مراقبے سے ذہنی سکون اور عالمی امن کی ترویج ممکن

اتوار 21 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے زیراہتمام آج دوسرا عالمی یوم مراقبہ منایا جا رہا ہے۔ اس مناسبت سے نیویارک میں ادارے کے ہیڈکوارٹر میں مراقبہ کی نشست کا اہتمام ہوا جس کی قیادت انڈیا سے تعلق رکھنے والے روحانی رہنما گرو دیو روی شنکر نے کی۔

یہ بھی پڑھیں: مراقبہ سے کیسے دماغی صلاحیت بہتر بنائی جا سکتی ہے؟

اقوام متحدہ میں انڈیا کے مستقل مشن اور دیگر ممالک کے اشتراک سے منعقدہ اس تقریب کا عنوان ‘مراقبہ برائے عالمی امن و ہم آہنگی’ رکھا گیا جس کا مقصد باطنی ہم آہنگی کو اپنانا اور بین الاقوامی اتحاد کو فروغ دینا تھا۔

اس موقع پر گرو روی شنکر کا کہنا تھا کہ جب باطن پر توجہ کی کمی بڑھ جائے تو مراقبہ ضروری ہو جاتا ہے۔ آج دنیا بھر کی تقریباً 500 جامعات مراقبے کو اپنا رہی ہیں اور ہسپتال بھی اس کی افادیت تسلیم کر رہے ہیں۔ دنیا کو درپیش بہت سے سنگین مسائل کے اس دور میں مراقبہ امن، اتحاد اور ہمدردی کو فروغ دینے کا موثر ذریعہ ہو سکتا ہے۔

مراقبہ کی اہمیت 

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گزشتہ سال یہ دن منانے کا فیصلہ کیا اور ہر فرد کے اپنی جسمانی و ذہنی صحت کے اعلیٰ ترین ممکنہ معیار سے مستفید ہونے کے حق کی توثیق کی تھی۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی مراقبہ کی افادیت کو تسلیم کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ عمل اپنی ذات کی موثر نگرانی کا ذریعہ ہے جو فرد کی مجموعی فلاح کو بہتر بناتا ہے اور خاص طور پر ذہنی بے چینی سے نجات دلانے کا ذریعہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مراقبہ کی مشق تھی یا ’اجتماعی قتل‘، پولیس نے کیا دیکھا؟

گرو روی شنکر نے بتایا کہ تقریباً 700 تحقیقی مقالے مراقبہ کے 100 سے زیادہ فوائد کی نشاندہی کرتے ہیں۔ روزمرہ زندگی میں چند منٹ کے لیے مراقبہ کرنے سے بھی سکون اور یکسوئی حاصل کی جا سکتی ہے۔ مراقبہ انسان کو یکجائی کے احساس، سکون اور اس وحدت کی کیفیت تک لے جاتا ہے جو تمام انسانوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔

ذہنی سکون کا ذریعہ

مراقبہ کی نشست سے قبل گرو روی شنکر نے حاضرین سے کہا کہ غصہ اور خواہشات ذہن کو جکڑ لیتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں ذہن کو پرسکون نہیں رہنے دیتیں حتیٰ کہ نیند میں بھی رکاوٹ ڈالتی ہیں جبکہ مراقبہ اور سانس کی مشقیں ان پریشان کن کیفیات سے نجات دلا سکتی ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سانس میں ایک راز چھپا ہے۔ سانس جسم اور ذہن کو جوڑتا ہے۔ جب سانس پر توجہ دی جاتی ہے تو اس سے جذبات کو پرسکون کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم، مراقبہ زبردستی نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ خود بخود وقوع پذیر ہوتا ہے۔

انسان صرف ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جس میں مراقبہ ہو سکے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ خواہشات کو ایک طرف اور بے چینی و خوف کو دوسری طرف رکھ دیا جائے کہ ان سے بعد میں بھی نمٹا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیلی پارلیمان میں اذان اور نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کا متنازع بل منظور

ایپل کا 2027 تک 5 نئے آئی فون متعارف کرانے کا منصوبہ، چین سے میموری چپس حاصل کرنے کا بھی امکان

باغبانپورہ  اسکول حادثہ : مریم نواز کا فوری نوٹس، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم

سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ،فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز