قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب کی نااہلی کے بعد سے اب تک اپوزیشن لیڈر کی نشست خالی ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کے لیے محمود خان اچکزئی کو نامزد کیا گیا تھا تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری نہیں ہو سکی۔ اب کہا یہ جا رہا ہے کہ رواں ہفتے اپوزیشن لیڈر تقرری ہو جائے گی۔
عمران خان کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے پر آغاز میں پی ٹی آئی میں اختلافات سامنے آئے تھے۔ بعض رہنماؤں کا خیال تھا کہ اپوزیشن لیڈر کا تعلق پی ٹی آئی سے ہی ہونا چاہیے۔ رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت بھی اس فیصلے پر اعتراض کر چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اپوزیشن کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے لیکن اپوزیشن لیڈر ایک ایسی جماعت کا بنایا جا رہا ہے کہ جس کی صرف ایک نشست ہے سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ کیسے فیصلے ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے پی ٹی آئی اور جے یو آئی کا محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی بنانے پر اتفاق
بعد ازاں پی ٹی آئی کے تمام رہنماؤں نے محمود خان اچکزئی کے نام پر اتفاق کر لیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے گزشتہ روز قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کے لیے پراسیس شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ اسپیکر نے کہا کہ عمر ایوب کی نااہلی کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست کی واپسی کی دستاویزات کی فراہمی کے بعد اب اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کا پراسیس شروع کیا جا رہا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کا طریقہ کار ایوان میں پڑھ کر سنایا جس کے مطابق آج یعنی 13 جنوری کو اپوزیشن کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جائیں گے، جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے دستخطوں کی تصدیق کے لیے اپوزیشن اراکین کو کل طلب کرلیا جس کے بعد 14 جنوری شام 3 بجے اراکین کی گنتی عمل میں لائی جائے گی۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی تقرری کا عمل جلد مکمل ہو جائے گا اور بدھ کے روز قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی تقرری کر دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے اسپیکر ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی سے متعلق کیا رولنگ دی؟
یاد رہے کہ محمود خان اچکزئی قلعہ عبداللہ چمن سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 266 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ وہ پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ ہیں اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ بھی ہیں، جبکہ پی ٹی آئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تمام تر اختیارات بھی محمود خان اچکزئی کو دے رکھے ہیں۔
دلچسپ امر ہے کہ ماضی میں عمران خان اور محمود خان اچکزئی کے درمیان لفظی جنگ کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ عمران خان جلسوں میں محمود خان اچکزئی کی نقل اتارا کرتے تھے۔














