آخر ایک ہی شخص کے گرد گھومتی تھی۔

وزیر دفاع نے کہا کہ صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود، ترقی اور دہشت گردی کا خاتمہ پی ٹی آئی حکومت کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا کوئی پیشگی منصوبہ نہیں تھا بلکہ یہ تمام آپشنز ناکام ہونے کی صورت میں آخری راستہ تھا۔ ان کے مطابق کسی بھی معاملے میں پہلے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس کے بعد دیگر راستے اختیار کیے جاتے ہیں۔ اگر سیدھی انگلیوں سے گھی نہ نکلے تو ٹیڑھی انگلیاں استعمال کرنا پڑتی ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں فوج، پولیس اور دیگر ادارے جب کسی علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرتے ہیں تو اس کے بعد وہاں امن برقرار رکھنے اور حکومتی عمل داری مستحکم کرنے کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہوتی ہے۔ اگر صفائی کے بعد علاقے کو مستحکم نہ کیا جائے تو دہشت گرد دوبارہ واپس آ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے بعد علاقے میں حکومتی عمل داری مستحکم کرنا اور امن برقرار رکھنا ضروری ہے۔

وفاقی حکومت نے آخری وقت تک مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی

خواجہ آصف نے کہا کہ وفاقی حکومت نے آخری وقت تک مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی رات 12 بجے تک اس امید پر کوششیں کرتے رہے کہ کوئی مثبت جواب مل جائے۔ اگر خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے تعاون کرنے پر آمادہ ہوتی تو شاید ان اقدامات کی ضرورت پیش نہ آتی۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کے پاس ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے متبادل منصوبہ موجود ہوتا ہے۔ پہلے مذاکرات اور بات چیت کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن اگر یہ کوششیں ناکام ہو جائیں تو پھر آخری آپشن اختیار کرنا پڑتا ہے۔ ان کے بقول یہ کہنا درست نہیں کہ گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ پہلے ہی کر لیا گیا تھا، بلکہ حالات کے مطابق مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا تھا۔

میزبان کی جانب سے سوال کیا گیا کہ اگر گورنر راج کا فیصلہ پہلے سے طے نہیں تھا تو فیصل واوڈا کئی ماہ قبل اس کی پیش گوئی کیسے کر رہے تھے؟ اس پر خواجہ آصف نے کہا کہ وہ فیصل واوڈا کے بیان پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ اگر انہیں اس بارے میں کوئی علم تھا یا ان کی اپنی کوئی رائے تھی تو وہ اس پر کریڈٹ لینے میں آزاد ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے نزدیک حالات کے مطابق مختلف آپشنز زیر غور تھے اور مذاکرات کی ناکامی کے بعد ہی آخری راستہ اختیار کیا گیا۔

لانگ مارچ اور مذاکرات کے معاملے پر خواجہ آصف نے کہا کہ وفاقی حکومت کے لیے لانگ مارچ بنیادی مسئلہ نہیں تھا بلکہ قومی سلامتی اولین ترجیح تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری سنجیدگی اور یکسوئی کے ساتھ تعاون کرتی تو وفاقی حکومت اسے اپنا مخالف بنانے کی کوئی وجہ نہیں رکھتی تھی۔

تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کرتی تو اسے مخالف فریق بنانے کی کوئی وجہ نہیں تھی

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑی ہوتی تو حکومت اسے مخالف فریق بنانے کے بجائے اپنا اتحادی سمجھتی۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون نہ کرنے سے متعلق بیانات سیاسی بیان بازی کے علاوہ کچھ نہیں، کیونکہ وفاقی حکومت کی ترجیح ملک میں امن قائم کرنا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت کے مختلف رہنماؤں کے مؤقف میں بھی فرق تھا۔ اسلام آباد میں موجود لوگ مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالنا چاہتے تھے، جبکہ پشاور میں بیٹھے رہنما اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے تھے۔ ان کے بقول دونوں جانب کی سوچ میں زمین آسمان کا فرق تھا اور آخری وقت تک پشاور کی قیادت اپنے مطالبات پر مصر رہی۔

انہوں نے کہا کہ بعض رہنما آخری وقت تک انتہائی پُراعتماد انداز میں باتیں کرتے رہے، لیکن حالات ان کے دعوؤں کے مطابق نہیں بدلے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ وہ دوسروں کے بیانات پر زیادہ تبصرہ نہیں کرنا چاہتے، تاہم ان کے مطابق مذاکرات کے دوران مختلف راستے اختیار کرنے کی کوشش کی گئی اور بالآخر ناکامی کی صورت میں متبادل اقدامات کرنا پڑے۔

عمران خان، سہیل آفریدی اور مراد سعید کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا

میزبان نے سوال کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد پہلے عمران خان، پھر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور اب مراد سعید کو صورت حال کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے، اس حوالے سے کیا شواہد موجود ہیں؟ اس پر خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان، سہیل آفریدی اور مراد سعید کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے بقول یہ ایک ہی سیاسی سلسلے کے مختلف کردار ہیں اور سہیل آفریدی کو مراد سعید کا نامزد کردہ سمجھا جاتا ہے۔

