پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز کاروبار کے آغاز پر تیزی دیکھی گئی اور انڈیکس ابتدائی منٹوں میں ایک ہزار سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔
صبح 9 بج کر 58 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,024.37 پوائنٹس یعنی 0.62 فیصد اضافے کے بعد 166,176.01 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
کاروبار کے دوران آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پاور جنریشن کے شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔
اٹک ریفائنری، حبکو پاور، ماری پیٹرولیم، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان آئل فیلڈز، سوئی سدرن گیس کمپنی، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز، حبیب بینک، میزان بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک جیسے انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے نمایاں شیئرز مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
Before the bell, Wed 21 Oct:
• PSX extends losses as selling pressure weighs on shares
• Petrol and diesel prices rise
• Auto policy draft advances with lower EV taxes proposedFear & Greed meter at 34 (Fear), foreigners net bought $0.74m. pic.twitter.com/IV07744dF6
— Investify Pakistan (@investifypk) October 21, 2026
واضح رہے کہ گزشتہ روز منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان برقرار رہا تھا۔ مسلسل فروخت، سرمایہ کاروں کے محتاط رویے اور ملکی معیشت سے متعلق خدشات سمیت جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورت حال کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 814.44 پوائنٹس یعنی 0.49 فیصد کمی کے بعد 165,151.64 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹوں میں بھی بدھ کے روز مثبت رجحان دیکھا گیا، وال اسٹریٹ میں اضافے اور عالمی کمپنیوں کے مالی نتائج سے متعلق ابتدائی مثبت اشاروں کے باعث ایشیائی شیئرز کی مارکیٹوں میں تیزی رہی، جبکہ بانڈ مارکیٹ میں استحکام دیکھا گیا۔
مزید پڑھیں:اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 160 پوائنٹس سے زائد اضافہ
ایم ایس سی آئی کے ایشیا پیسیفک انڈیکس میں جاپان کے علاوہ دیگر مارکیٹوں کے حصص 1.5 فیصد بڑھے، جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں 4 فیصد اور جاپان کے نکی 225 انڈیکس میں 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ایس اینڈ پی 500 کے ای منی فیوچرز میں بھی 0.3 فیصد اضافہ ہوا۔
تاہم فرانس کی اسٹاک مارکیٹ میں حکومت کی جانب سے حالیہ بدامنی پر قابو پانے کے اقدامات سے متعلق خدشات کے باعث دباؤ دیکھا گیا۔

ادھر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں سرمایہ کار انڈونیشیا کے مرکزی بینک کے فیصلے کے منتظر تھے، جہاں ملکی کرنسی روپیہ دباؤ کا شکار ہے اور ایم ایس سی آئی کی جانب سے انڈونیشیائی حصص کو اپنے اہم انڈیکسز سے خارج کرنے کے ممکنہ اقدام نے مارکیٹ میں تشویش پیدا کر رکھی ہے۔










