ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے انجیکشنز، جیسے ویگووی اور مونجارو چھوڑنے والے افراد روایتی ڈائٹنگ اور ورزش ترک کرنے والوں کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ تیزی سے اپنا وزن دوبارہ بڑھا لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزن کم کرنے کے لیے نئی مؤثر گولی آگئی، ایف ڈی اے منظوری رواں سال متوقع
بی بی سی کے مطابق برطانوی میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ان انجیکشنز کے ذریعے زائد وزن کے شکار افراد اپنے جسمانی وزن کا تقریباً 20 فیصد تک کم کر لیتے ہیں تاہم علاج ختم کرنے کے بعد اوسطاً ہر ماہ 0.8 کلوگرام وزن دوبارہ بڑھ جاتا ہے۔ اس رفتار سے زیادہ تر افراد ڈیڑھ سال کے اندر دوبارہ اپنے پہلے وزن پر پہنچ جاتے ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر سوزن جیب نے خبردار کیا ہے کہ وزن کم کرنے کے انجیکشن استعمال کرنے والوں کو علاج ختم ہونے کے بعد تیزی سے وزن بڑھنے کے خطرے سے آگاہ ہونا چاہیے۔
ان کے مطابق یہ نتائج طبی آزمائشوں پر مبنی ہیں اور حقیقی زندگی میں طویل المدتی اثرات جانچنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
تحقیق میں 37 مطالعات کا جائزہ لیا گیا جن میں 9 ہزار سے زائد مریض شامل تھے تاکہ وزن کم کرنے والے انجیکشنز کا موازنہ روایتی ڈائٹنگ، ورزش اور دیگر ادویات سے کیا جا سکے۔
صرف 8 مطالعات میں جدید جی ایل پی 1 ادویات شامل تھیں اور فالو اپ کی زیادہ سے زیادہ مدت دوا چھوڑنے کے ایک سال بعد تک محدود تھی اس لیے اعداد و شمار تخمینے پر مبنی ہیں۔
مزید پڑھیے: دنیا کے سب سے موٹے شخص کا 41 برس کی عمر میں انتقال ہوگیا
ماہرین کے مطابق روایتی ڈائٹنگ کرنے والے افراد اگرچہ کم وزن گھٹاتے ہیں، مگر علاج کے بعد ان کا وزن آہستہ آہستہ بڑھتا ہے، اوسطاً 0.1 کلوگرام ماہانہ، اگرچہ یہ شرح مختلف ہو سکتی ہے۔
وزن دوبارہ بڑھنے کا خطرہ
برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس ان انجیکشنز کو صرف ان افراد کے لیے تجویز کرتی ہے جو موٹاپے کے ساتھ دیگر صحت کے مسائل کا شکار ہوں نہ کہ ان لوگوں کے لیے جو محض دبلا ہونا چاہتے ہوں۔
ڈاکٹروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ان ادویات کے ساتھ صحت مند غذا اور باقاعدہ ورزش کو بھی لازمی بنائیں تاکہ وزن برقرار رکھا جا سکے۔
بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن دوبارہ بڑھنے کے خطرے کے پیشِ نظر یہ علاج طویل المدتی یا حتیٰ کہ عمر بھر کے لیے ہو سکتا ہے۔ کچھ افراد جنہوں نے انجیکشن چھوڑنے کی کوشش کی انہوں نے اسے اچانک شدید بھوک محسوس ہونے سے تشبیہ دی۔
یونیورسٹی آف سرے کے ماہر غذائیت ڈاکٹر ایڈم کولنز کے مطابق یہ ادویات دماغ اور جسم میں قدرتی ہارمون جی ایل پی 1 کی نقل کرتی ہیں جو بھوک کو کنٹرول کرتا ہے۔ طویل عرصے تک مصنوعی جی ایل پی 1 لینے سے جسم قدرتی ہارمون کم پیدا کرنے لگتا ہے جس کے باعث دوا چھوڑتے ہی بھوک پر قابو مشکل ہو جاتا ہے۔
مزید وزن کم کرنے کا آسان اصول سامنے آگیا، مصروف افراد کے لیے بڑی سہولت
ان کے مطابق اگر کوئی فرد صرف دوا پر انحصار کرے اور غذا یا طرز زندگی میں تبدیلی نہ لائے تو وزن دوبارہ بڑھنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
تخمینوں کے مطابق گزشتہ ایک سال میں برطانیہ کے تقریباً 16 لاکھ افراد وزن کم کرنے والے یہ انجیکشن استعمال کر چکے ہیں، جن میں اکثریت نے یہ ادویات نجی طور پر حاصل کیں۔ مزید 33 لاکھ افراد آئندہ ایک سال میں ان انجیکشنز کے استعمال میں دلچسپی رکھتے ہیں یعنی ہر 10 میں سے ایک بالغ فرد نے یا تو یہ ادویات استعمال کی ہیں یا استعمال کرنے کا خواہشمند ہے۔
خواتین میں مردوں کے مقابلے میں انجیکشن کا دگنا استعمال
اعداد و شمار کے مطابق خواتین میں ان انجیکشنز کا استعمال مردوں کے مقابلے میں دگنا زیادہ ہے جبکہ 40 اور 50 سال کی عمر کے افراد میں یہ رجحان زیادہ پایا گیا ہے۔
ماہرین کی رائے
گلاسگو یونیورسٹی کے پروفیسر نوید ستار کا کہنا ہے کہ یہ ادویات قلیل مدت میں وزن کم کر کے دل، گردوں اور جوڑوں کو پہنچنے والے نقصان کو سست کر سکتی ہیں تاہم اس حوالے سے مزید طویل المدتی مطالعات کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق 3 سے 4 سال تک ان ادویات کا مسلسل استعمال وزن کو نمایاں طور پر کم رکھنے میں مدد دیتا ہے جو صرف طرز زندگی میں تبدیلی سے عموماً ممکن نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیے: موسم گرما اضافی وزن کم کرنے کے لیے بہترین، کیسے فائدہ اٹھائیں؟
دوسری جانب دوا ساز کمپنی ایلی للی (مونجارو بنانے والی) کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے والی ادویات کو صحت مند غذا، جسمانی سرگرمی اور طبی نگرانی کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے جبکہ نوو نورڈسک (ویگووی بنانے والی) کے مطابق یہ تحقیق موٹاپے کی دائمی نوعیت کو ظاہر کرتی ہے اور اس کے لیے مسلسل علاج ضروری ہو سکتا ہے بالکل اسی طرح جیسے ذیابیطس یا بلڈ پریشر کے علاج میں ہوتا ہے۔














