کیا جسٹس طارق محمود جہانگیری سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی سے بچ پائیں گے؟

جمعہ 17 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم جوڈیشل کونسل آج اپنے اجلاس میں اعلٰی عدلیہ کے ججز کے خلاف شکایات کے ساتھ ساتھ اِسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف شکایت کا بھی جائزہ لے گی۔

30 ستمبر کو جسٹس جہانگیری کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران آئینی بینچ کے رُکن جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا تھا کہ 18 اکتوبر کو سپریم جوڈیشل کونسل اپنے اجلاس میں ججوں کے خلاف شکایات کا جائزہ لے گا۔

16 ستمبر کو اِسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 رُکنی بینچ نے ایک عبوری حکمنامے کے ذریعے چیف جسٹس، سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ایڈووکیٹ میاں داؤد کی درخواست پر اِسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کو کام سے روک دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخی کا فیصلہ معطل کردیا

جسٹس جہانگیری پر اِلزام تھا کہ اُنہوں نے اپنی قانون کی ڈِگری درست طریقے سے حاصل نہیں کی۔

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے جب یہ حکمنامہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو 30 ستمبر کو سپریم کورٹ کے 5 رُکنی بینچ نے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں اِسلام آباد ہائیکورٹ کا حکمنامہ کالعدم قرار دیتے ہوئے جسٹس جہانگیری کو اپنے عہدے پر بحال کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے اِس حکمنامے کی بنیاد سپریم کورٹ کا ایک پرانا حکمنامہ تھا جس کے مطابق کوئی جج کسی دوسرے جج کیخلاف کارروائی نہیں کر سکتا۔

سپریم جوڈیشل کونسل

ججوں کے احتساب کے لیے قائم ادارہ سپریم جوڈیشل کونسل آج جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف درخواست پر سماعت کرے گا۔ سپریم جوڈیشل کونسل آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کا احتساب کرتا ہے اور ججوں کے خلاف شکایات کا یہ واحد فورم ہے۔

مزید پڑھیں: کیسے طے کرلیا گیا کہ جسٹس طارق محمود کی ڈگری جعلی ہے؟ ڈاکٹر ریاض نے سوالات اٹھا دیے

جس میں طریقۂ کار کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل اگر کسی جج کو مِس کنڈکٹ کا مرتکب پائے تو وہ صدر پاکستان کو اُن کو ہٹانے کی سفارش کرتی ہے جیسا کہ گزشتہ برس مارچ میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف کیا گیا اور اُن کو اپنے عہدے سے ہٹایا گیا۔

آئین کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل جو چیف جسٹس اور سینیئر ججز پر مشتمل ہوتی ہے، ججوں کو صرف یہی ادارہ ہٹا سکتا ہے۔

جسٹس طارق محمود جہانگیری پر کیا الزام ہے؟

جسٹس طارق محمود جہانگیری پر الزام ہے کہ اُنہوں نے کراچی یونیورسٹی سے اپنی ایل ایل بی کی ڈگری اَن فیئر مینز یعنی غیر منصفانہ طریقے سے حاصل کی تھی، 16 ستمبر کو اِسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 رُکنی بینچ نے اُنہیں ایک عبوری حکمنامے کے ذریعے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے تک کام سے روک دیا تھ۔

دوسری جانب 27 ستمبر کو کراچی یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ نے اُن کی ڈگری غلط قرار دیتے ہوئے منسوخ کردی تھی، لیکن سندھ ہائیکورٹ کے بینچ نے 3 اکتوبر کو کراچی یونیورسٹی کا فیصلہ منسوخ کردیا جبکہ اِس فیصلے سے قبل 30 ستمبر کو سپریم کورٹ جسٹس جہانگیری کو بحال کر چکی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیلی پارلیمان میں اذان اور نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کا متنازع بل منظور

ایپل کا 2027 تک 5 نئے آئی فون متعارف کرانے کا منصوبہ، چین سے میموری چپس حاصل کرنے کا بھی امکان

باغبانپورہ  اسکول حادثہ : مریم نواز کا فوری نوٹس، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم

سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ،فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز