ریاض پولیس کا بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 5 غیرملکی زیرِ حراست

جمعہ 12 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب کے ریاض ریجن میں پولیس نے بھیک مانگنے کے الزام میں 5 بنگلہ دیشی باشندوں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

سعودی وزارتِ داخلہ کے محکمہ پبلک سیکیورٹی کی جانب سے جمعے کو جاری بیان کے مطابق گرفتاریاں مملکت بھر میں گداگری کے خاتمے کے لیے جاری مہم کا حصہ ہیں۔

سعودی خبر رساں ادارے (ایس پی اے) کے مطابق حکام ہر قسم کی گداگری کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے تمام علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے بلند رہنے کا امکان

پبلک سیکیورٹی نے شہریوں اور مقیم غیرملکیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے خیراتی عطیات صرف سرکاری طور پر منظور شدہ پلیٹ فارمز اور لائسنس یافتہ اداروں کے ذریعے دیں تاکہ مستحق افراد تک امداد شفاف اور منظم طریقے سے پہنچ سکے۔

سعودی حکام کے مطابق گداگری صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے بعض معاملات دیگر جرائم سے بھی جڑے ہو سکتے ہیں۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ، بچوں کے استحصال، چوری، منشیات کی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور غیرقانونی کارکنوں کے استعمال جیسے جرائم بعض اوقات گداگری کے نیٹ ورکس سے منسلک پائے جاتے ہیں۔

وزارتِ داخلہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ مملکت میں ہر قسم کی گداگری ممنوع ہے، خواہ اس کے لیے کوئی بھی جواز پیش کیا جائے۔

انسدادِ گداگری قانون کے تحت بھیک مانگنے، دوسروں کو اس کی ترغیب دینے، منصوبہ بندی کرنے یا معاونت فراہم کرنے والوں کو قید، جرمانے یا دونوں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

قانون کے مطابق گداگری سے متعلق جرائم میں ملوث غیرسعودی افراد سزا پوری کرنے کے بعد ملک بدری کا سامنا بھی کر سکتے ہیں، البتہ سعودی شہری کے شریک حیات یا سعودی ماں کے بچوں کے بعض معاملات اس سے مستثنیٰ ہیں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کا ماحول دوست سیاحتی منصوبہ ’العُرومہ سیزن‘، 6 ماہ میں 8 لاکھ سے زائد سیاحوں کی آمد

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ بعض افراد عوامی ہمدردی اور سخاوت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹریفک سگنلز، مساجد، شاپنگ سینٹرز، بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر بھیک مانگتے ہیں، خصوصاً مذہبی مواقع اور خیرات کے موسم میں ایسے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی کا انسدادِ گداگری شعبہ سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے سال بھر آگاہی مہمات چلاتا ہے، جبکہ ایسے اوقات میں کوششیں مزید تیز کر دی جاتی ہیں جب گداگری کے واقعات بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کا لبنان کے لیے بڑا فیصلہ، 5 سال بعد برآمدات بحال کرنے کا حکم

سعودی حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھیک مانگنے والوں کو براہِ راست رقم دینے سے گریز کریں اور ایسے واقعات کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

ریاض، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور مشرقی ریجن میں گداگری کی اطلاع 911 جبکہ مملکت کے دیگر علاقوں میں 999 پر دی جا سکتی ہے۔ حکام کے مطابق تمام اطلاعات کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ انسدادِ گداگری مہم کا مقصد معاشرتی تحفظ کو فروغ دینا، خیراتی سرگرمیوں کے غلط استعمال کو روکنا اور سعودی وژن 2030 کے تحت عوامی فلاح و بہبود اور امن و امان کے اہداف کو تقویت دینا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp