پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کو کاروباری ہفتے کے آغاز پر فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں انڈیکس ابتدائی لمحات میں 350 سے زائد پوائنٹس گر گیا۔
صبح 9 بج کر 45 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 359.99 پوائنٹس، یعنی 0.22 فیصد کمی کے بعد 166,059.72 پوائنٹس پر آگیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں مندی، 100 انڈیکس میں 973 پوائنٹس کمی
آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سمیت اہم شعبوں میں فروخت کا رجحان غالب رہا۔
حبکو پاور، ماری پیٹرولیم، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، سوئی سدرن گیس کمپنی، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز، حبیب بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ جیسے انڈیکس پر زیادہ اثر انداز ہونے والے شیئرز منفی زون میں کاروبار کرتے رہے۔
PSX Opened Negative 👇
☀️ KSE 100 opened negative by -262.55 points this morning. Current index is at 166,157.17 points (9:45 AM) pic.twitter.com/m5ePxIb5uN— Investify Pakistan (@investifypk) October 19, 2026
گزشتہ جمعے کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوئی تھی، مارکیٹ میں نئی مثبت پیشرفت نہ ہونے اور عالمی منڈی میں خام تیل کی بلند قیمتوں کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے، جس سے محدود دائرے میں کاروبار دیکھنے میں آیا۔
جمعے کو کے ایس ای 100 انڈیکس 233.55 پوائنٹس، یعنی 0.14 فیصد اضافے کے بعد 166,419.72 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی منڈیوں میں بھی مندی
عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی پیر کو کمی دیکھی گئی۔ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کی ضروریات سے متعلق خدشات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا، جبکہ مارکیٹ کی توجہ رواں ہفتے کمپنیوں کے مالی نتائج پر مرکوز ہے۔
تاہم، چین کے معاشی اعداد و شمار توقعات سے بہتر آنے کے باعث عالمی معاشی نمو کے حوالے سے کچھ مثبت اشارے ملے۔
مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس پر بعض پابندیوں میں چھوٹ دینے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے بانڈ مارکیٹ اور امریکی اسٹاک فیوچرز کو کچھ سہارا دیا۔ تاہم، ٹرمپ نے بعد میں کہا کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ صدر اس اقدام کے معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے 60 روز تک کا وقت لے سکتے ہیں۔

دریں اثنا، ایران نے اطلاع دی کہ آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا ہے، جس سے خطے میں سیکیورٹی خدشات برقرار ہیں۔
جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور حصص بازاروں سے سرمایہ محفوظ اثاثوں کی جانب منتقل ہونے کے باعث سرکاری بانڈز کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان مزید مضبوط ہوا۔
امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی پیداوار 4 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 5.0525 فیصد رہ گئی، اس سے قبل گزشتہ ہفتے اس پیداوار میں 8 ماہ سے زائد عرصے کی سب سے بڑی ہفتہ وار کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: خام تیل مہنگا، ایشیائی مارکیٹیں دباؤ کا شکار، پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی مندی کی لپیٹ میں
ایشیا کی مختلف اسٹاک مارکیٹوں میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق خدشات کے باعث دباؤ برقرار رہا، جاپان کا نکی انڈیکس 1.2 فیصد گر گیا، جبکہ گزشتہ ہفتے اس میں 5.4 فیصد کمی ہوئی تھی۔
جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ گزشتہ ہفتے وہاں حصص کی قدر میں 14 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی۔ تائیوان کی مارکیٹ بھی 1.4 فیصد نیچے آگئی۔
ایم ایس سی آئی کے جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے وسیع تر حصص انڈیکس میں 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔











