کیا ہم ایک اور وکلا تحریک کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

جمعہ 14 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

26ویں آئینی ترمیم کے خلاف وکلا کا اِختلافِ رائے، کمزور احتجاج، عدلیہ اور وکلا کے بارے میں معاشرے کے اندر عمومی حمایت میں کمی، میڈیا کے اندر اختلافِ رائے یہ کچھ ایسے فیصلہ کُن اِشاریے ہیں جن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ 2007 والی وکلا تحریک شاید ایک بار پھر دہرائی نہیں جاسکتی۔

2007 کی وکلا تحریک کو نہ صرف ساری وکلا تنظیموں، سول سوسائٹی، میڈیا اور عوام کی حمایت حاصل رہی بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی اُس احتجاج کو سپورٹ کیا گیا لیکن اِس وقت سال 2025 میں ویسی صورتحال نظر نہیں آتی بلکہ مختلف معاشرتی گروہوں کے اندر شدید ترین اختلاف رائے نظر آتا ہے۔

گوکہ پاکستان تحریک اِنصاف اور تحریکِ تحفظ آئین پاکستان نے مزاحمت کا اعلان کیا ہے لیکن یہ مزاحمت اُسی وقت فیصلہ کُن ثابت ہو سکتی ہے جب اِسے مکمل عوامی تائید و حمایت میّسر ہو لیکن فی الوقت ایسا نظر نہیں آتا۔

مزید پڑھیں: سینیٹ: پاکستان آرمی، نیوی اور ایئر فورس ترمیمی بل 2025 کثرت رائے سے منظور

گزشتہ روز قومی اسمبلی سے منظوری اور صدرِ مملکت کے دستخط کے بعد 27ویں آئینی ترمیم باقاعدہ آئین کا حصّہ بن گئی ہے، سپریم کورٹ آف پاکستان کے 2 سینئر جج صاحبان، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر مِن اللہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کو عدلیہ کی آزادی کے منافی قرار دیتے ہوئے اپنے مناصب سے استعفے دے دیے جبکہ وزیراعظم کے مُشیر برائے سیاسی اُمور رانا ثنا اللہ نے گزشتہ روز مستعفی ہونے والے ججز کو سیاسی جج قرار دے دیا۔

سابق اٹارنی جنرل اور معروف قانون دان اشتر اوصاف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اِس مُلک میں ایک وزیراعظم کو پھانسی لگا دیا گیا، ایک وزیراعظم کو توہینِ عدالت پر گھر بھیج دیا گیا، ایک اور وزیراعظم کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دے دیا، تو اِن سب باتوں سے مُلک میں کوئی آئینی بحران نہیں آیا تو اب بھی نہیں آئے گا۔

آج سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس یحیٰی آفریدی نے فُل کورٹ اِجلاس طلب کیا ہے جس میں ممکنہ طور پر نئی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔

موجودہ صورتحال

27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کی بعد ملک بھر میں مختلف بار ایسوسی ایشنز نے احتجاج کی کال دی اور اُس ترمیم کے خلاف مزاحمت کرنے کا عندیہ دیا۔ کراچی بار ایسوسی ایشن نے 2 روز قبل ایک کنونشن کا انعقاد کیا جس میں سٹی بار ایسوسی ایشنز نے شرکت کی اور حالیہ ترمیم کے خلاف تحریک کا عندیہ دیا گیا اِسی طرح لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی موجودہ ترمیم کو چیلینج کرنے کا عِندیہ دیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اِس بار 2007 طرز کی ایک فیصلہ کُن تحریک چل پائے گی یا نہیں؟

مزید پڑھیں: ایم کیو ایم کی لوکل باڈیز کے حوالے سے مجوزہ ترمیم پر مزید مشاورت کی جائےگی، وزیراعظم

26ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج کا کیا بنا؟

گزشتہ برس اکتوبر میں 26ویں آئینی ترمیم منظور ہوئی تو مختلف سیاسی جماعتوں اور وکلا تنظیموں کی جانب سے اِسے آئین پر حملہ قرار دیا گیا اور پھر 10 فروری کو وکلا تنظیموں کی جانب سے بڑے احتجاج کی کال دی گئی۔

لیکن وکلا کے اندر تقسیم کی وجہ سے یہ احتجاج مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ پاکستان بارکونسل، سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن، خیبر پختونخوا بار کونسل، پنجاب بار کونسل، بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایک مشترکہ بیان میں احتجاج کی کال کو مسترد کرتے ہوئے اُس کی مذمت کی۔

اور کہا کہ ہم 26ویں آئینی ترمیم اور اُس کے نتیجے میں جوڈیشل کمیشن کی جانب سے نئے جج صاحبان کی تقرری کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

2007 وکلا تحریک کے بڑے بڑے ناموں جیسے کہ علی احمد کُرد، حامد خان اور کئی دیگر سینئر وکلا گزشتہ برس سپریم کورٹ میں موجود تھے جب 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج کا عِندیہ دیا گیا لیکن یہ تحریک عملاً ناکامی کا شِکار ہوئی۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی: سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل 2025 کی منظوری

2007 اور 2025 وکلا تحریک کے لیے حالات کس طرح سے مختلف ہیں؟

2007میں وکلا تنظیموں کے اندر اِختلاف رائے نہیں تھا۔ 2007 کی وکلا تحریک راقم الحروف نے کور کی۔ اُس تحریک کی کامیابی کی بنیادی وجہ تمام وکلا تنظیموں کا ایک مقصد پر جمع ہونا اور فکری اتحاد تھا۔

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور اُس وقت کے جج صاحبان کو جب اُس وقت کے فوجی صدر نے اپنے عہدوں سے معزول کیا جس حُکم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے جسٹس افتخار چوہدری سپریم کورٹ کی طرف بڑھے تو پولیس والوں نے اُنہیں بالوں سے پکڑ لیا۔

وہ ایک تصویر ساری وکلا تحریک کے لیے عمل انگیز ثابت ہوئی۔ اُس وقت تمام وکلا تنظیمیں سِول سوسائٹی اور عام پبلک ججوں کی بحالی کے حق میں یکسو اور متحد تھے۔ بنیادی طور پر وکلا تنظیموں کے اندر اِس مقصد کی خاطر کوئی بڑا اِختلافِ رائے نہیں تھا۔

مزید پڑھیں: صدر مملکت نے 27ویں آئینی ترمیم پر دستخط کر دیے، بل آئین کا حصہ بن گیا

موجودہ صورتحال میں وکلا تنظیموں کے اندر بہت سا اختلاف رائے موجود ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے موجود صدر ہارون الرّشید نے چند روز قبل وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالت وقت کی ضرورت ہے تاکہ عام سائلین کے مقدمات تاخیر کا شِکار نہ ہوں۔

پرانے نظام کے اندر عدالتیں زیادہ تر رِٹ پٹیشنز سُنتی رہتی تھیں اور عام آدمی کے مقدمات تاخیر کا شکار ہوتے تھے۔ اب آئینی عدالت کے قیام کے بعد تمام آئینی نوعیت کے مقدمات کی سماعت الگ ہو جائے گی۔

جس سے اِنصاف کی فراہمی میں تیزی آئے گی۔ اِسی طرح سے کئی دیگر اہم وکلا تنظیمیں 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ہیں اور وکلا کے اندر اِتّفاقِ رائے موجود نہیں۔

2007 میں حکومتی ردّعمل بڑا سخت تھا

2007 میں وکلا تحریک کو ناکام بنانے کے لیے اُس وقت کی حکومت نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ وکلا رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، اُنہیں زدوکوب کیا گیا۔ اور کئی وکلا کو مہینوں گرفتار اور لاپتا بھی رکھا گیا۔

مزید پڑھیں: آرٹیکل 243 کی ترمیم صرف افواج کے کمانڈ سسٹم تک محدود ہے، رانا ثنا اللہ

امسال فروری میں وکلا نے احتجاج کیا تو ایک تو احتجاج میں اُتنی شدّت نہیں تھی اور دوسری طرف حکومت نے بھی اُتنی سختی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

عدلیہ کا امیج اور عوامی حمایت

پاکستان کے کسی دور میں بھی عدلیہ کا امیج زیادہ اچھا نہیں رہا، لیکن 2007 میں عدلیہ ایک مظلوم فریق کے طور پر اُبھری تو اُسے بھرپور عوامی حمایت حاصل ہوئی۔ سول سوسائٹی اور عام لوگ جوق در جوق وکلا کے جلسوں میں شریک ہوتے رہے۔

لیکن وکلا تحریک کی کامیابی کے بعد جس طرح سے وکلا نے پرتشدد واقعات میں ملوّث ہو کر اور اعلیٰ عدلیہ نے متنازع فیصلوں کے ذریعے سے عوامی سطح اپنی حمایت کھو دی ہے۔ اِس لیے اِس وقت وکلا کی کال پر عام لوگوں کا باہر نکلنا قرینِ قیاس نظر نہیں آتا۔

مزید پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم کے مقابلے میں 27ویں ترمیم کی منظوری کس طرح مختلف تھی؟

میڈیا میں تقسیم

2007 میں زیادہ تر پاکستانی میڈیا وکلا تحریک کی کامیابی کے لیے یکسو تھا۔ وکلا کے مطالبات کو جائز قرار دیا جاتا اور وکلا احتجاجات کو بھرپور کوریج دی جاتی۔ اس وقت میڈیا بھی تقسیم ہے اور اگر وکلا تحریک چلائی جاتی ہے تو میڈیا کے بعض حصوں سے اُسے حمایت کے بجائے مزاحمت مل سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حالیہ کارکردگی پر ٹیم میں میری جگہ نہیں بنتی، محمد رضوان کا اعتراف

پاکستان کو ترک ریاستوں کی تنظیم ‘او ٹی ایس’ کا مکمل رکن بنایا جائے، ترک رکن پارلیمنٹ علی شاہین کا مطالبہ

ایران امریکا مذاکرات دوسرا دور: سیرینا ہوٹل میں انتظامات میں خاص کیا بات ہے؟

میانمار اسمگلنگ کی کوشش ناکام، بنگلہ دیش نیوی نے 11 افراد کو سیمنٹ سے بھری کشتی سمیت گرفتار کرلیا

پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے دوران فعال سفارت کاری بنگلہ دیش کے لیے مثال قرار

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