دیر بالا میں کھیل کے میدانوں اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث اکثر کھلاڑی اپنی مدد آپ کے تحت کھیلوں کی سرگرمیاں جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 3 مرتبہ حکومت کے باوجود پی ٹی آئی دیر، پشاور موٹروے بنانے میں ناکام، عوام کا احتجاج
ناکافی سہولیات اور معیاری گراؤنڈز نہ ہونے کے باعث کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کے واقعات بڑھ رہے ہیں جبکہ علاقے کا بے پناہ ٹیلنٹ بھی ضائع ہو رہا ہے۔
کھلاڑیوں اور کھیلوں سے وابستہ حلقوں نے موجودہ صورتحال کو بیڈ گورننس قرار دیتے ہوئے کھیلوں کی سہولیات کی بہتری، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے اور انتظامی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبوں کے قیام کی تجویز دی ہے۔
مقامی شہریوں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے نوجوانوں سے ووٹ لیا مگر انہیں نہ روزگار فراہم کیا اور نہ ہی دیگر ضروریات پوری کی۔
مزید پڑھیے: دیر بالا: تعلیمی نظام درہم برہم اور بیڈگورنس عروج پر، پی ٹی آئی کی 13 سالہ کارکردگی صفر
شہریوں کے مطابق پی ٹی آئی حکومت دیر کے نوجوانوں کے لیے کوئی گراؤنڈ نہ بنا سکی حالانکہ یہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ۔









