جسٹس منصور کی ججز کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت، 63 اے نظرثانی اور آڈیو لیک کمیشن کیس سماعت کے لیے مقرر

پیر 23 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 63 اے نظرثانی اور آڈیو لیک کمیشن کیس سماعت کے لیے مقرر کردیے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی ترمیمی آرڈیننس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، اور اجلاس میں شرکت کیے بغیر روانہ ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق ججز کمیٹی کے اجلاس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں آرٹیکل 63 اے کو اصل شکل میں لایا جائے گا، وفاقی وزیر قانون

63 اے نظرثانی کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ 30 ستمبر کو کرے گا۔

بینچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندو خیل اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق آڈیو لیک کمیشن کیس بھی سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا ہے، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس منصور علی شاہ کریں گے۔

لارجر بینچ میں جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کیخلاف سپریم کورٹ میں سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی

سپریم کورٹ کے مطابق آڈیو لیک کمیشن کیس سماعت کی تاریخ بعد میں بتائی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

باغبانپورہ میں اسکول کی چھت گر گئی، 10 سالہ بچہ جاں بحق، 4 مزدور زخمی

مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان پر پابندی، اسرائیلی پارلیمان سے متنازع بل  کی ابتدائی منظوری

سام سنگ کا نیا فون لانچ کے لیے تیار،کیا یہ اب تک کا سب سے جدید فون ثابت ہوگا؟

واٹس ایپ گروپ ایڈمن ہر پوسٹ کا ذمہ دار نہیں، لاہور ہائیکورٹ کا اہم ترین فیصلہ

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز