’یہ کہانی کہاں سے ایجاد کردی؟‘،شبرزیدی کے انکشافات پر اسد عمر کا ردعمل

جمعہ 28 جولائی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تحریک انصاف کے دور حکومت میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین بنائے جانے والے شبر زیدی معیشت پر اپنے بے لاگ تبصروں کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہتے ہیں، تاہم اس بار ان کے تازہ ارشادات معیشت سے زیادہ سیاست سے متعلق ہیں۔ شبر زیدی نے نجی ٹیلی ویژن سے وابستہ معروف اینکر شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں جو انکشافات کیے ہیں اس کی سامنے والی چند جھلکیوں نے ہی ایک نئی سیاسی بحث کا دروازہ کھول دیا ہے۔

شبز زیدی کے انکشافات کے مطابق جس وقت وہ بطور چیئرمین ایف بی آر فرائض انجام دے رہے تھے تب ان سے ن لیگ کے اراکین کے ٹیکس کی فائلیں مانگی جاتی تھیں۔

شبر زیدی کے مطابق انہوں نے خراب معیشت سے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی کو آگاہ کیا، انہیں مشورے دیے لیکن وہ کچھ سننے کے موڈ میں نہيں تھے۔

سابق چیئرمین ایف  بی آر کے دعوے کے مطابق جس وقت انہوں نے ملتان کے بڑے زمیندار کو نوٹس بھیجا تو شاہ محمود قریشی کی قیادت میں 40 اراکین اسمبلی آگئے، جب تمباکو مافیا کو ٹیکس نیٹ میں لانے لگے تو اسد قیصر کے ساتھ ایم این ایز آگئے  اور کہا وہ ٹیکس نہیں دے سکتے۔ ان کے مطابق جب انہوں نے قبائلی علاقوں میں اسٹیل ری رولنگ ملز پر ہاتھ ڈالا تو فاٹا کے 20 سینیٹرز چیئرمین تحریک انصاف کے پاس پہنچ گئے۔

شبر زیدی کے مطابق اگر تحریک انصاف کی حکومت چلتی رہتی تو مدت ختم ہونے تک ملک معاشی طور پر تباہ ہو جاتا۔

شبر زیدی کے ان انکشافات پر اپنے ردعمل میں تحریک انصاف کے سابق رہنما اور سابق وزیرخزانہ اسدعمر نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ’شبر بھائی خیریت ہے، یہ کہانی کہاں سے ایجاد کر دی؟۔ تحریک انصاف کی حکومت اگست 2018 میں بنی تھی، پی ٹی آئی حکومت کے اختتام پر اسٹیٹ بینک کے زر مبادلہ ذخائر 9.8 ارب ڈالر تھے، میرے وزارت خزانہ سے ہٹنے کا مہینہ اپریل 2019 تھا، میرے وزارت خزانہ سے ہٹنے کے وقت زر مبادلہ کے ذخائر 8.7 ارب ڈالر تھے، یہ ڈیفالٹ کی کہانی کہاں سے آگئی؟‘

اسد عمر نے مزید لکھا کہ ’موجودہ حکومت کے دور میں زر مبادلہ کے ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی کم ہو گئے تھے پھر بھی قرضوں کی ادائیگی میں ڈیفالٹ نہیں ہوا تو 8.7 ارب ڈالر پر ڈیفالٹ کیسے ہوتا؟‘۔

دوسری طرف شبر زیدی نے اپنے انٹرویو باضابطہ نشر ہونے سے قبل ہی اس کی بعض جھلکیوں پر آنے والے ردعمل پر دفاعی پوزیشن اختیار کرلی ہے، اور اس حوالے سے اپنی ایک وضاحتی ٹوئٹ کی ہے۔

شبر زیدی نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا ہے’میرا مشورہ ہے کہ کلپس چلائے جانے کی بنیاد پر تبصرے نہ کریں۔ مکمل انٹرویو دیکھیں۔ میں اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ کوئی غیر ضروری ترمیم نہ ہو۔ میں نے پارٹی پر نہیں سسٹم پر تنقید کی ہے۔ میں نے کھلے عام کہا ہے کہ عمران خان کی اقتصادی پالیسی میں کوئی خرابی نہیں تھی، البتہ ‘مافیا’ نے بلاک کر دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کسی کو شکایت ہے تو الیکشن کمیشن سے رجوع کرے، ن لیگ نے آزاد کشمیر میں دھاندلی کا الزام مسترد کردیا

برطانیہ کا صدیوں پرانا نظام بدلنے کی تیاری؟ وزیراعظم اینڈی برنہم کا اہم بیان سامنے آگیا

مظفرآباد میں ایم این اے صلاح الدین جونیجو پر حملہ کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے، بلاول بھٹو

ریاض ایئر کا وسط اگست میں پاکستان کے لیے فلائٹ آپریشن شروع کرنے کا امکان، ویب سائٹ پر بکنگ شروع

پیپلز پارٹی کا آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کا الزام، نتائج تسلیم نہ کرنے کا اعلان کردیا

ویڈیو

فیفا میں اعتماد کا بحران، انفانٹینو کی قیادت ناقابل قبول قرار

40 سال کی کم ترین سطح پر پہنچنے والے ین کو سہارا دینے کے لیے ٹوکیو اور واشنگٹن متحرک

براڈ پیک پر برفانی تودے سے ہلاک نرمل پرجا کی لاش مل گئی، ریسکیو آپریشن جاری

کالم / تجزیہ

جاوید میانداد کی ایک ناقابل فراموش اننگز کا تذکرہ

غزہ کے بچوں کی دلدوز شاعری   

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور