پاکستان کے قومی کرکٹرز امام الحق اور محمد رضوان کو ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی کی اجازت مل گئی ہے، جس کے بعد دونوں کھلاڑی پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کے آخری مرحلے میں شرکت کریں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، امام الحق ٹورنامنٹ کے اختتامی مرحلے میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ یعنی او جی ڈی سی ایل کی نمائندگی کریں گے۔
منگل سے شروع ہونے والے اس مرحلے کے لیے محکمے نے پاکستان کرکٹ بورڈ یعنی پی سی بی کی جانب سے کلیئرنس ملنے کے بعد ان کی دستیابی کی تصدیق کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فٹنس ٹیسٹ نہ دینے پر رضوان اور امام الحق صدر ٹرافی سے باہر
دوسری جانب، وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان بھی مسابقتی کرکٹ میں واپسی کے لیے تیار ہیں اور وہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ یعنی ایس این جی پی ایل کی قیادت کرتے ہوئے خان ریسرچ لیبارٹریز یعنی کے آر ایل کے خلاف میدان میں اتریں گے۔
Imam-ul-haq & Rizwan allowed to play domestic cricket.
Imam will be leading OGDCL at LCCA against Ghani.
Rizwan leading SNGPL in Islamabad. pic.twitter.com/w6CUa1QlbX
— Abu Bakar Tarar (@abubakartarar_) October 19, 2026
ایس این جی پی ایل کے ڈائریکٹر کرکٹ محمد حفیظ نے رضوان کی واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں پی سی بی کے ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ کی جانب سے ضروری منظوری مل گئی ہے۔
دونوں تجربہ کار پاکستانی کھلاڑی انگلینڈ کے دورے کے دوران اور اس کے بعد پیش آنے والے مختلف معاملات کے باعث ڈومیسٹک کرکٹ سے باہر رہے تھے۔ اب کلیئرنس ملنے کے بعد انہیں دوبارہ مسابقتی ماحول میں کھیلنے اور اپنی فارم بحال کرنے کا موقع ملے گا۔
انگلینڈ کے دورے کے بعد مشکلات کا سامنا
امام الحق اور محمد رضوان ان 7 پاکستانی کرکٹرز میں شامل تھے جنہیں اگست میں انگلینڈ کے دورے کے دوران وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔ پاکستان کو 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے ابتدائی دو مقابلوں میں بھاری شکستوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
مزید پڑھیں: محمد رضوان موبائل فون کے فرانزک تجزیے کے لیے این سی سی آئی اے میں پیش
وطن واپسی کے بعد دونوں کھلاڑیوں کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی یعنی این سی سی آئی اے نے ڈریسنگ روم کی معلومات مبینہ طور پر افشا ہونے کے معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، تفتیش کاروں نے کھلاڑیوں کے موبائل فونز سے حاصل کردہ مواد کا بھی جائزہ لیا۔
بعد ازاں پی سی بی نے دونوں کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے سے روک دیا تھا۔ بورڈ کے مطابق، انہوں نے اپنے متعلقہ محکموں کو فٹنس ٹیسٹ کی لازمی رپورٹس جمع نہیں کرائی تھیں۔
فارم کی بحالی کا موقع
34 سالہ محمد رضوان کو تحقیقات کے دوران مزید قانونی کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑا، این سی سی آئی اے نے انہیں ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت نوٹس جاری کیا تھا، جبکہ 31 اگست کو انگلینڈ میں ان کا موبائل فون بھی تحقیقات کے سلسلے میں تحویل میں لیا گیا تھا۔
ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی سے دونوں کھلاڑیوں کو اپنی فارم، ردھم اور میچ فٹنس بہتر بنانے کا موقع ملے گا، او جی ڈی سی ایل اور ایس این جی پی ایل کے لیے بھی ان تجربہ کار بین الاقوامی کھلاڑیوں کی دستیابی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: ٹیم کی ناکامی پر سب جواب دیں گے، امام الحق کی انجری کی بھی تحقیقات ہوں گی : عاقب جاوید
تاہم، ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں کھلاڑیوں کی قومی ٹیم میں شمولیت بھی یقینی ہو گئی ہے، آئندہ بین الاقوامی مقابلوں کے لیے ان کی دستیابی کا فیصلہ پی سی بی کی سلیکشن پالیسی اور متعلقہ تقاضوں کے مطابق کیا جائے گا۔
پریذیڈنٹ ٹرافی کے آخری مرحلے میں اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ دونوں کھلاڑی طویل وقفے کے بعد میدان میں کیسی کارکردگی دکھاتے ہیں۔











