ملک میں نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا ہے، تاہم اس حوالے سے اب تک نہ کوئی عملی پیشرفت سامنے آئی ہے اور نہ ہی کوئی حتمی ٹائم لائن طے کی گئی ہے۔
تجزیہ کار شہزاد اقبال کے مطابق نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا منصوبہ ختم نہیں ہوا بلکہ بدستور زیرِ غور ہے اور بالآخر اس پر پیشرفت ہوگی۔ تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر مرحلہ وار آگے بڑھنا ضروری ہوگا۔
مزید پڑھیں: سکھر صنعتی زون تباہ حال: کاروباری افراد کا نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ
وی نیوز سے گفتگو میں مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما عابد شیر علی نے بھی اس معاملے پر مشاورت، پارلیمانی بحث اور نظامِ حکمرانی میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ گڈ گورننس، بلدیاتی نظام اور پانی سے متعلق مسائل سمیت مختلف انتظامی امور پر بحث ہونی چاہیے تاکہ نظام میں موجود خامیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرکے بہتری لائی جاسکے۔
اس سے قبل وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ قومی اسمبلی کا نیا اجلاس شروع ہونے پر نئے صوبوں کے قیام یا نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے بحث اور گفتگو کو ابتدائی ایجنڈے میں شامل کیے جانے کی توقع ہے۔ تاہم خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث یہ معاملہ تاحال سامنے نہیں آسکا۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث کے تناظر میں وی نیوز نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں اور تجزیہ کاروں سے گفتگو کی تاکہ یہ جانا جاسکے کہ اس معاملے پر اب تک کیا پیشرفت ہوئی ہے، حکومت اور سیاسی جماعتوں کا ممکنہ لائحہ عمل کیا ہوسکتا ہے اور نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ کب تک طے پاسکتا ہے۔
نئے صوبوں پر حتمی ڈیڈلائن نہیں، پیشرفت بتدریج ہوگی، شہزاد اقبال
تجزیہ کار شہزاد اقبال نے کہاکہ ملک میں نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ ختم نہیں ہوا بلکہ یہ منصوبہ بدستور زیرِ غور ہے اور بالآخر اس پر پیشرفت ہوگی۔
ان کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے سے میڈیا میں نئے صوبوں کے فوائد، نقصانات اور ان کے قیام کے ممکنہ طریقہ کار پر مسلسل بحث جاری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ موضوع سیاسی اور انتظامی سطح پر اہمیت رکھتا ہے۔
شہزاد اقبال کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کا قیام ایک بڑا فیصلہ ہوگا، جس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو بتدریج اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر چار یا چھ ماہ جیسی کوئی حتمی ڈیڈلائن مقرر نہیں کی گئی، اس لیے فوری طور پر کسی تاریخ یا مدت کے اندر نئے صوبوں کے قیام کی توقع نہیں باندھنی چاہیے۔
انہوں نے ایک اہم شخصیت کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کام ہونا ہے، تاہم اسے بتدریج آگے بڑھانا اور تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ ان کے مطابق نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کو ملک میں گورننس کے مسائل کے ممکنہ حل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
شہزاد اقبال کے مطابق اس تجویز کے حامیوں کا خیال ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس بڑے صوبوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں کام کرسکتے ہیں، کیونکہ انتظامی امور کی انجام دہی، عوامی مسائل تک رسائی اور مقامی ضروریات کے مطابق فیصلے کرنے میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے۔
سندھ کی تقسیم کے لیے شمالی، جنوبی اور وسطی سندھ کی تجویز
سندھ کی ممکنہ انتظامی تقسیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شہزاد اقبال نے کہاکہ ایک تجویز یہ بھی زیرِ غور آسکتی ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کو شمالی سندھ، جنوبی سندھ اور وسطی سندھ کے نام دیے جائیں۔
ان کے مطابق اس نوعیت کی تجویز کا مقصد سندھ کے نام اور تاریخی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے انتظامی تقسیم سے متعلق خدشات اور تقسیم کے تاثر کو کم کرنا ہوسکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے کسی حتمی فیصلے یا باضابطہ منصوبے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔
شہزاد اقبال نے کہاکہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے کو صرف پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن یا بھٹو اور شریف خاندانوں کے سیاسی مفادات تک محدود کرکے نہیں دیکھنا چاہیے۔
ان کے مطابق دونوں جماعتوں سمیت مختلف سیاسی جماعتوں میں ایسے رہنما موجود ہیں جنہیں موجودہ سیاسی ڈھانچے میں وزیراعلیٰ بننے یا صوبائی سطح پر قیادت کرنے کے مواقع نہیں مل پاتے۔
انہوں نے کہاکہ مزید صوبے قائم ہونے کی صورت میں نئی سیاسی قیادت کو سامنے آنے، وزارتِ اعلیٰ تک پہنچنے اور اپنی کارکردگی دکھانے کے مواقع مل سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف سیاسی قیادت کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے بلکہ انتظامی معاملات میں بہتری اور گورننس کے مسائل کے حل میں بھی مدد ملنے کا امکان ہے۔
ان کے مطابق صوبائی قیادت کے مواقع چند بڑے سیاسی خاندانوں تک محدود رہنے کے بجائے مزید رہنماؤں تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے سیاسی نظام میں نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
عابد شیر علی کا گڈ گورننس اور بلدیاتی نظام بہتر بنانے پر زور
مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما عابد شیر علی نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس سے متعلق بحث کے تناظر میں گڈ گورننس، بلدیاتی نظام اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بلدیاتی نظام، پانی سے متعلق امور اور دیگر انتظامی معاملات پر تفصیلی بحث ہونی چاہیے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ موجودہ نظام میں کہاں بہتری کی گنجائش ہے اور کن شعبوں میں خامیاں یا کوتاہیاں موجود ہیں۔
عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں ان معاملات پر بحث ہونی چاہیے اور متعلقہ مسائل کو اجاگر کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جتنے زیادہ لوگوں کو اس عمل میں شامل کیا جائے گا اور جتنے زیادہ متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیا جائے گا، نظام کو بہتر بنانے میں اتنی ہی مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی تجویز یا اقدام کو باہمی اتفاقِ رائے سے آگے بڑھانا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی قیادت جمہوری اقدار پر یقین رکھتی ہے اور جمہوریت کو مضبوط بنانے کے اقدامات کی حامی ہے۔ عوامی نمائندوں کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری ہے کہ ایسے اہم معاملات پر مشاورت اور تبادلۂ خیال کے ذریعے آگے بڑھا جائے۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق کسی تازہ پیش رفت، مجوزہ آئینی ترمیم یا حکومت کے باضابطہ لائحہ عمل کے بارے میں سوالات پر عابد شیر علی نے باہمی اتفاقِ رائے اور جمہوری عمل کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نوعیت کے اہم معاملات میں سیاسی مشاورت اور پارلیمانی بحث کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، تاہم انہوں نے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کسی حتمی تاریخ یا ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا۔
صوبوں سے متعلق معاملہ فی الحال پس منظر میں چلا گیا ہے، احمد ولید
سینیئر تجزیہ کار احمد ولید کا کہنا ہے کہ صوبوں سے متعلق معاملہ فی الحال پس منظر میں چلا گیا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد حکومت نے اس حوالے سے اپنی سرگرمیاں محدود کر دی ہیں۔
احمد ولید کے مطابق صوبوں سے متعلق جس مہم کا آغاز کیا گیا تھا، اس کی رفتار بھی اب سست پڑ چکی ہے۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حالات بہتر ہونے کے بعد اس معاملے پر دوبارہ پیشرفت شروع ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ صوبوں کے معاملے پر مستقبل میں کوئی نہ کوئی پیشرفت ضرور ہوگی، چاہے اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے۔ ان کے بقول، ممکن ہے کہ صوبے خود بھی مشاورت کے ذریعے مستقبل کے انتظامی سیٹ اپ سے متعلق تجاویز پیش کریں۔
سینیئر تجزیہ کار کے مطابق سیاسی جماعتوں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ ترقیاتی اقدامات اور وسائل کی تقسیم صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت کسی ایک شہر میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو اسے پورے صوبے کی توجہ اور وسائل اسی شہر پر مرکوز کرنے کے بجائے چھوٹے شہروں کو بھی ترقی کے مساوی مواقع اور وسائل فراہم کرنے چاہییں۔
احمد ولید کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے بتدریج قائل کرنے کی کوششیں جاری ہونے کی بات کی جا رہی ہے۔
سندھ میں خیبرپختونخوا جیسی صورت حال کا امکان؟
سندھ میں بھی خیبرپختونخوا جیسی صورت حال پیدا ہونے کے امکان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے احمد ولید نے کہا کہ انہیں فی الحال ایسی کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ سندھ میں بھی ایمرجنسی یا گورنر راج جیسا اقدام کیا جائے۔
ان کے مطابق سندھ کے سیاسی حالات خیبرپختونخوا سے مختلف ہیں اور موجودہ سیاسی نظام بھی ایسی صورت حال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سیاسی شخصیات ہیں، جو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
احمد ولید کا کہنا تھا کہ سندھ کی قیادت کی جانب سے اب تک ایسا کوئی رویہ سامنے نہیں آیا جسے باغیانہ یا تصادم پر مبنی قرار دیا جا سکے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ فی الحال سندھ میں خیبرپختونخوا جیسی صورت حال پیدا ہونے کے امکانات دکھائی نہیں دیتے۔
نئے صوبوں کا قیام کب ممکن ہوگا؟
نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق بحث کے باوجود اس معاملے پر حتمی پیش رفت کے لیے ابھی کئی سوالات کا جواب سامنے آنا باقی ہے۔
ان میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے، مجوزہ انتظامی تقسیم کی حدود، آئینی اور قانونی تقاضے اور نئے یونٹس کے اختیارات و وسائل کی تقسیم جیسے امور شامل ہیں۔
شہزاد اقبال کی گفتگو کے مطابق اس منصوبے کو ختم شدہ تصور نہیں کیا جاسکتا، تاہم اس پر پیشرفت بتدریج اور سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر ہی ممکن ہوگی۔ دوسری جانب عابد شیر علی نے گڈ گورننس، بلدیاتی نظام اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشاورت اور پارلیمانی بحث کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس معاملے پر بحث کی توقعات کے باوجود خیبرپختونخوا کی صورتحال کے باعث کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ ایسے میں یہ سوال بدستور موجود ہے کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ کب باضابطہ طور پر پارلیمانی ایجنڈے میں شامل ہوگا اور حکومت اس حوالے سے اپنا واضح لائحہ عمل کب پیش کرے گی۔
مزید پڑھیں: ملکی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبے بنانا ناگزیر ہے، چین میں موجود پاکستانیوں کی رائے
فی الحال نئے صوبوں کے قیام کے لیے نہ کوئی حتمی مدت مقرر کی گئی ہے اور نہ ہی مجوزہ انتظامی یونٹس کے بارے میں کوئی فیصلہ سامنے آیا ہے۔ تاہم سیاسی اور تجزیاتی حلقوں میں جاری بحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ طرزِ حکمرانی، انتظامی اصلاحات اور مستقبل کے سیاسی ڈھانچے کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں اس موضوع پر آئندہ ہونے والی مشاورت اور پارلیمانی کارروائی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔











