فرانس میں پُرتشدد مظاہروں میں اضافہ، ایک شخص ہلاک، 1800 گرفتار اور سیکڑوں دکانیں تباہ

اتوار 18 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانس بھر میں مہنگائی اور عوامی خدمات میں غفلت کے خلاف ہونے والے ہنگامہ خیز مظاہرے خونریز جھڑپوں میں بدل گئے، جن کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق، 500 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی اور تقریباً 1800 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

اتوار کی صبح فرانس کا منظر کسی جنگ کے میدان جیسا دکھائی دے رہا تھا جہاں ایک روز قبل ملک بھر میں ہونے والے شدید ترین مظاہرے بدترین ہنگاموں میں تبدیل ہو گئے۔ پیرس سمیت مختلف شہروں میں جلاؤ گھیراؤ، لوٹ مار اور پولیس سے جھڑپوں کا سلسلہ دن بھر جاری رہا۔

یہ بھی پڑھیں:البانیہ میں طلبہ کے پرتشدد مظاہرے تیسرے روز بھی جاری، وزیراعظم کا مستعفی ہونے سے انکار

دارالحکومت پیرس میں مظاہروں کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ایک شخص زندگی کی بازی ہار گیا، جبکہ پولیس نے ریکارڈ کارروائی کرتے ہوئے 855 افراد کو گرفتار کیا۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق ملک بھر میں ہنگامہ آرائی کے دوران 500 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

’یہ جنگ کا میدان لگ رہا ہے

پیرس میں موجود ڈچ کاروباری شخصیت تیجے ڈی بوئر نے اپنے بچوں کے ساتھ اس ہولناک صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک دوست سے ملنے آئے تھے، لیکن ہنگاموں کی وجہ سے انہیں ہوٹل خالی کرنا پڑا جو کہ پلازہ ڈی لا ریپبلک کے قریب واقع ہے اور شدید نقصان کا شکار ہوا۔

ملک بھر میں نصف ملین سے زیادہ افراد نے ان احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی۔ اس تحریک میں ایک ماہ پرانی طلبا تحریک اور مہنگائی و عوامی خدمات میں کمی کے خلاف اٹھنے والی عوامی آوازیں آپس میں مل گئی تھیں۔

تاریخی عمارتیں نذرِ آتش، کروڑوں یورو کا نقصان

ہنگاموں کے دوران پُرامن مظاہرین کے ساتھ ساتھ پرتشدد عناصر نے سرکاری عمارتوں، لگژری بوٹیکٹس اور سپر مارکیٹوں کو نشانہ بنایا۔ للی سے لے کر مارسیلے، اور اسٹراسبرگ سے لے کر بوردو تک صفائی اور مرمت کا وسیع آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جہاں بوردو میں ماسک پوش بلوائیوں نے مقامی پریفیکٹ کی رہائش گاہ پر بھی حملہ کیا۔

لموگیس شہر میں 143 سال پرانی میونسپل کارپوریشن کی عمارت کو آگ لگا دی گئی جس سے وہ جزوی طور پر تباہ ہو گئی، جس کا موازنہ پیرس کے مشہور نوتردام کیتھیڈرل کے تاریخی سانحے سے کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:فرانس کے اسکول میں ہولناک فائرنگ، 14 سالہ طالب علم کے حملے میں ہیڈ ٹیچر اور خاتون اسٹاف ممبر زخمی

میئر گیوم گیرین نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر شہر کو عمارت کی مرمت کے لیے مطلوبہ ایک ملین یوروز نہ ملے تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔

معیشت اور سیاست پر بڑھتا ہوا دباؤ

حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون آج قوم سے اہم خطاب کریں گے۔ وزیراعظم سبیسٹین لیکورنو نے ان ہنگاموں کا ذمہ دار انتہائی بائیں بازو کے عناصر اور مجرموں کو ٹھہرایا ہے۔

یہ احتجاج بنیادی طور پر پچھلے ماہ ورکنگ کلاس کے مضافات میں اسکولوں کے حالات اور اساتذہ کی کمی کے خلاف شروع ہوا تھا، جو وقت کے ساتھ ساتھ عدم مساوات، عوامی اخراجات میں کٹوتیاں اور زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف ایک وسیع ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو گیا۔

اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات سے پہلے اس ہنگامہ آرائی نے صدر میکرون اور ان کی حکومت پر سیاسی دباؤ کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سردیوں کی آہٹ یا گرمی کی شدت برقرار؟ ملک بھر کی موسمی صورتحال پر نئی پیشگوئی

سجل علی اور زرا نورعباس میں پھر سے دوستی؟ یاسرحسین کے گانے پر مداح ہنسنے پرمجبور

سلمان علی آغا نے چوکوں کی برسات کردی، سہ ملکی ون ڈے سیریز کے پہلے میچ میں سری لنکا کے خلاف شاندار سینچری

شناختی کارڈ پر نام کیسے تبدیل کروایا جاسکتا ہے؟ نادرا نے مکمل طریقہ کار اور فیس کی تفصیلات بتا دیں

سلطان آف جوہر کپ: پاکستان جونیئر ہاکی ٹیم کی مسلسل دوسری کامیابی، کینیڈا کو 2 کے مقابلے میں 6 گول سے شکست

ویڈیو

غریب کا ذہین بچہ بھی ڈاکٹر بن سکتا ہے، دانش اسکول امیر اور غریب کے درمیان تعلیمی فرق ختم کرنے کی کوشش ہے، شہباز شریف

20 لاکھ بیرل سے زائد تیل لے جانے والے جہاز میں دھماکا، ایران کا بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ

سکھر میں کاٹن فیکٹری کی گرد سے شہری پریشان، سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوالات

کالم / تجزیہ

مولانا، معدنیات اور ایمر جنسی

پشاور میں چھت نہیں، حکومتی نظام گرا ہے

دو قومیں، دو نسلیں