عمران خان سے تمام رابطے ختم ہونے کا دعویٰ درست نہیں، خواجہ آصف

وزیر دفاع نے کہا کہ یہ دعویٰ درست نہیں کہ عمران خان سے تمام رابطے ختم ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں عمران خان سے پارٹی رہنماؤں، رشتہ داروں، عزیزوں اور دیگر افراد کی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ بعض ملاقاتیں ریکارڈ پر ہوتی ہیں جبکہ کچھ کا ذکر سامنے نہیں آتا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ انہیں گزشتہ چند دنوں کی صورت حال کا علم نہیں، اس لیے وہ اس بارے میں کوئی حتمی تبصرہ نہیں کریں گے، تاہم گزشتہ برسوں کے دوران رابطے ہوتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان، سہیل آفریدی اور مراد سعید کے درمیان تعلقات اور سیاسی کردار کو مکمل طور پر الگ قرار دینا درست نہیں۔ خواجہ آصف کے مطابق عوامی جذبات ابھارنے اور سیاسی مؤقف مضبوط کرنے کے لیے یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ عمران خان سے تمام رابطے منقطع ہو چکے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں معدنیات اور کان کنی کے معاملات کو گورنر راج کی ممکنہ وجہ قرار دینے سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ اگر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ معدنیات پر قبضے کے لیے یہ اقدام کیا گیا تو بتایا جائے کہ کون سی کانیں تحریک انصاف کے رہنماؤں کے رشتہ داروں کے پاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے دعوے کرنے والوں کو واضح کرنا چاہیے کہ وہ کن کانوں اور معدنی وسائل کی بات کر رہے ہیں۔

گورنر راج کی مخالفت کرنے والے بعض رہنما نئے سیٹ اپ میں کردار نہ ملنے پر ناراض ہیں

خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے فیصلے کی مخالفت کرنے والے بعض سیاسی رہنما دراصل اس لیے ناراض ہیں کہ نئے انتظامی سیٹ اپ میں انہیں یا ان کے نامزد کردہ افراد کو کردار نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق جن لوگوں کو توقع تھی کہ نئے سیٹ اپ میں انہیں اہم ذمہ داریاں ملیں گی، انہیں شامل نہیں کیا گیا اور بڑی حد تک غیر جانب دار افراد کو آگے لایا گیا، جس پر اب وہ اس فیصلے کے خلاف مؤقف اختیار کر رہے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ وہ سخت الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہتے، لیکن ان کے خیال میں اس طرح کے بیانات دے کر بعض رہنما اپنے ہی صوبے کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے حالات بہتر بنانے کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اقدامات کی حمایت کی جانی چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان کے سیاسی مؤقف میں تضاد پر سوال اٹھانا ضروری ہے، خواجہ آصف

خواجہ آصف نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے سیاسی مؤقف پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ ماضی میں جب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت قائم ہوئی تو اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ایک اجلاس بلایا گیا تھا، جس میں متعلقہ سیاسی رہنما شریک تھے۔ اس اجلاس میں فوری انتخابات کرانے پر غور ہوا اور ان کے بقول وہ اور دیگر رہنما فوری انتخابات کے حق میں تھے، تاہم بعض رہنماؤں نے فوری انتخابات کی حمایت نہیں کی اور ایک سال تک معاملات چلانے پر اصرار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس وقت فوری انتخابات ہو جاتے تو سیاسی صورت حال مختلف ہو سکتی تھی۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی فوری انتخابات کے حق میں تھیں اور انہوں نے خود بھی شہباز شریف کو مشورہ دیا تھا کہ انتخابات جلد کرائے جائیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جولائی 2022 میں انتخابات کرانے کی بات بھی زیر بحث آئی تھی، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے مؤقف وقت اور حالات کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں، تاہم جب رہنما مختلف مواقع پر متضاد مؤقف اختیار کرتے ہیں تو لوگوں کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان اور ان کے والد مفتی محمود کا احترام کرتے ہیں، لیکن سیاسی مؤقف میں تضاد پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرنے کے باوجود وہ مختلف سیاسی ادوار اور فیصلوں پر اپنے مؤقف کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں سامنے آنے والے سیاسی انتظامات اور تضادات کو درست کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ ایک نئے سیاسی کلچر کی تشکیل بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں سیاسی رہنماؤں کو مخالفت کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کے بقول اس وقت ملک ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کردار ادا کرنا چاہیے۔

معدنی وسائل پر قبضے کے الزامات بے بنیاد ہیں، خواجہ آصف

خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں معدنی وسائل پر قبضے سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کرائی جا سکتی ہے کہ کان کنی کے ٹھیکے کن افراد کے پاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں فوج کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آئے گا۔ ان کے مطابق معدنی وسائل کے حوالے سے الزامات لگانے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر بات ہونی چاہیے۔

وزیر دفاع نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان اداروں نے بڑی تعداد میں جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا خیبرپختونخوا میں تمام سیاسی جماعتیں ان قربانیوں کے ساتھ اسی طرح کھڑی ہوئی ہیں جس طرح انہیں کھڑا ہونا چاہیے تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ شہدا کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ تمام سیاست دان دہشت گردی کے خلاف متحد ہوں۔

امریکا کو معدنی وسائل کے حوالے سے کوئی ٹھیکہ نہیں دیا گیا، وزیر دفاع

پاکستان اور امریکا کے درمیان معدنی وسائل کے حوالے سے تعاون سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ امریکا کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت ضرور ہوئی ہے، تاہم کسی کو کان کنی کا ٹھیکہ نہیں دیا گیا اور نہ ہی کوئی کان یا معدنی وسیلہ امریکا کے حوالے کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معدنی وسائل میں امریکا سمیت کینیڈا، آسٹریلیا اور چین کی دلچسپی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو اپنے معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور حکومت ان ممالک کے ساتھ تعاون کر سکتی ہے جن کے ساتھ کام کرنا محفوظ اور مفید ہو۔

خواجہ آصف نے کہا کہ معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری اہم ہے، کیونکہ سرمایہ کاری کے بغیر ان وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانا مشکل ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی ملک کو معدنی وسائل حوالے کرنے یا کانیں دینے سے متعلق دعوے درست نہیں۔

سندھ میں گورنر راج یا پانی اور نہروں پر قبضے کا کوئی منصوبہ نہیں، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف سے سندھ میں پانی اور نہروں کے معاملے کو بنیاد بنا کر گورنر راج کے نفاذ سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ حالات کے مطابق مختلف آپشنز پر غور کیا جا سکتا ہے، تاہم سندھ میں گورنر راج یا پانی اور نہروں پر قبضے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ٹوٹنے اور پانی یا نہروں پر قبضے جیسی باتیں کرنا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی وحدت کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے اور سیاسی اختلافات کو اس حد تک نہیں بڑھانا چاہیے کہ ملکی سلامتی اور یکجہتی متاثر ہو۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر سینئر سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ قومی معاملات پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

وزیر دفاع ہوں تو کیا خواجہ آصف نہ رہوں؟ سوشل میڈیا اکاؤنٹ خود چلاتا ہوں

انٹرویو کے دوران خواجہ آصف سے سوشل میڈیا پر ان کی سرگرمیوں اور مزاحیہ انداز میں کی جانے والی پوسٹس کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔ اس پر انہوں نے بتایا کہ ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ وہ خود چلاتے ہیں اور وہ اپنی ذاتی زندگی میں بھی ایک عام انسان ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ انہیں اپنی شخصیت کے گرد مصنوعی سنجیدگی کا لبادہ اوڑھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اگر وہ وزیر دفاع ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنی ذاتی شناخت یا مزاحیہ انداز ترک کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی عمر 77 سال ہے اور وہ زندگی کو معمول کے انداز میں گزارتے ہیں۔

خواجہ آصف نے وضاحت کی کہ وہ سوشل میڈیا پر مزاحیہ پوسٹس اور تبصرے تفریح کے لیے کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کی کوشش ہوتی ہے کہ سنجیدہ سیاسی معاملات کے ساتھ زندگی کے ہلکے پھلکے پہلوؤں سے بھی لطف اندوز ہوا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عموماً رات 11 سے 12 بجے کے بعد فارغ وقت میں ایسی پوسٹس کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں‘: وطن عزیز کی پراسرار وادی اشکومن جہاں ’پریاں‘ رہنمائی کرتی ہیں

’وزیر دفاع ہوں تو کیا خواجہ آصف نہ رہوں؟ سوشل میڈیا اکاؤنٹ خود چلاتا ہوں‘

سانحہ دیر کالونی اسکول : خیبرپختونخوا میں نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت کے لیے نئے قواعد بنانے کا حکم

مولانا فضل الرحمان جیسے سینیئر سیاستدان سے دہشتگردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی، مریم نواز

آٹا، چکن، دالیں، پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی، شارٹ ٹرم مہنگائی بڑھ کر 11.38 فیصد ہو گئی

ویڈیو

دیر کالونی اسکول سانحہ: 7 روز میں انکوائری رپورٹ طلب، این او سی اور نقشے کی منظوری دینے والوں کا تعین ہوگا، عامر عبداللہ

ہمارے پھول جیسے بچے شہید ہوئے، مائیں ماننے کو بھی تیار نہیں ـ پشاور اسکول سانحے پر ہر آنکھ اشکبار

پھولوں کے شہر میں پھولوں کے جنازے، کے پی ایمرجنسی میں توسیع، بڑا فیصلہ

کالم / تجزیہ

پشاور میں چھت نہیں، حکومتی نظام گرا ہے

دو قومیں، دو نسلیں

ایمرجنسی کے بعد تحریک انصاف کیا کرے؟