نادرا قوانین میں انقلابی تبدیلی، بینکوں اور اداروں میں بائیومیٹرک مسائل کا حل تلاش کرلیا گیا

بدھ 31 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے قومی شناختی کارڈ کے قواعد میں اہم ترمیم کرتے ہوئے بائیومیٹرکس کی تعریف کو وسعت دے دی ہے، جس کے تحت اب فنگر پرنٹس کے ساتھ ساتھ چہرے اور آنکھوں کی اسکیننگ کو بھی قانونی طور پر قابلِ قبول بائیومیٹرک شناخت تسلیم کر لیا گیا ہے۔

یہ ترمیم نادرا کی سفارش پر کی گئی ہے، جس کے بعد پاکستان میں ملٹی بائیومیٹرک ویری فکیشن سسٹم کے نفاذ کے لیے مضبوط قانونی بنیاد فراہم ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری، نادرا سے وراثتی سرٹیفکیٹ کا حصول انتہائی آسان ہوگیا

اسی قانونی فریم ورک کے تحت نادرا نے کنٹیکٹ لیس فنگر پرنٹس اور فیشل ریکگنیشن پر مبنی بائیومیٹرک تصدیق کی جدید تکنیکی سہولت متعارف کرا دی ہے۔ نادرا کے مطابق یہ نظام اس وقت نادرا رجسٹریشن مراکز اور پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر دستیاب ہے، جبکہ اسلام آباد میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی منتقلی اور آن لائن پاسپورٹ درخواستوں میں بھی اس کا استعمال شروع ہو چکا ہے۔

نادرا کا کہنا ہے کہ مستقبل میں وفاقی حکومت کے پنشنرز کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹس بھی اسی نظام کے تحت جاری کیے جائیں گے، جبکہ ان ڈیجیٹل سہولیات کے دائرہ کار کو مرحلہ وار وسعت دی جا رہی ہے۔

20 جنوری 2026 سے نئی سہولت کا آغاز

نادرا کے مطابق 20 جنوری 2026 سے ملک بھر کے تمام نادرا رجسٹریشن مراکز پر ان شہریوں کے لیے فیشل ریکگنیشن پر مبنی بائیومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹس جاری کیے جائیں گے، جن کے فنگر پرنٹس کے ذریعے تصدیق ممکن نہیں ہوتی۔
شہری 20 روپے کی معمولی فیس ادا کر کے کسی بھی نادرا رجسٹریشن مرکز سے یہ سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیے نادرا کے تعاون سے پاک آئی ڈی ایپ پر فنگر پرنٹس کی تصدیق کا نیا نظام متعارف

اس طریقۂ کار کے تحت اگر کسی ادارے میں فنگر پرنٹ کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق ناکام ہو جائے تو شہری نادرا مرکز جا کر نئی تصویر بنوائیں گے، جسے نادرا کے ریکارڈ میں موجود تصویر سے میچ کیا جائے گا۔ کامیاب تصدیق کی صورت میں نادرا ایک سرٹیفکیٹ جاری کرے گا جس میں تصدیق کا مقصد، شہری کی حالیہ تصویر اور ریکارڈ میں موجود تصویر، قومی شناختی کارڈ نمبر، نام اور والد کا نام اور  منفرد ٹریکنگ آئی ڈی اور کیو آر کوڈ شامل ہوں گے۔ یہ سرٹیفکیٹ 7 دن کے لیے قابلِ استعمال ہوگا اور متعلقہ ادارہ اسے نادرا کے ذریعے آن لائن ویریفائی کرے گا۔

اداروں کو سسٹمز اپ گریڈ کرنے کی ہدایت

نادرا نے واضح کیا ہے کہ وہ اس نظام کے مکمل نفاذ کے لیے تیار ہے، تاہم مؤثر اطلاق کے لیے ریگولیٹرز، سرکاری اداروں اور نجی شعبے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ منظور شدہ معیارات کے مطابق اپنے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کو مرحلہ وار اپ گریڈ کریں۔

پہلے مرحلے میں اداروں کے سافٹ ویئر سسٹمز کو نادرا کے فیشل ریکگنیشن سرٹیفکیٹس سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، جبکہ دوسرے مرحلے میں سروس کاؤنٹرز پر کیمرے نصب کرنا یا موجودہ کے وائی سی بائیومیٹرک مشینوں میں کیمرے شامل کرنا لازمی ہوگا۔

مزید پڑھیں:نادرا کا فیس وصولی کے لیے نیا اور آسان طریقہ کار کیا ہے؟

نادرا نے کہا ہے کہ اگر 20 جنوری 2026 کے بعد کسی شہری کو اس سہولت کے حصول میں مسئلہ پیش آئے تو وہ متعلقہ ادارے میں شکایت درج کرا سکتا ہے، کیونکہ نادرا کی جانب سے یہ سروس مکمل طور پر دستیاب ہوگی۔

فنگر پرنٹس سے درپیش مسائل کا مستقل حل

نادرا کے مطابق عمر بڑھنے یا بعض طبی وجوہات کے باعث کئی شہریوں کے فنگر پرنٹس مدھم ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے بینکنگ، سم کارڈ، جائیداد کی منتقلی اور دیگر لین دین میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔ ناقص فنگر پرنٹ ریڈرز بھی ان مسائل میں اضافہ کرتے ہیں۔

ان مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نادرا کو خصوصی ہدایات جاری کی تھیں، جن پر عمل درآمد کے نتیجے میں یہ اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بڑی خوشخبری، نادرا کی شناختی کارڈ سمیت تمام خدمات اب یونین کونسلز میں دستیاب ہونگی

نادرا کے مطابق نظام کے مکمل نفاذ کے بعد شہریوں کو متعلقہ اداروں میں ہی یہ سہولت دستیاب ہوگی اور نادرا رجسٹریشن مراکز جانے کی ضرورت نہیں رہے گی، جبکہ ڈیجیٹل آئی ڈی کے اجرا کے بعد پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے بھی یہ سہولت حاصل کی جا سکے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئیں، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت

17 سال بعد بھی بچوں کا ٹرسٹ خالی کیوں؟ پیرس جیکسن عدالت پہنچ گئیں

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا