کراچی کی مشہور عمارت گل پلازہ میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے، جس کے بعد ریسکیو اہلکار عمارت کے اندر سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
آگ بجھنے کے بعد سے اب تک ایک بچے سمیت 3 انسانی اعضا نکال لیے گئے ہیں جبکہ حکام کے مطابق 60 کے قریب افراد اندر موجود ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سانحہ گل پلازہ : 35 گھنٹوں بعد آگ پر قابو پالیا گیا، جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 14ہوگئی، درجنوں لاپتا
اندر پھنسے افراد کے لواحقین گل پلازہ کے باہر اس امید سے موجود ہیں کہ شاید ان کے پیارے زندہ ہوں، جو لوگ باہر اپنے اپنے پیاروں کا انتظار کر رہے ہیں انکی نظریں گل پلازہ کی کھڑکیوں پر مرکوز ہیں، رات گئے ریسکیو آپریشن کے دوران محسوس ہوا کہ اندر سے کسی نے ٹارچ کی روشنی سے مدد مانگنے کے لیے اشارہ دیا ہے۔
وہاں موجود افراد نے ریسکیو اہلکاروں کو بتایا کہ ایک کھڑکی سے ٹارچ کی روشنی دیکھی گئی ہے جس کے بعد سنارکل کی مدد سے ریسکیو اہلکار اس کھڑکی کی جانب گئے جہاں سے اشارہ ملنے کا بتایا گیا تھا۔
ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے اندر موجود افراد کے لیے آوازیں دی گئی کہ کوئی اندر ہے تو وہ ساتھ والی کھڑکی پر پہنچنے کی کوشش کرے، جس کھڑکی سے روشنی آنے کا دعوی کیا گیا وہاں سے ریسکیو حکام کو کوئی شخص نہیں ملا اور ریسکیو اہلکار نے نیچے موجود افراد کو ہاتھوں کے اشاروں سے کہا کہ اندر کوئی نہیں ہے اس پر شہریوں نے کہا کہ ٹھیک سے دیکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: گل پلازہ آتشزدگی سانحہ: تاجروں کے الائنس نے کل یوم سوگ منانے کا اعلان کردیا
ایک امید پیدا ہونے کے بعد دوبارہ دم توڑ چکی تھی لیکن اب بھی یہی امید ہے کہ شاید کوئی ایسا معجزہ ہو جائے کہ اندر موجود افراد میں سے کوئی زندہ ہو، ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے سرچ آپریشن جاری ہے اندر موجود افراد کے لواحقین کو امید ہے کہ کوئی معجزہ ضرور ہوگا۔
جلی عمارت سے مزید لاشیں اور انسانی اعضا برآمد
ریسکیو حکام کے مطابق آگ بجھنے کے بعد جلی ہوئی عمارت سے مزید 4 افراد کی لاشیں نکالی گئیں، جبکہ ایک بچے سمیت 3 افراد کے انسانی اعضا بھی ملے ہیں، جنہیں سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔
Today’s fire at Gul Plaza in Karachi has once again starkly revealed the bitter truth that this city is not plagued by accidents, but by persistent neglect. Flames soared high, fear spread, the earnings of hard labor turned to ashes in 1 night. 🇵🇰🔥💔🥺#GulPlazaFire #GulPlaza pic.twitter.com/QfvO5NHLAZ
— Dr Naina Niazi 🧚♀️ (@nainaaniiazi) January 18, 2026
چیف فائر آفیسر کے مطابق پلازہ میں کولنگ کا عمل جاری ہے، کٹر کی مدد سے کھڑکیاں کاٹی جا رہی ہیں اور ہتھوڑوں کے ذریعے دیواریں گرائی جا رہی ہیں تاکہ ممکنہ طور پر پھنسے افراد تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
لاپتہ افراد کی تلاش، تھرمل کیمروں اور موبائل لوکیشنز کا استعمال
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ سے موبائل نمبرز حاصل کر لیے گئے ہیں اور 20 سے زائد موبائل فونز کی آخری لوکیشن گل پلازہ ہی ظاہر ہو رہی ہے۔ جائے حادثہ پر تھرمل کیمرے بھی نصب کیے گئے، جبکہ ریسکیو ورکرز نے جلی ہوئی دکانوں میں صدائیں لگا لگا کر زندگی کے آثار تلاش کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی جواب نہ مل سکا۔
فائر فائٹرز 24 گھنٹے بعد عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب
عمارت کے مخدوش ہونے کے باعث ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل رہا۔ فائر فائٹرز 24 گھنٹے بعد اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے، جہاں محدود پیمانے پر سرچ آپریشن کیا گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق آگ ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، جو تیزی سے گراؤنڈ اور فرسٹ فلور تک پھیل گئی۔ شدید دھویں کے باعث متعدد افراد بے ہوش ہو گئے تھے۔
عمارت انتہائی مخدوش، گرنے کا خدشہ برقرار
ریسکیو 1122 کے چیف آپریٹنگ آفیسر عابد جلال کے مطابق متاثرہ عمارت انتہائی پرانی ہے اور آگ کے باعث اس کے پلرز کمزور ہو چکے ہیں۔ عمارت کے 2 حصے منہدم ہو چکے ہیں جبکہ مزید گرنے کا خدشہ بھی موجود ہے، اسی وجہ سے مکمل سرچ آپریشن میں احتیاط برتی جا رہی ہے۔ ریسکیو اور فائر بریگیڈ کے 150 سے زائد اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف رہے۔
میئر کراچی کا مؤقف: فائر بریگیڈ وقت پر پہنچی
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے گل پلازہ کا دوبارہ دورہ کرتے ہوئے کہا کہ ہفتے کی رات 10 بجکر 27 منٹ پر آگ لگنے کی کال موصول ہوئی اور 15 منٹ میں فائر بریگیڈ موقع پر پہنچ گئی، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ فائر بریگیڈ تاخیر سے پہنچی۔

انہوں نے بتایا کہ رش کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات پیش آئیں، جبکہ عمارت کے پچھلے حصے سے بھی ریسکیو آپریشن کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کولنگ کا عمل کب مکمل ہوگا، اس بارے میں حتمی وقت نہیں دیا جا سکتا۔
عوامی احتجاج اور حکام کا ردعمل
جائے وقوعہ پر میئر کراچی کی آمد کے موقع پر متاثرین اور شہریوں نے میئر کراچی کے خلاف نعرے بازی کی۔ مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ عوام جذباتی ہیں اور وہ ان کے دکھ کو سمجھتے ہیں، تنقید ان کا حق ہے۔
گورنر سندھ کا بیان: لاپتہ افراد کا معاملہ بڑا المیہ
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے سانحے کو بڑا المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 70 سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی نہیں چاہتا کہ آگ لگے یا کسی کا کاروبار تباہ ہو، اصل ضرورت آگ لگنے کی وجوہات جاننے کی ہے۔
Mayor Karachi Murtaza Wahab engages in dialogue with a citizen over Gul Plaza fire incident.
Full video: https://t.co/JsMSXGbSgj#GulPlazaFire #Karachi #TOKReports pic.twitter.com/mEYXOrkgMZ
— Times of Karachi (@TOKCityOfLights) January 18, 2026
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ نقصان کے ازالے تک متاثرین کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور معاوضے کے لیے سندھ اور وفاقی حکومت سے بات کریں گے۔
اربوں روپے کا نقصان، آج سوگ میں مارکیٹیں بند
صدر الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن رضوان عرفان نے سانحہ گل پلازہ پر دکانداروں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے آج سوگ کے طور پر مارکیٹیں بند رکھنے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے اور کئی دکاندار اور ان کے ورکرز عمارت میں موجود تھے۔
ہیلپ لائن قائم، عوام سے تعاون کی اپیل
ضلعی انتظامیہ نے عوام کی سہولت کے لیے ہیلپ لائن قائم کر دی ہے۔ ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کے مطابق گمشدہ افراد یا معلومات کے لیے 0313-5048048، 021-99206372 اور 021-99205625 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔













