روپے کی قدر میں پیشرفت جاری، ڈالر اب کتنے کا ہوگیا؟

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انٹربینک فارن ایکسچینج مارکیٹ میں پیر کے روز نئے کاروباری ہفتے کے پہلے دن بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا۔

یہ بھی پڑھیں: ’ایک پیسہ بھی بہت ہے‘: امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ جاری

مقامی کرنسی میں ایک پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انٹربینک میں ڈالر 276.91 روپے سے کم ہو کر 276.90 روپے کی سطح پر بند ہوا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران بھی انٹربینک مارکیٹ میں روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 0.03 فیصد (9 پیسے) مضبوط ہوا تھا اور 277 روپے سے بہتر ہو کر 276.91 روپے پر بند ہوا تھا۔

عالمی مارکیٹ اور شرحِ سود کی صورتحال

بین الاقوامی سطح پر ایشیائی مارکیٹ میں پیر کو ٹریڈنگ کے آغاز پر امریکی ڈالر ماہ کی کم ترین سطح سے کچھ سنبھلتا ہوا نظر آیا۔ اس کی بڑی وجہ فرانس میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے ہیں، جس کی وجہ سے یورو پر دباؤ بڑھا ہے۔

یورو 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 1.1225 ڈالر پر آ گیا۔ چونکہ ڈالر انڈیکس میں یورو کا وزن سب سے زیادہ ہے، اس لیے اس کی گراوٹ نے ڈالر کو مستحکم کرنے میں مدد دی اور ڈالر انڈیکس 101.83 پر برقرار رہا۔

جاپانی ین کے مقابلے میں امریکی ڈالر 158.00 ین پر مستحکم رہا۔ بینک آف جاپان کے گورنر کازوو یوئیدا نے پیر کو بیان دیا کہ بنیادی مہنگائی مرکزی بینک کے 2 فیصد کے ہدف کے کافی قریب ہے۔

مزید پڑھیے: خراماں خراماں: روپے کی قدر مسلسل مضبوطی کی سمت گامزن، جانیے یہ سلسلہ کب سے جاری ہے؟

چین کی تیسری سہ ماہی کے جی ڈی پی ڈیٹا کے اجرا سے قبل آف شور ٹریڈنگ میں ڈالر 6.6842 یوآن پر مستحکم رہا۔ توقع ہے کہ اس مدت کے دوران چینی معیشت کی رفتار میں کچھ تیزی آئی ہے۔

ابھرتی ہوئی ایشیائی مارکیٹس میں تمام تر توجہ انڈونیشیا کے روپے پر مرکوز ہے کیونکہ گزشتہ ہفتے ایم ایس سی آئی کی جانب سے ملک کے اسٹاک مارکیٹ کو اسٹینڈ الون‘ کا درجہ دینے کی دھمکی کے بعد وہاں کے شیئرز میں 11.6 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی تھی۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں

کرنسی کی برابری کا ایک اہم اشاریہ سمجھے جانے والے خام تیل کی قیمتیں پیر کے روز 5 ماہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آ گئیں کیونکہ سرمایہ کاروں نے منافع وصولی کو ترجیح دی۔

یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس پر سے کچھ پابندیاں اور ٹیرف ختم کیے جس سے روسی ایندھن کی برآمدات میں اضافے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

برینٹ کروڈ کے فیوچرز 2.29 ڈالر (2.08 فیصد) کی کمی کے ساتھ 107.57 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔ جمعے کے روز یہ 19 مئی کے بعد کی اپنی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: پیٹرول سستا ، ہائی اسپیڈ ڈیزل میں کوئی تبدیلی نہیں، نئی قیمتیں 19 اکتوبر تک برقرار رکھنے کا اعلان

اسی طرح امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کے فیوچرز 1.95 ڈالر (1.92 فیصد) کمی کے ساتھ 99.46 ڈالر فی بیرل پر ریکارڈ کیے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp