پاکستان بار کونسل نے پنجاب پروٹیکشن آف پراپرٹی قانون کے اطلاق کی معطلی کے لاہور ہائیکورٹ کے عبوری حکم کا خیرمقدم کیا ہے۔ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آئین، قانون اور عدالتی بالادستی کے عین مطابق ہے۔
پاکستان بار کونسل کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نئے آرڈیننس کے تحت ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں کمیٹیوں کو جائیداد کے تنازعات کا اختیار دینا آئین و قانون کے منافی ہے۔ اعلامیے کے مطابق یہ آرڈیننس عدلیہ کے اختیارات، شہری حقوق اور سول عدالتی نظام کو کمزور کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے لاہور ہائیکورٹ: پنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس پر عملدرآمد روک دیا، چیف جسٹس کے سخت ریمارکس
اعلامیے میں کہا گیا کہ زیرِ سماعت مقدمات میں ریونیو افسران کے ذریعے قبضہ دلوانا عدالتی اختیار پر براہِ راست حملہ ہے اور کچھ عناصر تمام اختیارات، بشمول عدالتی اختیارات، اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔
پاکستان بار کونسل کے مطابق پٹواریوں اور اسسٹنٹ کمشنرز کو دائرہ اختیار سے بڑھ کر اختیارات دینا ناقابل قبول ہے، جبکہ قوانین کی تشریح کا اختیار آئینی طور پر صرف عدلیہ کو حاصل ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو عبوری حکم جاری کرنے کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے اور عدلیہ کے اختیارات کو کمزور کرنے والے قانون کی معطلی ایک درست اور بروقت فیصلہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے پنجاب میں 90 روز کے اندر زمینوں سے قبضہ ختم کروانے کا طریقہ کار کیا ہے؟
پاکستان بار کونسل نے واضح کیا کہ وکلا برادری چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور عدالتی ادارے کے ساتھ کھڑی ہے اور پنجاب حکومت کی جانب سے آرڈیننس کے حق میں پیش کیے گئے مؤقف کو مسترد کرتی ہے۔














