معروف عالمی اشاعتی ادارے پینگوئن رینڈم ہاؤس نے فلسطین کی تاریخ اور فلسطینیوں کی جدوجہد پر مبنی بچوں کی ایک کتاب کی اشاعت اس کی دکانوں میں دستیابی سے چند روز قبل روک دی۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق، کتاب کے فلسطینی نژاد امریکی مصنفین اور ناشر کے درمیان فلسطینی تاریخ اور 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں کی منظرکشی کے حوالے سے اختلافات پیدا ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی پابندی کے باوجود آئرش مصنفہ سیلی رونی کی فلسطین ایکشن کے ساتھ یکجہتی
پینگوئن رینڈم ہاؤس کے ذیلی ادارے رینڈم ہاؤس چلڈرن بکس نے نومبر 2024 میں علانہ حدید اور جنان مطاری کے ساتھ کتاب کی اشاعت کا معاہدہ کیا تھا، ڈس پلیسمینٹ اینڈ دی پیلیسٹینیئن امریکن اسٹوری کے عنوان سے یہ کتاب رواں سال ستمبر میں شائع ہونا تھی۔
علانہ حدید سماجی کارکن اور فلاحی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں، جبکہ جنان المطری ایوارڈ یافتہ مصنفہ ہیں، علانہ حدید معروف ماڈلز بیلا اور جیجی حدید کی بہن بھی ہیں۔
Two Palestinian American authors have withdrawn their children’s book on the history of Palestine from Penguin Random House after spending two years developing the project.
The authors say they refused to accept editorial changes that would alter their account of the Nakba, when… pic.twitter.com/XXL08mHY9u
— IP VOICES (@IPvoice1) October 16, 2026
10 سے 13 سال کی عمر کے بچوں کے لیے لکھی گئی اس کتاب میں فلسطینی تاریخ، اسرائیلی قبضے، مزاحمت اور دنیا بھر میں پھیلے فلسطینیوں کے تجربات کو موضوع بنایا گیا ہے۔
کتاب میں مصنفین کے اپنے خاندانوں کی نقل مکانی اور بے دخلی کی کہانیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
مصنفین نے کتاب کا مسودہ اور ناشر کے ساتھ ای میلز کے اقتباسات دی گارڈین کو فراہم کیے، ان کے مطابق، کئی ماہ تک جاری رہنے والے اختلافات کی بنیادی وجہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں کے بارے میں استعمال ہونے والی زبان تھی۔
مزید پڑھیں: فلسطینی نژاد مصنفہ کے ادبی میلہ سے اخراج پر احتجاج، 180 مصنفین کا شرکت سے انکار، فیسٹیول بورڈ ارکان مستعفی
مصنفین کے مسودے میں کہا گیا تھا کہ نوآبادیاتی تسلط کے تحت زندگی گزارنے والے لوگوں کو مزاحمت کا حق حاصل ہے، جبکہ ناشر چاہتا تھا کہ مصنفین اس بات کو تسلیم کریں کہ 7 اکتوبر کے حملوں نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔
اخبار کے مطابق، ایک ایڈیٹر نے مسودے میں یہ جملہ شامل کیا کہ ’یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھے’ اس کے بعد مصنفین نے ستمبر کے اوائل میں کتاب کی اشاعت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔
جنان المطری نے انسٹاگرام پر اپنے ردعمل میں کہا کہ پینگوئن رینڈم ہاؤس جیسے بڑے اشاعتی ادارے کے ساتھ کام کرنا ان کا خواب تھا، لیکن وہ اپنی برادری کے ساتھ وفاداری پر سمجھوتہ کرکے یہ خواب پورا نہیں کرنا چاہتیں۔
مزید پڑھیں: فلسطین ایکشن کی حمایت، سیلی رونی کی کتابوں کی برطانیہ میں فروخت بند
ان کے مطابق، ذاتی کامیابی کے لیے اپنے اصولوں کو قربان نہ کرنے کا فیصلہ کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مظلوم لوگوں کے مزاحمت کے حق کو سمجھنا نوآبادیاتی نظام کے اثرات سے ذہنی آزادی حاصل کرنے کے لیے اہم ہے، اور وہ اپنی برادری کے مفادات کو کسی کی سہولت یا ذاتی کامیابی کے لیے قربان نہیں کریں گی۔
دوسری جانب رینڈم ہاؤس کے ترجمان نے دی گارڈین کو بتایا کہ کتاب پر کام کا عمل ادارے کے معمول کے اشاعتی طریقۂ کار کے مطابق ہوا۔
مزید پڑھیں: ’45 دن ایسے گزرے جیسے 45 سال‘، فلسطینی صحافی کی غزہ میں اپنی رپورٹنگ پر مبنی یادداشتیں شائع
ترجمان نے کہا کہ ادارہ مصنفین کے اپنے فیصلے کا احترام کرتا ہے اور نوجوان قارئین تک فلسطینی نقطۂ نظر پہنچانے کے عزم پر قائم ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل آئرش ناول نگار سیلی رونی کی کتابوں کی برطانیہ میں فروخت بند ہونے کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔
رونی نے فلسطین کی حمایت کرنے والی تنظیم فلسطین ایکشن کی مالی معاونت کے لیے اپنی کتابوں سے حاصل ہونے والی رائلٹی استعمال کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
مزید پڑھیں: آئرش مصنفہ سیلی رونی کا برطانیہ میں فلسطین ایکشن سے منسلک قیدیوں کی مبینہ بدسلوکی پر اظہارِ تشویش
برطانوی حکومت نے گزشتہ سال اس تنظیم کو دہشتگرد تنظیم قرار دے کر پابندی عائد کی تھی، جس کے خلاف قانونی چیلنج بھی کیا گیا ہے۔
سیلی رونی، جو نارمل پیپل اور کنورسیشنز ود فرینڈز جیسے ناولوں کی مصنفہ ہیں، فلسطین ایکشن کی حمایت کرتی رہی ہیں۔
انہوں نے لندن ہائیکورٹ میں پابندی کے خلاف دائر قانونی کارروائی میں جمع کرائے گئے بیان میں کہا تھا کہ ان کے فیصلے کے نتیجے میں ان کی کتابوں کی برطانیہ میں فروخت بند ہو سکتی ہے۔













