ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے رکن اور ترکی۔پاکستان پارلیمانی دوستی گروپ کے چیئرمین علی شاہین نے پاکستان کو ترک ریاستوں کی تنظیم (او ٹی ایس) کا مکمل رکن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے تفصیلی بیان میں پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کو ‘بے مثال، کثیر الجہتی اور منفرد’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات صرف سفارتی نہیں بلکہ تاریخی، ثقافتی اور روحانی بنیادوں پر قائم ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: نائجیریا اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ، فوجی تعاون بڑھانے پر اتفاق
علی شاہین کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ایک گہرا تہذیبی رشتہ موجود ہے جو صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، زبان اور مذہبی اقدار سے تشکیل پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان بھی ترک لفظ ‘اردو’ سے ماخوذ ہے اور اس میں متعدد ترک نژاد الفاظ شامل ہیں۔
انہوں نے تاریخی حوالوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر میں غزنوی، دہلی سلطنت اور مغل دور کے ترک نژاد حکمرانوں کے اثرات آج بھی پاکستانی معاشرے میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
روحانی اور فکری حوالے سے انہوں نے علامہ اقبال اور جلال الدین رومی کے تعلق کو دونوں ممالک کے درمیان گہرے فکری رشتے کی علامت قرار دیا۔ ان کے مطابق ترکیہ کی جنگِ آزادی کے دوران برصغیر کے مسلمانوں کی حمایت بھی دونوں اقوام کی مشترکہ تاریخی وراثت کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں پاکستان، ترکیہ اور قطر کی اہم سہ فریقی ملاقات
اسٹریٹجک سطح پر علی شاہین نے پاکستان کو جنوبی ایشیا میں ترکیہ کا قدرتی اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعلق ترکیہ کے ‘دل کے جغرافیہ’ کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکیہ، آذربائیجان اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی تعاون میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ سربراہی ملاقاتوں میں رجب طیب ایردوان، الہام علییف اور شہباز شریف کے درمیان روابط نے اس تعاون کو مزید مضبوط کیا ہے۔
یاد رہے کہ او ٹی ایس نے حال ہی میں ‘او ٹی ایس پلس’ فارمیٹ متعارف کروایا ہے جس کا مقصد غیر رکن ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانا ہے، اور ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے مبصر یا شراکتی حیثیت ایک ابتدائی اور قابلِ عمل قدم ہو سکتا ہے۔














