مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران میں پاکستان کی سرگرم سفارتی کوششوں نے بنگلہ دیش میں توجہ حاصل کر لی ہے، جہاں ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی امور میں اسلام آباد کا متحرک کردار ڈھاکا کے لیے بھی اہم سبق رکھتا ہے۔
یہ موضوع اس وقت مزید نمایاں ہوا جب انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر بنگلہ دیش اور پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان ملاقات ہوئی۔ بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے 17 اپریل کو پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی اور خلیجی کشیدگی کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی قابلِ ستائش سفارتی کوششوں کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: ایندھن کی قلت اور بجلی کی بندش سے 4 ہزار سے زائد ٹیوب ویلز بند، دھان کی فصل کو خطرہ
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھی ہوئی ہے، جس کے اثرات جنوبی ایشیا کی درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والی معیشتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
بنگلہ دیشی سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک بھی مذاکرات، درست حکمتِ عملی اور مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے عالمی معاملات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار محمد جلال الدین سکدر نے کہا کہ عالمی اثر و رسوخ صرف امیر یا تیل پیدا کرنے والے ممالک تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش پاکستان سے یہ سیکھ سکتا ہے کہ کس طرح امریکا اور چین جیسی بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھتے ہوئے قومی مفادات کا تحفظ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا کا ڈھاکا میں مغلیہ دور کی تاریخی مسجد کی بحالی کے لیے 2 لاکھ 35 ہزار ڈالر گرانٹ کا اعلان
ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان دونوں عالمی تیل قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بحری راستوں میں رکاوٹوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ خلیج میں کشیدگی کم ہونے سے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کی معیشتوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
شاہدالاعظم نے کہا کہ اگر جنگ جاری رہی تو ایندھن کی ترسیل، مہنگائی اور معاشی ترقی متاثر ہوگی۔
جبکہ روبیات منان رافی نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں واضح حکمتِ عملی کا مظہر ہیں، اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے لیے خلیج میں استحکام معاشی ضرورت ہے۔
خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق بنگلہ دیش اب تک معاشی سفارت کاری، لیبر مارکیٹس، موسمیاتی مذاکرات اور علاقائی استحکام پر توجہ دیتا رہا ہے، مگر بدلتے ہوئے عالمی حالات میں اسے وسیع جغرافیائی سیاسی معاملات پر بھی زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: ڈھاکا، خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے جولائی تحریک کے شرکا کو قانونی تحفظ دینے کی حمایت کردی
ماہرین کے مطابق پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ علاقائی ممالک غیر جانبداری، تمام فریقوں سے رابطے اور بحران کے وقت فوری کردار ادا کر کے عالمی سطح پر اپنی اہمیت بڑھا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے لیے پیغام واضح ہے کہ آج کی تقسیم شدہ دنیا میں اثر و رسوخ صرف دولت یا حجم سے نہیں بلکہ بروقت سفارت کاری، تزویراتی توازن اور سب سے بات کرنے کی صلاحیت سے حاصل ہوتا ہے۔














