پنجاب حکومت کی جانب سے کاشتکاروں کے لیے کسان بینک کے قیام اور آسان قرضوں کی سہولت جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت 4 ہزار 500 روپے فی من مقرر کرنے کے اعلانات کو پاکستان کسان اتحاد، مرکزی کسان لیگ اور دیگر زرعی تنظیموں نے خوش آئند قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کسان کارڈ اسکیم: لکی ڈرا کے فاتحین کا اعلان، کسانوں میں موبائل فونز تقسیم
تاہم ان تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ زراعت کو صنعت کا درجہ دیا جائے، گندم مارکیٹ میں آنے پر شفاف خریداری کا نظام نافذ کیا جائے تاکہ کاشتکاروں کو نئی امدادی قیمت کا حقیقی فائدہ مل سکے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل مالی نقصانات کا سامنا کرنے والے کسانوں کو زیادہ سے زیادہ قرضوں کی سہولت فراہم کی جائے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صوبوں سے مشاورت کے بعد گندم کی امدادی قیمت 4 ہزار 500 روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری دی ہے جو گزشتہ سال مقرر کردہ 3 ہزار 500 روپے فی من کے مقابلے میں ایک ہزار روپے زیادہ ہے۔
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ تقریباً چار دہائیوں بعد مرتب کی جانے والی جامع قومی گندم پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد کسانوں کے مفادات کا تحفظ، مارکیٹ میں استحکام اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق درآمدی گندم کی لاگت بھی تقریباً اتنی ہی ہے اس لیے مقامی کسانوں سے گندم کی خریداری کو ترجیح دی جائے گی جبکہ رواں سال 60 لاکھ ٹن تک اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھے جائیں گے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کاشتکاروں کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران صوبے میں پہلا کسان بینک قائم کرنے کا اعلان کیا۔ اس بینک کے تحت کاشتکاروں کو ایک کروڑ روپے تک بلا سود، 3 کروڑ روپے تک 2 فیصد اور 5 کروڑ روپے تک 5 فیصد شرح سود پر قرض فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 17 ارب روپے کے سبسڈی والے زرعی قرضوں کا اعلان بھی کیا گیا جبکہ کسان کارڈ کے تحت فی ایکڑ قرض کی حد بڑھا کر 33 ہزار 500 روپے کردی گئی ہے۔
مزید پڑھیے: وزیراعلیٰ مریم نواز کے کسان دوست اقدامات سے پنجاب میں زرعی انقلاب آگیا، عظمیٰ بخاری
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ کاشتکاروں کو جدید مشینری، معیاری بیج اور کھاد تک آسان رسائی فراہم کی جائے گی تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہو اور دیہی معیشت مضبوط ہوسکے۔
زراعت کو صنعت کا درجہ دیا جائے
پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے لاہور میں ان اعلانات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے کسان بینک اور آسان قرضوں کی سہولت جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے کاشتکار اپنی فصلوں پر مسلسل نقصان اٹھا رہے ہیں۔ کھاد، بیج، بجلی اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے ان کے پیداواری اخراجات ناقابل برداشت بنا دیے ہیں۔ اس صورت حال میں پنجاب حکومت کو چاہیے کہ کاشتکاروں کو زیادہ سے زیادہ قرضے فراہم کرے تاکہ وہ اپنی پیداوار بڑھانے کے ساتھ مالی مشکلات سے بھی نکل سکیں۔
خالد محمود کھوکھر نے مطالبہ کیا کہ زراعت کو صنعت کا درجہ دیا جائے کیونکہ یہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب گندم مارکیٹ میں آئے تو حکومت اس کی خریداری اور مارکیٹنگ کا بہتر انتظام کرے، شفاف خریداری کا نظام نافذ کرے اور درمیانی افراد کا کردار محدود بنائے تاکہ کاشتکاروں کو نئی امدادی قیمت کا حقیقی فائدہ پہنچ سکے۔
انہوں نے کہا کہ محض قیمت کا اعلان کافی نہیں، بلکہ اس پر عملی طور پر عمل درآمد اور بروقت خریداری ہی کسانوں کی خوشحالی اور زراعت کو درست سمت میں گامزن کرنے کے لیے ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کاشتکاروں کے لیے مثبت قدم
مرکزی کسان لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر رضوان محمود نے بھی وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے کاشتکاروں کے لیے کیے گئے اعلانات اور گندم کی امدادی قیمت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کسانوں کے مفاد میں مثبت قدم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا فائدہ کاشتکاروں کو اسی صورت میں پہنچ سکتا ہے جب حکومت فعال انداز میں گندم کی خریداری کرے اور صوبوں کے ساتھ مل کر مربوط خریداری پالیسی تشکیل دے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کے کسان دوست اقدامات سے پنجاب میں زرعی انقلاب آگیا، عظمیٰ بخاری
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر گندم کی زیادہ مقدار نجی سرمایہ کاروں کے ہاتھ میں چلی گئی تو ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں اضافے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹر رضوان محمود نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھاد اور دیگر زرعی مداخل کی قیمتیں مستحکم کی جائیں، جبکہ مٹی کے ٹیسٹ کی بنیاد پر کھاد کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ کاشتکاروں کی پیداواری لاگت کم اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہوسکے۔
دیگر زرعی تنظیموں نے بھی گندم کی امدادی قیمت اور قرضوں سے متعلق اعلانات کو مثبت قرار دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں گندم کی خریداری کے نظام میں موجود خامیوں کے باعث کاشتکاروں کو نقصان اٹھانا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں گندم کی امدادی قیمت 4500 روپے فی من مقرر، کسانوں کے لیے 17 ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان
تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ اس بار شفافیت یقینی بنانے، بروقت ادائیگی کرنے اور درمیانی افراد کے استحصال کو روکنے کے لیے مؤثر اور سخت اقدامات کیے جائیں۔










